آئن سٹائن کی شروعات

نظریہ ہم اضافیت اور کائنات (حصہ سوم)

image

دوسروں نے جہاں اپنا کام ختم کیا آئن سٹائن نے وہیں سے ابتدا کی، اس نے میکلسن اور مورلے کی دریافت کو بنیاد بناکر بتایا کہ کائنات میں صرف روشنی کی رفتار ہی مطلق ہے.. یعنی کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے یہ ہمیشہ 186 ہزار میل فی سینکڈ سے ہی چلتی ہے، اور نا ہی یہ اپنے مصدر کی رفتار سے متاثر ہوتی ہے.. گویا یہی وہ کائناتی ساکن ہے جسے کبھی بدلا نہیں جاسکتا.

یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ روشنی کی رفتار پانی یا شیشے میں سے گزرتے وقت سست پڑ جاتی ہے، تو پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی رفتار مطلق ہے؟

یہ درست ہے.. لیکن روشنی کی ایک عجیب صفت یا خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اگر کسی چیز میں سے گزرتے وقت سست پڑ بھی جائے تو اس سے نکلتے ہی یہ اپنی اصل رفتار بحال کر لیتی ہے.. ہمارا مطلب یہ ہے کہ روشنی کی رفتار فضاء یا خلاء میں ہمیشہ مطلق رہتی ہے.. اور کائناتی فضاء اتنی بڑی ہے کہ جس کا تصور ہی محال ہے.

لیکن فہیم کے پیٹ میں ابھی بھی کافی تکلیف ہے، وہ کہتا ہے: آپ اور آپ جیسے بے وقوف ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ روشنی کی رفتار مطلق ہے، مگر میں – اپنے تجربے اور معلومات کی بنیاد پر – کہتا ہوں کہ روشنی 186 ہزار میل فی سینکڈ کی رفتار سے زیادہ یا کم پر سفر کر سکتی ہے..

فہیم ایک مثال دیتے ہوئے کہتا ہے: فرض کرتے ہیں کہ ایک ایٹمی راکٹ (جیسے اورین) پچاس ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے خلاء میں سفر کر رہا ہے، اور کائنات کے کسی مقام پر کوئی مشاہدہ کرنے والا اس کی یہ رفتار ناپتا ہے.. پھر ہم فرض کرتے ہیں کہ اس راکٹ کے اندر خلاباز نے راکٹ کے اڑنے کی سمت ایک ٹارچ جلائی ہے.. اس صورت میں روشنی راکٹ سے نکلتے ہوئے 186 ہزار میل فی سینکڈ کی رفتار سے سفر کرے گی، لیکن مشاہدہ کرنے والے کو کچھ اور نظر آئے گا.. چونکہ روشنی ایک ایسے راکٹ سے نکل رہی ہے جو پچاس ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے چنانچہ مشاہدہ کار دو رفتاریں ریکارڈ کرے گا.. روشنی کی رفتار اور راکٹ کی رفتار.. اسے لگے گا کہ روشنی اس کی اور راکٹ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے، یعنی وہ روشنی کی جو رفتار ریکارڈ کرے گا وہ کچھ یوں ہوگی:

186000 + 50000 = 236000 میل فی سیکنڈ.. تو اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟

اور پھر اس پر آپ کیا کہیں گے کہ روشنی کی رفتار 186000 میل فی سیکنڈ سے کم بھی ہوسکتی ہے؟ فہیم ایک اور دلیل دیتا ہے: اگر روشنی راکٹ کے پیچھے سے چھوڑی جائے یعنی راکٹ کے سفر کی سمت کے برعکس.. اس صورت میں خلاء میں موجود مشاہدہ کار روشنی کی رفتار یوں ریکارڈ کرے گا:

186000 – 50000 = 136000 میل فی سیکنڈ.. یعنی ہمیں لازماً راکٹ کے آگے بڑھنے کی رفتار کو اس کے پیچھے سے نکلنے والی روشنی کی رفتار سے منفی کرنا ہوگا.

اگرچہ فہیم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ کافی معقول اور منطقی ہے، تاہم فہیم کو ہمارا جواب یہ ہے کہ فضاء میں روشنی کی رفتار ہر مشاہدہ کار کے لیے ایک ہی رہے گی، یعنی یہ 186000 میل فی سیکنڈ سے نا تو بڑھی گی اور نا ہی کم ہوگی چاہے اس کے مصدر کی رفتار اور روشنی کی سمت کچھ بھی ہو.

