شعور کیا ہے؟

شعور کے بارے نئی تحقیق

image

انالحق:  ویسے تو کائنات میں موجود ہر موضوع ہی توجہ طلب اور تجسس کا حامل ہے لیکن شعور ایک ایسا سائنسی،فلسفیانہ پہلو رکھنے والا موضوع ہے جس کا مطالعہ کرنے سے قبل اس کے بارے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا دقیق ہو گا۔
شعور پر فلسفیوں، سائنسدانوں ، مفکروں نے بہت بحث کی مختلف نظریات، افکار اور مفروضے اس کے بارے قائم کیے لیکن اس کے باوجود اس کی ختمی وسعت کو نہ پہنچ سکے۔ ابھی تک شعور کی حقیقت تک نا ہی فلسفہ پہنچ پایا ہے نہ سائنس بلکہ جستجو جاری ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی دماغ کی پیچیدگی ہے ۔
شعور کے بارے نظریات میں ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب کلاسیکی طبعیات کا خاتمہ ہوا اور کوانٹم مکینیکس نے اپنے قدم جمائے۔ ویسے تو کلاسیکی طبعیات سے قبل بھی شعور کو ماورائے فطرت تصور کیا جاتا تھالیکن کوانٹم مکینیکس کے آنے کے ساتھ ہی اس امر میں نئی تحقیق کا آغاز شروع ہوا ۔
اب جیسا کہ اہل علم اور طبعیات کو سمجھنے والے یہ جانتے ہیں کہ یہ سائنس کی ایک ایسی شاخ ہے جو توانائی اور مادہ کا آپس میں تعلق پیدا کرتی ہے۔ تمام نظر آنے والی کائنات کا وجود مادی ہے اور اس میں حرکت توانائیوں کی بدولت ہے۔ اب مادہ کی طبیعی عوامل کا مطالعہ طبعیات ہے۔
اسی طرح مادی اجسام میں حرکت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونی والی تبدیلی کو طبعیات میں آلاتیات کے زیر تحت سمجھا جاتا ہے۔ آلاتیات( میکینکس) کی بنیاد پر طبعیات دو شاخوں میں منقسم ہے۔
اب جیسے ہی جوہری اور زیر جوہری ذرات کی حرکت کا مسئلہ پیدا ہوا تو طبعیات میں کوانٹم مکینکس سے اس کو حل کرنے کی کوشش کی گئی کچھ ایسے مسائل جن کا حل اس سے بھی ممکن نہیں تھا اس کے لیے کوانٹم فیلڈ تھیوری پیش کی گئی۔

image

شعور کے بارے دو مکتب فکر

یہ کچھ تعارفی بحث اس لیے ضروری تھی تا کہ قارئین شعور کے بارے نئی تحقیق کو سمجھ سکیں جو کوانٹم مکینکس سے پیدا ہوئی۔
اب شعور یا کانشیسنیس کے بارے دو مکتب فکر پائے جاتے ہیں۔

• اول یہ مانتے ہیں کہ شعور کا کوانٹم مکینکس سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ جسمانی و دماغی یعنی مادی نامیاتی ارتقاء کی بدولت پیدا ہوا۔

• دوسروں کہ خیال میں ہمارا شعور کوانٹم لیول پر متاثر ہوتا ہے اور اس پر کوانٹم انٹنگلمنٹ اور سوپر پوزیشن جیسے سائنسی نظریات کا اثر ہوتا ہے۔

ان دونوں نظریات سے انسانی اختیارو ارادہ یاں فری وِل کے بارے نئی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پہلا گروہ یہ دعوہ کرتا ہے کہ کیونکہ انسان اختیارو ارادہ میں آزاد ہے اس لیے ممکن نہیں کہ کوانٹم سطح پر اس کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہو یا ایٹم جب مل کر جسم بناتے ہیں یا اعضاء , جیسے دماغ تو ان کو تاثر کوانٹم لیول سے مختلف ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ثانی گروہ یہ دعوہ کرتا ہے کہ ہماری زندگی کسی مافوق الفطرت ہستی سے جڑی ہے اور وہ ہمیں کنٹرول کرتا ہے کیونکہ کوانٹم لیول پر ہمارے زیری جوہری ذرات کائنات میں کسی اور اپنی جیسے زیری جوہری ذرات سے انٹنگل ہیں۔ اسی طرح پہلا گروہ ان کے اس دعو ہ کا رد کرتا ہے۔ اور ان کا یہ خیال ہے کہ یہ مذہب والوں نے انسان کو کسی طرح پھندے میں ڈالنے کے لیے بنایا ہے۔

