دنیا کی بہترین آنکهیں

دنیا کی دلچسپ و عجیب بہترین آنکهیں

سائنسدانوں کے مطابق آج سے 540 ملین سال پہلے جسم کے چند آرگنز نے سادہ طریقے سے روشنی کا پتہ لگانا یا محسوس کرنا شروع کر دیا تها جس کی موجودہ پیچیدہ شکل ہماری آنکهیں ہیں. آج جانوروں، انسانوں میں نظارہ کرنا یا دیکهنے کا عمل حسیات کا اہم جزو ہے اور ارتقائی مراحل میں یہ ابتدائی ادوار سے مختلف اور مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے.

اس تحریر میں دنیا کے چند ناقابل یقین اور عجیب آنکهوں والے جانوروں کے بارے میں  بتایا جا رہا ہے. جنہوں نے ارتقائی مراحل میں اپنی آنکهوں کو حالات کے مطابق انتہائی پیچیدہ شکل میں ڈهال لیا ہے ان جانوروں کی آنکھ کا موازنہ انسانی آنکهوں سے کیا جائے گا.

image

11: ٹارسیئر ( Tarsier )

ٹارسئیر جنوبی مشرقی ایشیا کے جنگلوں میں پایا جانے والا ایک چهوٹی گلہری کی جسامت کا جانور ہے، یہ چهپکلیاں،  کیڑے مکوڑے اور نیچی پرواز کرتے پرندوں کا شکار کرتا ہے. ٹارسیئر میں سب سے نمایاں اس کی آنکهیں ہیں، یہ میمل جانوروں میں جسم کے لحاظ سے، سب سے  بڑی آنکهوں والا جانور ہے. جسم کے لحاظ سے اگر انسان کی آنکهیں ٹارسئیر کے تناسب سے ہوتی تو ان کا سائز ایک چکوترے جتنا ہوتا.
اس کی آنکهیں کهوپڑی میں بلکل اس طرح نصب ہیں جیسے ہیرا تاج میں جڑا ہوتا ہے اور یہ حرکت کرنے سے قاصر ہیں. لیکن ٹارسئیر کی گردن بہت لچکدار ہے اور وہ اپنی گردن کو 180 درجہ زاویے پر بلکل ایک الو کی مانند گهما سکتا ہے.
شکار یا شکاریوں پہ نظر رکهنے کے لئے یہ خوبی انتہائی کارگر ہے. اس کی ایک آنکھ کا وزن اس کے دماغ سے زیادہ ہے. ٹارسیئر کی آنکهیں انتہائی کم روشنی میں بهی دیکهنے کے قابل ہیں اور رات کو انہیں انتہائی صاف منظر دکهائی دیتا ہے اس کے علاوہ گهریلو بلیوں اور الو کی طرح یہ بالائے بنفشی روشنی کو بهی دیکهنے کے قابل ہیں.

image
10: گرگٹ (Chameleon)