فہیم یقین دلاتا ہے کہ اتنی لمبی تو قصے کہانیوں میں بھی نہیں چھوڑی جاتی..!! پھر کہتا ہے: تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اور اپنی آلات سے جو کچھ ریکارڈ کیا وہ غلط ہے، حالانکہ تمام تر علمی اور زمینی تجربات اور مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں؟
فہیم اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کے لیے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہتا ہے: فرض کریں ایک ٹرین پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے، اس میں ایک مجرم بھی ہے جس کے پاس ایک گن ہے جس سے وہ بوگی کے آخر میں بیٹھے ایک شخص پر فائرنگ کرتا ہے، گولیاں دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کی گن سے نکلتی ہیں اور اس آدمی کے سینے میں پیوست ہوکر اسے ہلاک کردیتی ہیں.. تو کیا پیچھے جاتی گولیوں کی رفتار آگے بڑھتی ٹرین کی رفتار سے متاثر ہوں گی؟

اصل میں یہاں فہیم کے سوال کا کوئی مطلب نہیں ہے، اسے زیادہ واضح ہونا چاہیے.. گولیوں کی رفتار کس کی نسبت سے؟ .. کیا ٹرین میں بیٹھے لوگوں کی نسبت سے یا باہر زمین پر کھڑے کسی شخص کی نسبت سے جو یہ واقعہ ریکارڈ کر رہا ہے؟

ٹرین کے سوار اور گولی چلانے والا بھی، سب ہی ٹرین میں گولیوں کی رفتار دو سو میل فی گھنٹہ ہی ریکارڈ کریں گے، اب چاہے گولیاں ٹرین کے چلنے کی سمت چلائی جائیں یا اس کے برعکس گولیوں کی رفتار ایک ہی رہے گی.. کیونکہ ٹرین کے جس میں ماحول میں لوگ زندگی گزار رہے ہیں، بالکل اس ماحول کی طرح ہے جس ماحول میں لوگ زمین پر زندگی گزارتے ہیں.. مطلب یہ ہے کہ اگر ٹرین خطِ مستقیم میں ایک خاص رفتار میں بغیر ہلے اور پٹری پر آواز کیے بغیر چلتی چلی جائے تو اس صورت میں ٹرین کے مسافروں کو اس کی حرکت محسوس ہی نہیں ہوگی، ما سوائے اگر وہ زمین کو یا زمین پر کسی ساکن چیز کو دیکھیں تب انہیں وہ ان کی نسبت حرکت کرتی ہوئی نظر آئے گی.. آپ اس ٹرین میں کرکٹ بھی کھیل سکتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح آپ زمین پر کھیلتے ہیں، مکھی بھی ٹرین کے ماحول میں بالکل اسی طرح اڑتی پھرے گی جس طرح وہ زمین کے ماحول میں اڑتی پھرتی ہے، اور اگر آپ اوپر کی طرف اچھل کر کچھ لمحوں کے لیے ٹرین کے فرش سے دور رہ سکیں تو ٹرین کا فرش آپ کے نیچے سے نہیں کھسکے گا.. آپ کو اس ٹرین میں ہر چیز بالکل سادہ اور منطقی نظر آئے گی کیونکہ ہر چیز نے ٹرین کی رفتار پکڑ لی ہوگی.. بالکل اسی طرح جس طرح ہم اپنے مدار میں تیزی سے سفر کرتی زمین کی رفتار پکڑ لیتے ہیں اور ہمیں اس کی حرکت محسوس ہی نہیں ہوتی، لیکن ٹرین سے باہر کھڑے کسی شخص کے لیے معاملہ مختلف ہے جو یہ واقعہ ریکارڈ کر رہا ہے.. کیونکہ ایک ٹرین ہے جو زمین کی یا اس کی نسبت پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے، اور ٹرین میں، ٹرین کے سفر کی سمت کے برعکس دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی گئی مجرم کی گولی بھی ہے.. جسے جب ٹرین سے باہر زمین پر کھڑا شخص دیکھے گا تو اسے لگے گا کہ جیسے گولی نے اپنی کچھ رفتار کھو دی ہے، اور اگر وہ گولی کی رفتار ریکارڈ کر سکا تو وہ گولی کی رفتار 150 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کرے گا، جبکہ اگر ٹرین میں گولی آگے کی طرف یعنی ٹرین کے سفر کی سمت چلائی جاتی تو زمین پر کھڑا شخص اس کی رفتار 250 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کرتا، کیونکہ دونوں یعنی گولی اور ٹرین زمین کی نسبت آگے کی طرف دو سو میل گولی اور پچاس میل ٹرین کے لیے فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہیں.. زمین پر کھڑے شخص کو یہ دونوں رفتاریں شامل کرنی ہوں گی.