شعور ذہن کی پیداوار یا دماغ کی؟
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی دماغ مادی وجود ہے اور یہ نیورانز سے مل کر بنا ہوا ایک مجموعہ ہے جس میں نیورانز یا عصبون اپنا کام سر انجام دیتی ہیں اور عقل وشعور پیدا ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم شعور فقط انسان تک محدود سمجھتے ہیں؟
جانوروں میں پایا جانے والا ماحول کا احساس شعوری نہیں ہے؟
اگر شعور کائنات کے ہر ذرہ میں پنہاں ہے تو پھر انسانی ارتقائی شعور اور کائناتی شعور میں فرق ہے؟
اسی طرح انسانی ذہن مادی ہے اور جوہری سطح پر زیر جوہری ذرات سے مل کر بنا ہے تو کیا زیری جوہری ذرات کائنات کی فورسز سے متاثر ہوتے ہیں؟
اسی طرح ایک بہت اہم عنصر یہ ہے کہ جس طرح بڑے اجسام کی حرکت کے قوانین زیری جوہری ذرات پر اطلاق نہیں ہوتے یاں ہر جہت اور ہر درجہ پر کائنات مختلف ہے تو پھر نیورانز اور جن سے وہ نیورانز بنی ہیں یعنی کوانٹم ذرات کیسے ایک کے کام میں دوسرا دخل دے سکتا ہے۔ اس فکر سے پہلا گروہ جو ارتقاء پر یقین رکھتا ہے درست ثابت ہو جاتا ہے۔
اب اگر ذہن اور مغز( مادہ) کو مختلف سمجھا جائے تو
یہاں سب سے پہلے سوال پیدا ہوتا ہے کہ شعور کو جنم کون سی چیز دیتی ہے؟
مادہ یاں ذہن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا ذہن مادہ یعنی مغز ( نیورانز) کے باہمی اشتراک سے پیدا ہوتا ہے؟

سید فواد بخاری: کسی اختیار کیلیے یہ لازم ھوتا ھے کہ وہ اختیاری شہ ناقابل تقسیم ھو۔ کیونکہ اگر کوئی شے تقسیم ھو سکے تو وہ ، وہ شے اپنے کُل میں کسی حقیقت میں رہ ہی نہیں پاتی بلکہ اپنے تقسیم کیئے گئے جزویات کی ڈائینیمکس کا ایک نتیجہ ھوتی ھے۔ کہ جس میں اگر کوئی اختیار، اگر فرض بھی کیا جائے، تو ان جزویات کا ہی کہلائے گا۔ اور ایسے میں اس کُل کا اختیار نہیں رھے گا کہ بلکہ کُل کا نظر آتا اختیار دراصل جزویات کے اختیارات کا ایک ڈائینمیک نتیجہ ھو گا۔۔

لہذااگر کوانٹم لیویل پہ پرابیبیلیٹی کے ماڈلز (کہ جو پھر سینٹر لیمیٹ تھیورم کے مطابق کسی جبری و ڈٹڑمینیسٹیک شے کا مشاہدہ ھوتے ہیں) اگر امکانات کی بات کر بھی دی جائے تب بھی انسانی اختیار ختم ھو جاتا ھے کیونکہ پھر انسان اپنی ذات میں کچھ نہیں،

بلکہ کھربوں زرات کے فیصلہ کی ڈائینیمیکس کا نتیجہ بن کر ابھرتا ھے۔ لہذا کوانٹم میکانیکس ایک طبیعاتی مشاہدہ ھے کہ جو کسی اصول کا ایک کنسیسٹینٹ نتیجہ ھوتا ھے۔ اور کسی بھی کنسیسٹینٹ نتیجہ کو اختیاری نہیں کہا جا سکتا۔
اور اگر یہ بھی مان لیا جائے، بلکہ اسکو بھی چھوڑ دیں۔ کوانٹم ذرات سے آگے، ایٹم اختیار فرض کر لیں، اور ان سے آگے عناصر کا اختیار فرض کر لیں، اور ان سے آگے کمپاؤنڈز کا اختیار فرض کر لیں، سیل کا کر لیں، کرتے کرتے نیورونز کا کر لیں، اور یہاں تک پہنچ جایئں کہ دماغ کے دو حصوں تک پہنچ جایئں، مگر پھر بھی انسان کا اختیار ثابت نہیں رھے گا، کیونکہ اس موقع پر بھی انسان دراصل اپنے دو اختیاری جزویات (یعنی دماغ کے ان دو حصوں) کے اختیار کا نتیجہ بن کر ابھرے گا۔