گرگٹ ماحول سے مطابقت کے لئے اپنے رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہیں. یہ خوبی وہ دوسرے گرگٹ سے رابطہ کرنے، متوجہ کرنے یا اپنے موڈ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں. گرگٹ کی بہت ہی کم اقسام ایسی ہیں جو خود کو غائب کرنے کے لئے ماحول کے مطابق اپنا رنگ ڈھالتے ہیں.  یہ چهپکلیاں بهی بہت غیر معمولی آنکھوں کی حامل ہیں.  ان کی آنکهیں ایک کیف کی طرح ہوتی ہیں جس میں ایک سوراخ کے ذریعے یہ دیکهتے ہیں. ہر ایک آنکھ دوسری آنکھ سے الگ آزادانہ سمت میں حرکت کرنے کے قابل ہوتی ہے. اس طرح گرگٹ ایک ہی وقت میں شکار اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے قابل ہوتے ہیں. اس کا یہ مطلب بهی ہے کہ گرگٹ 360 ڈگری زاویہ میں نظر رکهنے کے اہل ہیں. جب گرگٹ کو ممکنہ شکار نظر آ جائے یہ اپنی دونوں آنکهیں ایک ہی سمت میں سٹیریو سکوپک ( دو سمتی دوربین ) کی طرح فوکس کر لیتا ہے تا کہ اپنی توجہ ایک سمت میں مرکوز کر سکے. اگر گرگٹ کے تیزرفتاری سے شکار کرنے کی حکمت عملی کو دیکها جائے تو اس کے لئے عمدہ فاصلے سے انتہائی عمدہ کوالٹی اور شفاف مناظر کو دیکهنے کی اہلیت کی حامل آنکهیں چاہیں جس پر گرگٹ کی آنکهیں پوری اترتی ہیں.
گرگٹ اتنا واضح مناظر کو دیکهنے کے قابل ہیں کہ یہ کئی میٹر دور سے بهی انتہائی چهوٹے حشرات کی پہچان کر لیتے ہیں. اور ٹارسئیر کی مانند یہ بهی بالائے بنفشی روشنی دیکھ سکتے ہیں.

image

09: ڈریگن فلائی

حشرات میں سے ممکنہ طور پہ سب سے زیادہ خطرناک فضائی شکاری ہے. اور جانداروں میں سے سب سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ آنکهوں والا جاندار ہے. اس کی آنکهیں اتنی بڑی ہیں کہ تقریباً مکمل سر کو ڈهانپے ہوئے ہیں جو اسے 360 ڈگری زاویے میں دیکھنے کا اہل بناتی ہیں. یہ آنکهیں 30،000 بصری یونٹس پر مشتمل ہیں جنہیں اوماٹیڈیا کہا جاتا ہے. ہر ایک آنکھ، ایک لینس اور روشنی کے حساس خلیات کی ایک سیریز پر مشتمل ہوتی ہے.
ان کی آنکهیں روشنی کا پتہ لگانے کے لئے نہایت شاندار ہیں، یہ رنگوں اور پولرائزڈ روشنی کا پتہ لگانے، شکار کے لئے معمولی حرکت کا پتہ لگانے کے لئے بہت حساس اور مفید ہیں. ڈریگن فلائی کی چند اقسام جو کہ شام میں شکار کرتی ہیں انہیں شام کی کم روشنی میں بهی بلکل صاف اور واضح دکهائی دیتا ہے، جب کہ ہم انسانوں کو کچھ بھی دیکهنے کے لئے انتہائی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
صرف یہی نہیں ڈریگن فلائی کے پاس تین چهوٹی آنکهیں ہیں جنہیں (اوسیلی Ocelli) کا نام دیا گیا ہے. یہ چهوٹی اوسیلی آنکھیں اس کے سر کی بڑی آنکھوں سے کہیں زیادہ تیزی سے انتہائی معمولی حرکت کا پتہ لگا لیتی ہیں. یہ اوسیلی آنکهیں تیزی سے بصری پیغام ڈریگن فلائی کی مرکزی موٹرز کی جانب بھیجتی ہیں اور ایک سیکنڈ کے اندر وہاں سے شکار کیڑے کی اعصابی مضبوطی، اس کی جسمانی پهرتی اور مہارت کے بارے میں وضاحت کا جوابی ردعمل موصول ہوتا ہے.
لیکن صرف ڈریگن فلائی کے پاس اوسیلی آنکهیں نہیں ہیں، کچھ مکھیوں میں اس سے بهی زیادہ جدید اوسیلی آنکهیں ہیں.

image

08: پتے کی دم والی چهپکلی ( Leaf tailed Geckos )