یہاں فہیم جیت کی خوشی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہتا ہے: آپ کی سمجھ نہیں آتی! .. آپ نے ٹرین اور گولی کی جو صورتحال بیان کی ہے وہ اس حالت سے مختلف نہیں ہے جو میں نے راکٹ اور اس سے نکلتی روشنی کے حوالے سے بیان کی تھی، اور اس مشاہدہ کار کی جو خلاء میں اس واقعے کو ریکارڈ کرتا ہے.. میں نے ایک ہی سمت میں راکٹ کی رفتار کو روشنی کی رفتار میں شامل کردیا، بالکل جس طرح آپ نے زمین پر کھڑے شخص کی نسبت ایک ہی سمت میں گولی کی رفتار کو ٹرین کی رفتار میں شامل کردیا.. تو پھر اس بے معنی فلسفے کا کیا مطلب ہے؟

فہیم نے جو کچھ کہا ہے وہ قطعی درست اور منطقی ہے.. اس کے اندازے نپے تلے اور جانے پہچانے ہیں جنہیں ہم ہمیشہ زمین پر حرکات اور رفتاروں کو ناپنے میں استعمال کرتے ہیں.. بلکہ چاند کے سفر پر جاتے ایک راکٹ کے لیے بھی ہم یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں.. اس کے با وجود کائنات میں کہیں سے بھی دیکھنے والے کے لیے روشنی کی رفتار پھر بھی ایک ہی رہے گی.. ہمیں اپنے زمینی حساب کتاب کو اپنی مرضی سے کائنات کے معاملات پر لاگو نہیں کرنا چاہیے، اگر ہم ایسا کریں گے تو کائنات کے بہت سے پیچیدہ رازوں سے کبھی پردہ نہیں اٹھا پائیں گے.

تو کیا ہم جس تضاد میں پڑ گئے ہیں اس کی کوئی تشریح ہے؟

در حقیقت کوئی تضاد ہے ہی نہیں.. حالانکہ تمام شواہد اس تضاد کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں.. دراصل ہم نے وقت (زمان) کے “سمٹاؤ” کو مدِ نظر نہیں رکھا.. اگر کائناتی مشاہدہ کار تیزی سے سفر کرتے ہوئے راکٹ کا وقت ریکارڈ کرتا تو اسے پتہ چلتا کہ راکٹ کا وقت اس کے وقت کی نسبت سے سست ہے، یہ ان بنیادی باتوں میں سے ایک ہے جس پر نظریہ اضافیت کھڑا ہے، یہ اس تضاد کا عقدہ حل کرتا ہے جس کے جال میں ہم روشنی کی رفتار کے حوالے سے انجانے میں پھنس گئے، اس پر ہم بر وقت بات کریں گے.

روشنی کی رفتار کا مستقل یا مطلق ہونا ان دو بنیادی مفروضوں میں سے ایک ہے جس پر نظریہ اضافیت کھڑا ہے، اس کے آنے سے پہلے جو نتائج تھے وہ وہی ہیں جو نظریہ اضافیت کے بارے میں جاننے سے پہلے فہیم کے ہیں.

image

دوسری عجیب بات جو نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی شئے ایسی نہیں ہے جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر کر سکے، اور نا ہی کوئی مخلوق یا مادی شئے کوئی ایسی خاص حالت ریکارڈ کر سکتی جس کے نتیجے میں اس نے روشنی سے زیادہ رفتار میں سفر کیا ہو.

یہاں فہیم کو پھر تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے، وہ کہتا ہے: ٹھیک ہے.. اگر سائنسدان ایک ایسا خلائی جہاز بنانے میں کامیاب ہوجائیں جو کئی مرحلوں پر مشتمل ہو اور ہر مرحلے میں اپنی رفتار بڑھاتا چلا جائے.. مثلاً پہلے مرحلے میں خلائی جہاز اپنے آگے کے مرحلوں کو دس میل فی سیکنڈ سے دھکیلتا ہے، پھر دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے جو اپنے آگے کے مرحلوں کو سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دھکیلتا ہے، پھر تیسرا مرحلہ شروع ہو جو مثلاً ہزار میل فی سیکنڈ سے خلائی جہاز کو آگے بڑھائے اور اسی طرح رفتہ رفتہ ہم روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ کی رفتار حاصل کر لیں.. کیا اس میں کوئی قباحت ہے؟

بظاہر فہیم کا نقطہ نظر نظریاتی طور پر کافی معقول لگتا ہے، لیکن در حقیقت یہ عملی طور پر نا قابلِ عمل ہے بلکہ نظریاتی طور پر بھی.. کیونکہ خود فہیم یا پتھر یا خلائی جہاز یا ریت کا کوئی ذرہ یا کوئی بھی مادی شئے روشنی کی رفتار تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ کچھ بہت عجیب چیزیں وقوع پذیر ہونا شروع ہوجائیں گی جن پر بر وقت بات ہوگی.

