جانوروں کی حیرت انگیز حسیات

جانوروں کی حیرت انگیز حسیات

image

مشہور فلسفی ارسطو وہ پہلا شخص تها جس نے انسان کی پانچ حسیں تفویض کی جو کہ روایتی طور پہ دیکهنے، سننے، چهونے، ذائقے اور سونگهنے کی حس پر مشتمل ہیں.
انسان کی بہت سی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دنیا میں موجود دیگر جانوروں کا موازنہ اپنے ساتھ کرنا نہیں چاہتا اور خود سے ہی ہم کلام ہو کے بتاتا ہے کہ وہ تمام دیگر مخلوقات سے برتر ہے.  جدید دور کے مشاہدات و مطالعہ اور تحقیق انسان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے کافی ہے کہ دیگر جانور، انسان سے کہیں زیادہ اضافی اور طاقتور خوبیوں کے حامل ہیں.  اگر ارسطو انسانوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی حسیات کی بهی درجہ بندی کرتا تو فہرست یقیناً طویل ہوتی.

زمین پر بسنے والے چند جانور حیران کن اضافی ادراکی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں. یہ ایسی صلاحیتیں جو انہیں دنیا میں زندگی گزارنے کے وہ تجربات مہیا کرتی ہیں جس کا ہم انسان بمشکل تصور ہی کر سکتے ہیں.

مکڑیاں Spiders

image

تمام مکڑیوں میں ایک منفرد میکنوریسپٹری آرگن ہوتا ہے جسے سلٹ سینسیلا کہا جاتا ہے، جو کہ ان مکڑیوں کو اپنے جسم پہ منٹ مکینکل دباؤ اور کشش کو محسوس کرنے میں مدد دیتی ہے.
یہ حس مکڑیوں کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ اس کے جال میں پهنسے شکار کا سائز، وزن، اور شکار شدہ مخلوق کی ممکنہ ہیئت کیسی ہو سکتی ہے.
اسی حس کی بدولت انہیں حشرات کی نقل و حرکت اور ہوا کی نقل و حرکت یا کسی گهاس کے تنکے کا جال میں آ کر پهنسنے کے درمیان فرق کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے مکڑی کو یہ علم ہو جاتا ہے کہ شکار پر کب حملہ کرنا ہے.

کومب جیلی Comb Jelly Fish

image

بحر اوقیانوس کی یہ شاندار چپچپاہٹ والی مخلوق میں ( Statocysts ) سٹیٹوسسٹس نامی حس ہوتی ہے، جس  سے انہیں سمندری برقی رو پر پر توازن برقرار رکھنے میں مہارت حاصل ہوتی ہے.
کومب جیلی فش میں مرکزی اعصابی نظام نہیں ہوتا ہے اس لئے اس کی مربوط نقل و حرکت اور نظام انہضام کا تمام انحصار اسی خاص حس پر ہوتا ہے.

Pit vipers پٹ وائپرز سانپ

image

زہریلے سانپوں کے خاندان میں سے پٹ وائپرز نسل کو پہچاننا بہت آسان ہے اور وہ ہے اس کے نتھنوں اور آنکھ کے درمیان موجود دو گہرے گڑهے. یہ گڑهے دراصل گرمی کو محسوس کرنے کے ایسے اعضاء ہیں جس سے پٹ وائپرز سانپ کو انفراریڈ نظر سے دیکهنے کا موقعہ ملتا ہے. یہ ایک ایسے شکاری کے لئے جو رات میں شکار کرتا ہو ایک بہترین حس ہے.
یہ حس بہت زیادہ حساس ہے جس سے پٹ وائپرز کو بلکل درست طریقے سے شکار کا حجم اور فاصلہ معلوم کرنے کے لئے دن اور رات کے وقت بهی یکساں طور مدد ملتی ہے. یہ حس رات کی اس تاریکی میں بهی بلکل صحیح معلومات فراہم کرتی ہے جب پٹ وائپرز سانپ کی دوسری حسیات قابلِ عمل نہیں رہتیں. 