لہذا انسان طبیعات کی بنیاد میں زروں کا کسی پرابیلیٹی کے ماڈلز سے امکان کی تشریحات کو کسی ایک شئے کے اختیار کیلئے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ پھر دوبارہ انسانی اختیار کی ہی نفی ھوتی ھے۔ کیونکہ انسان پھر اپنا وجود کھو دیتا ھے، اپنا اختیار کھو دیتا ھے، کیونکہ اختیار تو اسکے جزویات کا ھوتا ھے۔

انسانی اختیار کا مقدمہ لڑنے کیلیے ایک ناقابل تقسیم مابعد اطبیعاتی اختیاری وجود کا اثبات کرنا ھو گا، کہ جو اس طبیعاتی دنیا میں آکر طبیعات کے برخلاف جانے کی بھی صلاحیت رکھے۔ یعنی کہ اگر انسان اپنے اختیار سے  سوچ سکنے کا دعوی کر سکے کہ جو اسکا دماغ نہیں سوچ رھا تو بات ھو سکتی ھے۔ مگر اگر انسان اپنے دماغ کی ڈائینمیکس کے برخلاف نہیں جا پاتا تو ایسے میں کسی طبیعاتی دنیا کے کنسیسٹینٹ مشاہدے میں اختیار کا کوئی مشاہدہ نہیں ھو سکے گا۔ جبکہ جبر کے مشاہدات لگاتار کنسیسٹینسی سے پیش کیئے جاتے رھے ہیں اور رہیں گے۔ لہذا اختیار، صرف اور صرف، ایک ایسے مابعد اطبیعاتی قضا کے طور پیش کیا جا سکتا ھے کہ جسکا ایک جبری و کنسیسٹینٹ نتیجہ یہ طبیعاتی دنیا ھے۔ یعنی کہ کثرت سے وحدت کا سفر کر کہ ہی جبر و اختیار کو ایک ضم کیا جا سکتا ھے اور تبھی ہی کسی اختیار کا اثبات ممکن ھو گا۔

انسانی اختیار وجودیت میں پنہاں ھے کہ جو مابعد اطبیعاتی ھے، اور مابعدالطبیعات اور علم ریاضی سے جب استفادہ کیا جائے تو پتہ چلتا ھے، کہ وجودیت کو کسی وحدت میں ہی ڈھونڈھنا پڑے گا

جہاں تک طبیعات کی دنیا کا شعوری تعلق ھے تو اس مد میں کہوں گا کہ : انسانی دماغ کا کے تقریبا سو بیلین نیورونز کا ایک کیملیکس کنیکشن اس آرگینیک نان لینیئر ڈائینیمیک سسٹم کو شعور کا احساس دیتا ھے۔ اور وہ ایک ڈائینیمیک صورتحال سے گزرتا ھے کہ جسے وہ شعور اور اختیار کا نام دیتا ھے۔ مگر اسی طرح کے کنیکشن اگر کسی اور بھی ڈائینیمیک سیٹم میں ھوں، جیسے ایک آرٹیفیشل نیورل نیٹورک پہ مبنی روبوٹ یا انٹرنیٹ، تو وہ بھی شعور رکھ سکے گی

دیکھیے حوالہ نمبر ۱ ۔ وہ “چیز” کے جسے انسانی سوچ کہا جاتا ھے، اور یاداشت کہا جاتا ھے، اُسکی ڈیویلپمینٹ ارتقاء سب ایک ڈٹرمینڈ طریقے سے، فزکس کے قوانین کے مطابق ھوتی ھے۔

ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن میں ایک ایکسپیریمنٹ میں انسانی شعور کے فیصلے سے کم از کم چھ سیکنڈ پہلے سائنسدان اس پوزیشن میں تھے کہ وہ بتا سکیں کہ دوسرا انسان کب اپنا کون سا ھاتھ اٹھائے گا۔ یعنی کہ سائنسدان یہ پریڈیکٹ کر رہے تھے انسانی دماغ کے سیگنلز کو دیکھتے ھوئے کہ انسان اب کیا کرنے لگا ھے، اور وہ بھی اُس وقت کہ جب اُس انسان کو خود بھی نہیں پتہ