مگر فہیم اپنی فہامت اور بلاغت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، وہ ہمیں ایک اور مثال دیتا ہے جسے ہم سب ہی اپنی زمینی زندگی میں آزماتے رہتے ہیں..

فہیم کہتا ہے: آپ جو عجیب وغریب باتیں ہمارے دماغ میں ٹھونسنا چاہتے ہیں وہ میں اس چھوٹی سی مثال سے رد کردوں گا.. فرض کریں کہ زید ایک ٹرین میں سوار ہے جو زمین یا زمین پر کھڑے کسی شخص کی نسبت اسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے.. دوسری متضاد سمت سے عبید بھی ایک ٹرین میں آرہا ہے جو زمین کی نسبت ایک سو بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے، تو سوال یہ ہے کہ عبید کی نسبت سے زید کی رفتار کیا ہے؟ .. متضاد سمت میں سفر کرنے والی دونوں ٹرینوں کی نسبت سے ہر کوئی دوسرے کی رفتار 200 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کرے گا.. کیونکہ پہلا دوسرے کی نسبت 80 اور 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے چنانچہ ہمیں دونوں رفتاریں جمع کرنی ہوں گی..

تو آپ اس پر ہم سے متفق ہیں کیونکہ یہ ہم نے سکول میں پڑھا ہے.. تھوڑے سے استثناء کے ساتھ..

فی الوقت یہ چھوٹے موٹے استثناء ایک طرف رکھتے ہیں.. اور دونوں ٹرینوں کی حالت دو خلائی جہازوں پر لاگو کرتے ہیں، پہلا 80000 میل فی سیکنڈ سے سفر کر رہا ہے اور دوسرا اس کی طرف 120000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے آرہا ہے، اس صورت میں ہر خلائی جہاز کی ایک دوسرے کی نسبت رفتار 200000 میل فی سیکنڈ ہوگی، اس طرح نسبتی رفتار روشنی کی رفتار سے کوئی 14000 میل زیادہ ہوگی.. اور آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ہم نے کوئی عجیب کام نہیں کیا ہے بلکہ ہائی سکولوں میں پڑھایا جانے والا ایک سیدھا سا ریاضیاتی مسئلہ لاگو کیا ہے.. اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟

آپ کے درست حساب کتاب کے با وجود دونوں خلائی جہازوں کی ایک دوسرے کی نسبت رفتار 200 ہزار میل فی سیکنڈ نہیں ہوگی جیسا کہ ہم سب سمجھ رہے ہیں، بلکہ 155 ہزار میل فی سیکنڈ ہوگی اور یہ روشنی کی رفتار سے کم ہے!

اس پر فہیم ایک بار پھر کسمسا کر رہ جاتا ہے اور اسے نا ممکن قرار دیتا ہے کہ یہ ہمارے زمینی تجربے کے خلاف ہے، مگر جس تضاد میں ہم پڑے ہیں اس کی ایک وجہ تو زمان کا سست پڑنا ہے، اور دوسری وجہ اضافیت کی ایک مساوات ہے جو لازماً ہر رفتار کو روشنی کی رفتار سے منسوب کرتی ہے.

اگر آپ نے بڑی رفتاروں والا کلیہ لاگو کیا ہوتا جسے ہم روشنی کر رفتار سے منسوب کرتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا کہ عبید کی ٹرین کی نسبت سے زید کی ٹرین کی رفتار سو فیصد دو سو میل نہیں ہوگی، مساوات کہتی ہے کہ یہ نسبتی رفتار دو سو میل سے انچ کے دس لاکھویں حصے کے ایک حصے کے برابر کم ہے!