کبوتر Pigeons

image

کبوتر اور ایسے پرندے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہجرت کرتے رہتے ہیں ان میں کمپاس کی طرح زمین کے مقناطیسی میدان کے ذریعے طویل ترین فاصلوں پہ راستے کا پتہ لگانے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے.
اس حس کو مقناطیسی ریسپشن کہا جاتا ہے اور چند پرندے ایسے بهی ہیں جو اس حس کا جنگلی یا پالتو کبوتر سے زیادہ شاندار مظاہرہ کرتے ہیں.
کبوتر کی چونچ میں لوہے کے اجزاء پر مشتمل ایک پیچیدہ سہہ جہتی پیٹرن پایا جاتا ہے. جس سے انہیں ان کی جغرافیائی پوزیشن کی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے، اس لئے پالتو کبوتر میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ انہیں گهر سے دور چهوڑنے پر بهی گهر کا راستہ ڈهونڈنے میں مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے اور انہیں اپنے مقامی علاقائی واقفیت کا بخوبی احساس ہوتا ہے.

ڈولفن  Dolphins

image

یہ کرشماتی سمندری میمل جاندار جس کے پاس انعکاس صدا (echolocation) کی ناقابلِ یقین چهٹی حس ہے
کیونکہ آواز ہوا سے زیادہ پانی میں بہتر طریقے سے سفر کرتی ہے. ڈالفن سونار آلے (Sonar device) کی طرح اپنے اطراف میں ایک سہہ جہتی بصری تصاویر بهیجتی ہے جو کہ صرف آواز کی لہروں پر مشتمل ہوتی ہیں ماحول سے موافقت پیدا کرنے کے لیے ڈولفن مچهلی کے لئے یہ خوبی انتہائی کارگر ہے خاص طور پر دریائی ڈولفن کے لئے، کیونکہ دریا کے مٹیالے پانی میں کچھ بهی دکهائی نہیں دیتا ہے. ڈولفن ایک جھاڑیوں سے بهری ندی میں بهی اپنا راستہ بلکل ٹهیک طریقے سے تلاش کر لیتی ہے چاہے اس کی آنکهیں مکمل طور پہ ڈهانپ دی جائیں.

Sharks شارک

image

شارک مچھلی میں برقی ریسپشن کی ایک ایسی صلاحیت ہے جس سے یہ اپنے اردگرد موجود برقی میدان
کا شعاعوں کی صورت میں پتہ لگا سکتی ہے
درحقیقت ، ہتهوڑے سر والی شارک کا سر خاص طور پر برقی ریسپٹوو حس میں ڈهل چکا ہے. کیونکہ سمندری نمکین پانی بجلی کا بہت اچها موصل ہے. اس بہترین چهٹی حس کی بدولت شارک مچھلی اپنے شکار کے اس برقی چارج کو محسوس کرتی ہیں جس برقی چارج کا شکار ہونے والی مچهلی کے پٹهوں میں حرکت کرتے وقت اخراج ہوتا ہے.
یہ حس بہت حساس ہوتی جس وجہ سے شارک مچھلی کی چند اقسام، دو AA بیٹری سیل کے چارج کو اور اس چارج میں آنے والی معمولی تبدیلی کو بهی 1,000 میل کے فاصلے سے محسوس کر لیتی ہیں.

Salmon سالمن مچهلی

image

سالمن مچهلی میں بہت ہی عجیب خوبی ہے. یہ مچهلیاں کسی نہ کسی طرح اس جگہ پہنچ جاتی ہیں جس ندی میں پیدا ہوتی ہیں. یہ اپنی بالغ عمر کهلے سمندروں میں گزارتی ہیں لیکن پهر بهی اپنا راستہ بالآخر تلاش کر ہی لیتی ہیں.  لیکن وہ یہ عظیم راستے طے کر کے اپنی جائے پیدائش پر پہنچ جاتی ہیں تو آخر وہ یہ کیسے کرتی ہیں.؟
سائنس کے لئے یہ ابهی تک ایک معمہ ہی ہے، اگرچہ شبہ ہے کہ سالمن مچھلی کے دماغ میں فیرومیگنیٹک  معدنی ذخائر کی مقناطیسیت کے ذریعے، زمین کے مقناطیسی میدان کے بارے میں پتہ چلتا ہے.
تحقیق کے دوران یہ بات بهی دریافت ہوئی ہے کہ ان کی سونگهنے کی حس بہت حساس ہے اور یہ سونگھ کہ اپنی پیدائش کی جگہ کی ریت اور دوسری ریت میں پہچان کر سکتی ہیں. 