دیکھیے حوالہ نمبر ۲، اس وڈیو کے مطابق تقریبا پینتالیس منٹ کے بعد یہ تجربہ دکھایا گیا ھے

۔ اسکے علاوہ، آرٹیفیشل انٹیلیجینس، نان لینیر ڈائینیمیک سیسٹمز، انسای دماغ ، انسانی جذبات، معاشرہ ایک بہت بڑے ڈائینیمیک سیسٹم کا حصہ ھے

دیکھیے حوالہ جات نمبر ۳
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٤
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٥
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٦
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٧
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٨
دیکھیے حوالہ جات نمبر ٩
دیکھیے حوالہ جات نمبر ١٠

ان تمام لنکس کو خاص طور پہ دیکھئیے

ان ڈائینیمیک سسٹمز میں ہر انسان پھر اپنے وجود میں ایک آٹونومس نان لینیر ڈائینیمیک اینٹیٹی ھے۔ اور یہ جدید دور کے وہ علوم کہ جو پہلے صرف انجینئرنگ میں ھوتے تھے جب علم ریاضی اور فلسفے سے مرج ھو رہے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ھو رہی ھے ۔

انسان کا ایک آرگن ھے دماغ، جو کہ، خلیاتی بنیادوں پہ بلکل باقی آرگنز کیطرح ھے مگر، فنکشن کے حساب سے بڑا منفرد ہے

یہ الیکٹرک سگنل نا صرف ریسیو کرتا ھے بلکہ باھر بھی نکالتا ھے۔

فرض کریں آنکھ کچھ دیکھتی ھے تو وہ فوٹونز آٹک نرو پہ پڑتے ھیں اور اس نرو کا ھر سیل ایک الیکٹرک سگنل باہر نکالتا ھے۔
یہ تمام سگنل پھر دماغ کے بنیادی خلیے، یعنی، نیورون کیطرف جاتے ھیں۔ سگنل ڈنڈرایٹس پر پڑتے ھیں اور سیل باڈی ،جیسے سوما بھی کہتے ھیں، وہاں پہ، جیسی سیل کی ساخت ھوتی ھے،اسکے مطابق آگے جاتے ھیں ۔ اور پھر ایکزون سے ھوتے ھوئے سیناپسیس کے ذریعے باہر چلے جاتے ھیں۔

ایک دماغ میں ایک سو بلین نیورونز ھوتے ھیں۔

یہ نیورون سگنل لیتے ھیں اور پروسیس کر کے (جو کی سیل کی صلاحیت پہ منحصر ھوتی ھے پیدائش کے وقت) آگے دیتے ھیں۔
مگر بقاء کے نظام کو گزر کہ آنے والے نیورون سیل مختلف انپُٹ، اور آوٹ پُٹ (زندگی کے تجربے) سے نیورل نیٹ ورک کی ٹیونینگ کرتے ھے۔
الیکٹرک سگنل کے ٹرگر ھونے سے نیے کنکشن بنتے ھیں اور وہ خلیات کا ایک کمپلیکس جُسہ (انسان، یا ایک گروپ آف پارٹیکلز) اس پوزیشن میں آ جاتے ھیں کے اپنے خلیات کو ڈائینیمک رکھ سکیں اور ایسا خلیات نا ھونے دیئں جس سے یہ سلسہ بند ھو۔

(جو کچھ انسان کے لیے نقصان دہ ھے، وہ تکلیف محسوس ھونا ھے اور انسان پھر تکلیف سے بچنے کا طریقہ سیکھ لیتا ھے )

تمام نیورون کے کام کرنے کا تقریبا ایک ھی طریقہ ھے، جو کے ایک قانون کو فولو کرتا ھے۔ سائینسدان اسی قانون کو استعمال کر کے آرٹیفیشل نیورونز بناتے ھیں۔ دیکھیے نیورون اور اس کا جنرل میتھمیٹیکل ماڈل کی تصویر.