یہاں فہیم طنز کرتے ہوئے کہتا ہے: کیا یہ خردمندوں کی باتیں ہیں؟ .. اتنے کم فرق کو ہم کیسے ناپ سکتے ہیں؟

ہم فہیم کے اندازوں میں اس کے ساتھ ہیں، کیونکہ ہر زمینی رفتار چاہے وہ چاند یا مریخ پر جانے والے کسی خلائی جہاز کی ہی کیوں نہ ہو روشنی کی رفتار کے مقابلے میں کچھ نہیں.. زمین کی کششِ ثقل یا تجاذب سے بھاگنے کے لیے کسی خلائی جہاز کو کوئی سات میل فی سیکنڈ کی رفتار سے اڑنا ہوگا، اس کا موازنہ روشنی کر رفتار سے کریں جو 186 ہزار میل فی سیکنڈ ہے.. چونکہ ہم زمین پر بہت ہی سست رفتاریں استعمال کرتے ہیں اس لیے ہم کوئی غیر طبعی چیز نوٹ نہیں کرتے.. لیکن اگر یہی حساب کتاب ہم نے کائناتی تیز تر رفتاروں پر لاگو کیا تو ہم بہت سارے تضادات میں پڑ جائیں گے، ہم نے دیکھا کہ کس طرف فہیم بڑی آسانی سے اس غلطی کا شکار ہوگیا، اسے چاہیے تھا کہ وہ تیز رفتاروں سے متعلق اضافیت کی مساوات استعمال کرتا، یا اگر ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک خلائی جہاز روشنی کی نوے فیصد 90% رفتار سے سفر کر رہا ہے، اور اس خلائی جہاز نے اپنے آگے کے حصے سے یا منہ سے ایک اور خلائی جہاز نکالا ہے جو کہ وہ بھی روشنی کی نوے فیصد 90% رفتار سے سفر کر رہا ہے.. اس وقت ہم شاید کہیں کہ: خلاء میں کسی مشاہدہ کار کی نسبت خلائی جہاز کی رفتار روشنی کی رفتار سے لازماً 1.8 مرتبہ زیادہ ہے.. اور یہ حساب کافی منطقی اور معقول ہے.. مگر سائنسدان کہتے ہیں کہ: اس خلائی جہاز کی رفتار روشنی کی رفتار کے 90% سے زیادہ کبھی نہیں بڑھے گی ناکہ روشنی کی 180% رفتار جیسا کہ ہم سمجھ رہے ہیں.

اگرچہ ہم جو کچھ جانتے ہیں اور نظریہ اضافیت جو کچھ کہتا ہے دونوں میں تضاد واضح ہے، تاہم اس تضاد کے راز سے ہم آگے چل کر پردہ اٹھائیں گے.. اب ہم وہ دوسرا مفروضہ پیش کریں گے جس پر آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کی بنیاد رکھی.

image

ہم نے آئن سٹائن کے اس پہلے مفروضے پر بات کی جسے اس نے میکلسن اور مورلے کے تجربے سے اخذ کیا اور کہا کہ روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے.

دوسرا مفروضہ جو آئن سٹائن کا نصب العین رہا وہ یہ ہے کہ: کائنات کی ہر حرکت نسبتی ہے.. اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی کوئی بھی مخلوق کوئی بھی مطلق حرکت یا مطلق رفتار نہیں ناپ سکتی.. یعنی یہ رفتار کائنات کی دیگر تمام چیزوں کے مقابلے میں قابلِ تبدیلی نہ ہو یعنی ساکن یا ثابت ہو.. کائنات میں صرف روشنی کی رفتار کو ہی ثبات ہے.. ہم نے بتایا کہ کائنات میں ہر چیز ایک دوسرے کی نسبت زمان ومکان میں حرکت کر رہی ہے.

در حقیقت اضافیت کی “بو” آئن سٹائن کے آنے سے پہلے ہی سائنسدانوں کے درمیان پھیلنے لگی تھی، ایک طویل عرصہ پہلے نیوٹن اور گلیلیو نے حرکت کو موضوع بنایا، جو ریاضیاتی مساواتوں اور قوانین کی شکل میں آئیں اور آسمانی اجرام کی میکانیت اور ان کی ایک دوسرے کی نسبت حرکت کو مربوط کر گئیں، یہ مساواتیں زمین یا سورج یا دیگر ستاروں کی نسبت خلائی جہازوں کی حرکت کا حساب لگانے کے لیے اب بھی کارگر ہیں.. لیکن اگر انسان ایسے خلائی جہاز بنانے میں کامیاب ہوگیا جو روشنی کی رفتار کے آس پاس سفر کر سکیں تو اس وقت اسے اضافیت کی مساواتوں کا سہارا لینا پڑے گا کیونکہ دیگر مساواتیں اس ضمن میں کارگر نہیں ہوں گی.