Bats چمگادڑ

image

چهوٹی چمگادڑ کی ایک نسل اندهیری غاروں اور رات کے وقت آسمان میں اپنے شکار کو پکڑنے کے  لئے ایکو لوکیشن کا استعمال کرتی ہے.
اس مائیکرو چمگادڑ کے گلے کے خرخرہ larynx میں ایک منفرد صلاحیت ہوتی ہے جس سے الٹراساؤنڈ لہریں بنتی ہیں،  جو کہ وہ اپنے منہ اور ناک کے ذریعے نکالتی ہیں. جب آواز کے لہریں ان کے اطراف گونجتی ہوئی کسی چیز سے ٹکرا کے واپس لوٹتی ہے تو یہ بازگشت چمگادڑ کے لئے راڈار کا کام کرتی ہیں. ان چهوٹے چمگادڑوں کا جھریوں والا چہرہ اس طرح ڈهل چکا ہے کہ یہ ایک کان کی شکل اختیار کر چکا ہے. یہ چہرہ اس واپس پلٹنے والی لہروں کو زیادہ بہتر طریقے سے پکڑتا ہے اور چمگادڑ کے لئے یہ لہریں بصری مناظر کی حیثیت رکهتی ہیں.

Weather fish, موسمی مچهلی 

image

موسمیاتی مچهلی یا موسمیاتی لوچز نامی اس مچهلی میں ایک حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے جس سے یہ دباؤ میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کر سکتی ہیں.  اس حس کو موسمیاتی مچهلی پانی کی تہہ میں، پانی کے اچهال کا معائنہ کرنے اور تیرنے میں مدد کرنے والے اندرونی غبارہ کے کام نہ کرنے کی صورت میں بطور متبادل اعضاء بهی استعمال کرتی ہے. یہ حس ان مچهلیوں کو اس قابل بهی بناتی ہے کہ وہ موسم میں ہونے والی تبدیلی کی قبل از وقت پشین گوئی کر سکیں مچهیرے اور مچهلی گهر کے مالکان موسمیاتی مچهلی کی حرکات و سکنات پر نظر رکهتے ہیں جس سے انہیں بروقت بڑے طوفانوں کی آمد کا پتہ چل جاتا ہے.

Platypus پلیٹیپس

image

پلیٹیپس نامی یہ عجیب بطخ، انڈے دینے والی میمل جانوروں میں شمار کی جاتی ہے جو کہ شارک مچهلی سے ملتی جلتی ایک ناقابل یقین الیکٹروریسپشن حس رکهتی ہیں.
یہ بطخ اپنی چونچ کی جلد کا استعمال کر کے الیکٹروریسپٹرز کا کام لیتی ہیں جس سے انہیں اس برقی میدان کی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے جو کہ ان کا شکار اپنے پٹهوں کی حرکت سے خارج کرتا ہے.
یہ بطخ تیرتے وقت اپنا سر دائیں بائیں گهماتی ہے جس سے اس کی حس اور بہتر طریقے سے کام کرنے لگتی ہے.
اس کے علاوہ چونچ کی جلد میکنوریسپٹرز سے بهی لیس ہوتی ہے جو کہ چهونے کی حس کا کام سرانجام دیتے ہیں. اس طرح پلیٹیپس بطخ کی تمام حسی اعضاء میں سے چونچ کو بنیادی عضو قرار دیا گیا ہے.

Sea Tortise سمندری کچهوے

image

سالمن مچهلی سے ملتے جلتے رویے کی طرح سمندری کچهوے بهی اپنے گهروں کو واپس لوٹ آتے ہیں لیکن وہ اسی سمندری کنارے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تهے. عظیم طویل ترین فاصلوں تک سفر کرنے کے بعد ان کی بلکل صحیح مقام پر اپنے گهر کو تلاش کرنے کی صلاحیت قابل قدر ہے.  دیگر ہجرت کرنے والے جانوروں کی طرح کچهوے بهی یہ کارنامہ زمینی مقناطیسی میدان کو ناپ کے سرانجام دیتے ہیں.
تاہم ان کی یہ صلاحیت سمندری کرنٹ کی وجہ سے بے کار ہو جاتی ہے اور چند کچهوے طویل عرصے تک سمندر پر بے مقصد آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں خاص طور پر جب سمندر پر کرنٹ طاقتور ہوتا ہے. شاید یہی معذوری اس بات کی وضاحت بهی کرتی ہے کہ کچھوؤں کی عمریں اتنی طویل کس وجہ سے ہوتی ہیں.!!

اس تحریر کے لئے مدر نیچر نیٹ ورک , وکی پیڈیا اور گوگل امیج سرچ انجن کی ویب سائٹس سے استفادہ کیا گیا..!!

Advertisements

One thought on “جانوروں کی حیرت انگیز حسیات

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s