                  جنرل میتھمیٹیکل ماڈل

image

اس ماڈل کے علاوہ جب انسان کی یاداشت جو کے پھر انسانی دماغ کا ایک اہم جزو ھے، اُسکے تحت ایک اور ماڈل بھی کام کرتا ھے۔ دیکھیے دوسری طرح کے میتھمیٹیکل ماڈل۔

یعنی کہ انسانی دماغ یا تو اسطرح کام کرتا ھے کہ إنپُٹ سگنل لیکر نیورونز کے سوما تک پہنچائے اور پھر سیل کی ساخت کے مطابق آگے سگنل دے

یا

وہ پروٹینز کی فارم میں کسی انفارمیشن کو سٹور کرے اور اور انفارمیشن کے یا ڈیٹا کے پھیلاؤ اور اُسکی اوسط کو پروٹین کی فارم میں محفوظ کرے اور بوقت ضرورت نئے مشاہدے کی روشنی میں یہ طے کرے کہ آیا نیا مشاہدے کا پھیلاؤ یا اوسط کسی پروٹین کے سٹرکچر میں محفوظ شدہ انفارمیشن کے پھیلاؤ اور اوسط سے ملتی ھے، اگر ہاں تو اس محفوظ شدہ انفارمیشن کے کوسیسپونڈینگ ماڈل کو ٹریگر کر دے۔ یعنی الیکٹروکیمیکل سگنل اُن سیٹ آف نیورونز کو بھیجھ دے کہ جو اُس محفوظ شدہ انفامرمیشن کے کوریسپونڈینگ ماڈل کو ڈپیکٹ کرے۔

اور اگر نیا مشاہدہ کے کوریسپونڈینگ کوئی بھی ماڈل نہیں ھے تو کچھ نیورونز کی ٹیونینگ کرے اور نیا ماڈل تنکیل دے۔ نئے ماڈل تشکیل دینے سے مراد ھے کے سیل کی ساحت یعنی آسکی نیوروٹرانسمیٹر بھیجھنے کی صلاحیت یا مقدار کو بدلے کہ بل آخر ایسا سیگنل جینریٹ ھو کہ جو صحیح ھو۔

مثال کے طور پہ ایک نان لینیر سیسٹم کو لیجئے۔ یعنی ایک ایسا سیسٹم ھو کہ جسکا طرز عمل سیدھا نا ھو، یعنی سیدھی لکیر نا ھو بلکہ بدلتا رھے۔ مثال کے طور پہ دیکھئے یہ تصویر

اب اس تصویر کے سب سے پہلے حصے کو دیکھیئے ، وہ ایک سیدھی لکیر نہیں۔ مگر دوسرے حصے کو دیکھیئے، وھاں اس نان لینیر لکیر کو پانچ لینیر لکیروں یا سیدھی لکیروں میں بانٹ دیا گیا ھے۔ اور ہر لکیر کو ایک ریجن سے ریسٹریکٹ کیا گیا ھے۔ اور وہ ریجن ورٹیکل لائینز سے نظر آرھا ھے۔

image

ہر سیدھی لکیر اپنے ریجن کے باہر ویلڈ نہیں ھے۔ کیونکہ اگر اُس سیدھی لکیر کے تحت بنے ھوئے ماڈل کو اگر ریجن سے باہر استعمال کریں گے تو جواب غلط آئے گا۔

مثال کے طور پہ، مسٹر ایکس سے اگر ۳ ہزار روپے مانگے تو وہ دے دے گا مگر اگر اُس سے ذیادہ مانگیں تو وہ نہیں دے گا۔ مگر اگر کسی کا تجربہ تین ہزار سے زیادہ مانگنے کا نہین ھوا ھو گا، تو اُسکے پاس ایک ہی لینیر ماڈل ھو گا، اور وہ یہی سوچے گا کہ چار ہزار مانگوں گا تو وہ بھی مل جائے گا۔ مگر جب وہ مانگے گا تو اُسے پتہ چلے گا کہ ماڈل غلط ھے لہذا ریماڈلنگ ھو گی۔

تصویر کے آخری حصے میں ایک آپ کو پانچ پہاڑی نما لکیریں نظر آرہی ہیں، کہ جنھیں گاوژئین فنکشن کہتے ہیں۔ ایک گاوژئین فنکشن دراصل ایک ڈیٹا کی اوسط اور پھیلاؤ (کے جسے سٹینڈرڈ ڈیوئیشن بھی کہتے ہیں) اُسکو ظاہر کر رھا ھوتا ھے، اور جہاں پہ ڈیٹا اوسط کے قریب ھوتا ھے وھاں ون کی ویلیو دیتا ھے، جہاں ڈیٹا ایک خاص گاوژئین فنکشن کے پھیلاو کی مناسبت سے اوسط سے دور ھوتا ھے، وھاں ویلیو کو صفر دیتا ھے۔ اب جب ان گاوژئین فنکشن کو کوریسپونڈینگ ماڈلز سے ملایا جائے(ضرب دی جائے) تو لینیر مشاہدوں کو استعمال کر کے اور پروٹین کے سٹرکچر میں موجود یاداشت کو استعمال کر کے ایک نیورونز کا سیٹ ٹریگر ھوتا ھے۔ اور یہی انسانی تجربے اور پھر اُس تجربے کی بنیاد پہ موجود وہ ڈائینیمیک بیہویئر ھے کے جسے ہم انسانی رویہ کہتے ہیں۔