در حقیقت ہماری زمین پر زمان ومکان اور حرکت کی اضافیت ہمیں قطعی کسی قسم کے مسائل کا شکار نہیں کرتی.. جب ہم کہتے کہ گاڑی پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، جہاز ہزار میل، اور راکٹ سترہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے تو اس میں ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ تمام رفتاریں اس زمین سے منسوب ہیں اور اسی سے وابستہ ہیں.. اس کے علاوہ کچھ نہیں.

آپ ٹرین یا گاڑی کی رفتار کا اندازہ ان ثابت یا ساکن چیزوں سے لگاتے ہیں جن سے آپ گزرتے ہیں یا جو آپ سے گزرتی ہیں، جیسے بجلی کے کھمبے، درخت، پیٹرول پمپ اور بذاتِ خود زمین.. ان سے گزرنا ہی آپ کو حرکت کا احساس دیتا ہے، مگر جہاز میں معاملہ کچھ مختلف ہے.. جب ہوائی جہاز بہت اونچائی پر چلا جاتا ہے تو جہاز کے مسافروں کو ایسا لگتا ہے جیسے یہ حرکت کر ہی نہیں رہا بلکہ زمین ہی اس کے نیچے آہستہ سے حرکت کر رہی ہے.

اس کا مطلب ہے اونچائی پر ہوا میں حرکت کا احساس اس احساس سے مختلف ہے جو زمین پر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ ہوا میں کھمبے اور درخت نہیں ہیں اور نا ہی کوئی ایسی ثابت یا ساکن چیز ہے جو آپ کے پاس سے گزر کر آپ کو جہاز کی رفتار کا احساس دلائے.. آپ کو صرف بادل اور زمین انتہائی آہستگی سے حرکت کرتے نظر آتے ہیں.. زمین ہی ایک واحد چیز ہے جس سے آپ اپنی رفتار کو منسوب کر سکتے ہیں ایک ایسے احساس سے جو آپ کو زمین سے دور جانے پر کبھی کبھی دھوکہ دے دیتا ہے.

جس اضافیت کی ہم بات کر رہے ہیں وہ ان معاملات پر بحث نہیں کرتی جنہیں ہم اپنی زمین پر جانتے ہیں، بلکہ آئن سٹائن اپنی مساواتوں کے ذریعے کائنات کی مجموعی حرکت پر گھری نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے رازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، وہ زمان ومکان، حرکت، مادہ، توانائی اور تجاذب کو ایک ایسے ریاضیاتی جال میں پرونا چاہتا ہے کہ شاید وہ کہیں کائنات کی حقیقت تک پہنچ سکے جو ایک واحد یونٹ ہے.

آپ زمین پر اپنے تمام تر احساسات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، لیکن وسیع تر خلاء میں زمان ومکان، حرکت وغیرہ کے تمام تر احساسات غائب ہوجاتے ہیں.

اگر فہیم زمین کی نسبت سے پچاس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے کسی خلائی جہاز میں بیٹھ کر زمین سے دور نکل جائے تو کچھ ہی دنوں میں اپنے آپ کو ایک وسیع تر خلاء میں پائے گا جو زمین سے لاکھوں میل دور ہوگا، اس کے گرد ایسی کوئی چیز نہیں ہوگی جو اسے حرکت کا احساس دلائے چنانچہ اسے ایسا لگے گہ جیسے وہ قطعی حرکت نہیں کر رہا.. اب وہ چاہے کتنا ہی “فہیم” کیوں نہ بن جائے، وہ اوپر نیچے کے احساس کے معنی کھو دے گا (کس کی نسبت سے؟).. نا ہی اسے دائیں بائیں کا پتہ چلے گا اور نا ہی زمان ومکان کا.. کیونکہ خلاء کی کوئی حد نہیں ہے اور نا ہی سمتیں اور نا ہی زمان جیسا کہ ہماری زمین پر ہوتا ہے.. مثلاً زمین پر وقت کے احساس کی وجہ زمین کا اپنے محور کے گرد چکر ہے جس سے دن اور رات، گھنٹے اور مہینے بنتے ہیں وغیرہ..، اگر یہ حرکت نہ ہوتی تو ہماری زندگی میں زمان کے کوئی معنی نہ ہوتے.

فہیم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے تو اسے تا حدِ نظر ستارے روشنی کے سے دھبوں کی طرح نظر آتے ہیں.. وہ اللہ سے آسانی کی دعا کرتا ہے کہ اچانک اسے شبانہ کا خلائی جہاز آہستہ آہستہ اس کے نزدیک آتا ہوا نظر آتا ہے، وہ سوچتا ہے: کیا میں رکا ہوا ہوں اور وہ دوڑ رہی ہے؟ .. شاید، یا کیا وہ اس سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر کر رہی ہے؟ .. ہوسکتا ہے، یا کیا وہ رکی ہوئی ہے اور میں پیچھے کی طرف جا رہا ہوں.. کون جانتا ہے؟.

دراصل خلاء میں سب کچھ جائز ہے، خاص طور سے جبکہ کوئی ایسی “ساکن” چیز ان کے آس پاس نہیں ہے جو خلاء میں ان کی رفتار اور سمت متعین کر سکے.. وہ صرف اتنا جان سکتے ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت حرکت کر رہا ہے.. مگر ان میں سے کون رکا ہوا ہے اور کون حرکت کر رہا ہے یہ وہ جاننے سے قاصر رہیں گے، حالانکہ دونوں حرکت میں ہیں.. کیونکہ کائناتی فضاء میں حرکت کا کوئی مطلب نہیں ہے جیسا کہ ہماری زمین پر ہے.. ما سوائے اگر اسے آپ کسی دوسری چیز سے منسوب کریں.

دور کیوں جائیے کہ اس تجربے سے ہم اپنی زمین پر ہی گزرتے ہیں؟

کسی نہر کے اوپر بنے پل پر کھڑے ہوجائیے جس کے نیچے سے پانی کسی مخصوص رفتار میں بہہ رہا ہو، اور اسے غور سے دیکھنا شروع کیجیے، تھوڑی دیر میں آپ کو محسوس ہوگا کہ جیسے پانی رک گیا ہے اور پل حرکت کر رہا ہے.. لیکن آپ یہ خیال اپنے دماغ سے جھٹک دیں گے کیونکہ آپ کو پہلے ہی پتہ ہے کہ پل حرکت نہیں کر سکتا اور نہر کا بہتا پانی رک نہیں سکتا.

احساس کا یہ دھوکہ آپ اکثر ٹرین میں بیٹھے ہوئے بھی محسوس کرتے ہیں، آپ کی ٹرین کسی سٹیشن پر رکی ہوئی ہے، آپ کی ٹرین کے ساتھ ایک دوسری ٹرین کھڑی ہے، اگر وہ دوسری ٹرین سفر کا آغاز کرتے ہوئے آہستہ سے چلنا شروع کرے اور آپ اسے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ جیسے آپ کی ٹرین حرکت کر رہی ہے اور دوسری ٹرین کھڑی ہے، اب حرکت میں کون ہے اس کا فیصلہ آپ تب تک نہیں کر سکتے جب تک آپ کسی ساکن چیز کو نہ دیکھ لیں جیسے پلیٹ فارم یا عمارتیں، ہمیں یقین ہے کہ جب بھی آپ کو ایسی کسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے تو آپ ایسا ہی کرتے ہیں.

خلاء میں فہیم اور شبانہ کا بھی یہی حال ہے.. ان کے قریب کوئی بھی ساکن چیز نہیں ہے (جیسا کہ سٹیشن میں ہے) جس سے وہ فیصلہ کر سکیں کہ ان میں سے رکا ہوا کون ہے اور حرکت میں کون ہے.. جب ہم کہتے ہیں کہ “رکا ہوا کون ہے” تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی ایک بالکل بھی حرکت نہیں کر رہا، کوئی چیز ساکن نہیں ہوتی، ہر چیز حرکت میں ہوتی ہے چاہے ہمارے احساسات کو ایسا لگے کہ وہ ساکن ہے اور حرکت نہیں کر رہی، چنانچہ ہمیں ظاہر کو دیکھ کر کسی چیز پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے.

اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ خلاء میں حرکت اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگی جب تک شبانہ کی رفتار فہیم کی رفتار سے مختلف نہیں ہوگی، اگر ان کی رفتار برابر ہوئی تو دونوں کو لگے گا کہ ان میں سے کوئی بھی حرکت نہیں کر رہا.. جب تک دور سے کوئی سیارہ ان کو قریب ہوتا ہوا نظر نہ آجائے اور وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب ہوتے چلے جائیں، تب بھی انہیں یہ پتہ نہیں چلے گا کہ سیارہ ان کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے یا وہ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ سب کچھ جائز ہے.