یہ بنیادی میتھمیٹیکل ماڈل بھی ، کمپیوٹر کی قابلیت پہ ھے، بیلینز کی تعداد میں استمال ھو سکتے ھیں انجینئرنگ میں۔ مگر ابھی کمپیوٹر اتنے تیز نہیں ھوے۔ مگر آنے والی دھائی میں انسان ایسا کمپیوٹر بنا لے گا۔

دیکھیے ،ایک جنرل ریپریزنٹیشن، ایک آرٹیفیشل نیورل نیٹ ورک کی جو میں نے اپنے ایک جریدے کی لیے ڈرا کی۔

image

اب اگر میں کمپیوٹر میں سو بیلین آرٹیفیشل نیورونز بناؤں اور اُن نیورونز کو بھی انسانی عمر کی طرح دہائی کا تجربہ (یعنی ان پُٹ, آوٹ پُٹ ڈیٹا دوں) اور نیورونز کی ایکٹیویٹی کروانے کا موقع دوں تو اُسکا بھی ایک شعور بن جائے گا۔ دیکھئے ایک حوالہ

ھماری سوچ ھمارا شعور پورے نیورل نیٹورک کے انٹر کنکشن کا نام ھے، جو ھمیں ھر وقت اپنے آپ سے اگاہ رکھتا ھے۔ اور جب ھم سو رھے ھوتے ھیں تو یہ انٹرکنکشن ٹوٹ جاتا ھے۔ اور دماغ کی لوکل انفارمیشن لوکل رھتی ھے، اور وہی ھماری نیند کی کیفیت ھوتی ھے۔

ھماری دنیا و کائنات کھربوں ، کھربوں کھربوں۔۔۔ ذروں پہ مشتمل ایک بہت بڑا نان لینیر ڈائینیمک سیسٹم ھے۔

کیا آپ سوچ سکتے ھیں کہ آپ کی زندگی میں سے،کیسی ایک بندے جو آپکی ذندگی میں آیا ھو، نکال دیا جاے اور پھر بھی آپک یہ دعوہ کریں کہ میری شخصیت وہھی ھوتی جو اسکی موجودگی سے تھی۔ جی نہیں۔ کیونکہ وہ شحص بھی ایک گروپ آف پارٹیکل تھا جسنے آپکے گروپ آف پارٹیکلز سے انٹرایکٹ کیا اور دونوں کی ڈائینمیکس بدل گئی۔

اسکے علاوہ میں آپکی خدمت میں ایک اور کافی تفصیلی لسٹ پیش کر سکتا ھوں، کہ جو اس شعور کے ڈٹرمینیسٹیک ھونے کے مشاہدات پیش کر سکتی ھے، کہ جسکے تحت ہی اپنے وجود کو اتنا محسوس کیا جاتا ھے کہ یہ تمام بحث ھو سکیں۔

میں نے ایک ادنی سی کوشش کی ھے کہ اپنا مقدمہ پیش کر سکوں: یعنی کہ اختیار ھونے کیلیے کیا شرائط ہیں (میرا پہلا کومینٹ) اور وہ شرائط اگر جبر کے ساتھ چلیں تو کیسے چل سکیں (پہلے ہی کومینٹ) اور طبیعات کی دنیا میں موجود جبریت کے مشاہدوں کی تفصیلی بات کو اپنی ایک ادنی کوشش میں پیش کیا ھے۔.!!

بشکریہ سید فواد بخاری اور انالحق

یہ تحریر اناالحق کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے
یہ موضوع انالحق نے بحث و مباحثہ کے لئے پیش کیا، جس میں سید فواد بخاری صاحب نے مشاہدات و تجربات سے تحقیق کی روشنی میں معلومات فراہم کی..!!

Advertisements