ستارے آسمان پر اپنے اپنے مقام پر آپ کو ساکن نظر آتے ہیں بلکہ ہر رات اسی مقام پر ہی نظر آتے ہیں.. لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ستارے حرکت نہیں کرتے.. بلکہ وہ اور ہم ایک دوسرے کی نسبت ایک منظم حرکت میں رہتے ہیں اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہے.

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی طریقے سے مطلق حرکت کو نہیں ناپ سکتے ہیں اور نا ہی اسے ثابت کر سکتے ہیں، جب تک کہ اسے کسی ایسی ساکن چیز سے منسوب نہ کردیں جو قطعی حرکت نہ کرتی ہو.. اور چونکہ کائنات میں کوئی چیز ساکن نہیں ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کی نسبت حرکت میں ہے.. چنانچہ یہ کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ہر حرکت نسبتی ہے.

امید ہے کہ اب آپ کو ایتھر کا نظریہ اور سائنسدانوں کی اسے دریافت کرنے کی ناکام کوششوں کی وجہ سمجھ آگئی ہوگی، ممکنہ طور پر کائنات میں وہی ایک اکلوتی ساکن چیز ہوتی جسے بنیاد بناکر یا اس سے منسوب کر کے زمین کی سکون کی نسبت مطلق حرکت ناپی جاسکتی، مگر سائنسدانوں کی تمام تر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں کیونکہ وہ شاید موجود ہی نہیں ہے.

انیسویں صدی کے بعض سائنسدانوں کے ذہن میں “قدرت کی سازش” کا خیال پنپنے لگا جو انہیں مطلق حرکت، مطلق معرفت، مطلق حقیقت یا کوئی بھی مطلق چیز دریافت کرنے سے روک رہی ہے!

image

دراصل جسے سائنسدان قدرت کی سازش سمجھ رہے تھے وہ قدرت کی مہربانی ہی تھی جسے سمجھنے کے لیے کسی مساوات کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ سوچ کو ایک نئی جہت دینے کی ضرورت تھی، ان کی مثال ایک ایسے شخص سے دی جاسکتی ہے جو ایک ایسا آلہ بنانا چاہتا ہے جو اپنی حرکت کی طاقت سے پیدا کردہ توانائی سے تا قیامت چلتا رہے، اور جب وہ اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ قدرت اس کے خلاف سازش کر کے اسے ایسا آلہ ایجاد کرنے سے روک رہی ہے، لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ یہاں پر قدرت کے قوانین میں سے ایک قانون لاگو ہوتا ہے، توانائی کا قانون.. کیونکہ توانائی کی مدد کے بغیر حرکت پیدا نہیں کی جاسکتی چنانچہ یہاں سازش کا کوئی وجود نہیں.

آئن سٹائن آکر دماغوں پر چھائی اس مدھم تصویر کو واضح کرتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ جسے وہ قدرت کی سازش سمجھ رہے تھے وہ دراصل قدرت کے قوانین کا ایک قانون ہے جو کہتا ہے “ہم کسی بھی تجربے سے کوئی بھی مطلق حرکت یا مطلق سکون ثابت نہیں کر سکتے” چنانچہ اس طرح نا تو ہم ایتھر کو دریافت کر سکتے ہیں اور نا ہی ہمیں اس کی ضرورت ہے.

آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کی مساواتیں دو بنیادی مفروضوں پر کھڑی کیں، حرکت کی اضافیت (نسبیت) اور روشنی کی رفتار جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی، چنانچہ یہی رفتار اس کی ریاضیاتی عمارت کی بنیاد تھی کیونکہ یہی وہ اکلوتی مطلق اور ساکن چیز ہے.

تو جب ہم کہتے ہیں کہ حرکت نسبتی ہے تو اس کے پیچھے ایک گہرا ریاضیاتی مضمون ہے جو ایسی چیزیں واضح کرتا ہے جو ہم نے سوچی بھی نہیں ہوں گی.. مثلاً اگر فہیم اپنے ماحول میں (یا خلائی جہاز میں) شبانہ کے ماحول کی نسبت روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرے تو اسے شبانہ کے ماحول میں عجیب چیزیں نظر آئیں گی.. ایسی چیزیں جو اگر وہ شبانہ کو بتا دے تو وہ اسے پاگل قرار دے گی، اسی طرح شبانہ کو بھی فہیم کے ماحول میں عجیب سی چیزیں نظر آئیں گی..

image

نظریہ ہم اضافیت اور کائنات (حصہ دوم)

یہ تحریر مکی کا بلاگ سے شئیر کی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s