لیف گیکوز کے پاس بہت خوبصورت آنکهیں ہیں. ان کی آنکھوں کے پیوپل عمودی ہیں اور پن ہولز کی ایک سیریز ہے جو رات کو چوڑی ہو جاتی ہیں جس سے ان چهپکلیوں کو روشنی کی معمولی سے معمولی مقدار کو بهی تلاشنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے. ان کی آنکهوں میں انسانی آنکھ سے زیادہ حساس روشنی کا پتہ لگانے والے خلیات ہوتے ہیں جس سے انہیں رات میں بهی تمام رنگ دکهائی دیتے ہیں. اس کی مثال یہ ہے کہ بلیاں انسان سے چھ گنا زیادہ اور شارک مچهلیاں 10 گنا زیادہ وضاحت سے رات کو دیکهنے کے قابل ہیں جب کہ لیف گیکوز انسان سے 350 گنا زیادہ صاف شفاف طریقے سے کم روشنی اور رات میں دیکهنے کے قابل ہوتے ہیں.
لیف گیکوز کی آنکهوں میں عجیب قسم کے پیچیدہ پیٹرن کی سیریز بهی پائی جاتی ہیں جس سے انہیں ماحول سے مطابقت کر کے رنگ ڈهالنے اور کیموفلاج ہونے میں مدد ملتی ہے. پلکیں نہ ہونے کی وجہ سے لیف گیکوز کی آنکهیں ایک شفاف جهلی کی وجہ سے محفوظ رہتی ہے اور گیکوز انہیں وقفے وقفے سے اپنی زبان سے چاٹ کے صاف کرتی رہتی ہے.

image
Colossal squid زبردست سکویڈ :07

ان کا شمار بهی بڑی آنکھوں والے جانوروں کے گروہ میں ہوتا ہے. اس کی ایک آنکھ تقریباً 30 سیمی کی ہے یعنی رات کے کهانے کی پلیٹ سے بڑی اور آنکھ کا لینز تقریباً ایک مالٹے جتنا بڑا ہے. ان بہت بڑی آنکهوں سے سکویڈ کو مدهم روشنی میں واضح دکهائی دیتا ہے اور یہ ایک ایسے جانور کے لئے جو اپنا زیادہ وقت 2000 میٹر کے علاقے میں مدهم روشنی میں اپنے شکار کی تلاش کرتا ہو اس کے لئے بہترین شکاری آنکهیں ہیں.
یہ تجربہ بهی صرف نابالغ سکویڈ پہ کیا گیا ہے جب کہ بالغ سکویڈ اس سے بهی 15 میٹر مزید دور تک وضاحت سے دیکهنے کے قابل ہیں.
سکویڈ کی آنکهیں سٹیریو سکوپک نظر کی حامل ہیں جس سے یہ فاصلے کا اندازہ لگانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں.  اس سے بهی زیادہ دلچسپ خوبی ان کی ہر ایک آنکھ میں قدرتی طور پر ایک فوٹوفورز نامی آرگن پایا جاتا ہے جو کہ خود روشنی پیدا کرتا ہے. سکویڈ کے لئے یہ آرگن “ہیڈلائٹ” کا کام کرتا ہے. جب بهی سکویڈ اپنے شکار پہ توجہ مرکوز کرتا ہے تو اس آرگن سے روشنی پیدا ہوتی ہے اور شکار اسے روشنی سے چمکتا ہوا دکهائی دیتا ہے.
image

06: چار آنکھوں والی مچهلی ( four eyed fish )

میکسیکو، وسطی امریکہ اور جنوبی شمالی امریکہ میں پائی جانے والی یہ چهوٹی مچهلیاں جن کی چار آنکهیں ہیں. یہ مچهلیاں زیادہ تر تازے پانی میں پائی جاتی ہیں. چهوٹے حشرات، کیڑے مکوڑے ان کی خوراک ہیں اس لئے یہ زیادہ تر پانی کی اوپری سطح پر تیرتی رہتی ہیں.

اس چار آنکهوں والی مچهلی کے نام سے قطع نظر، اصل میں چار آنکهوں والی مچهلی کی آنکهیں دو ہی ہیں.
دراصل یہ آنکهیں ایک ٹشو کے بینڈ کی وجہ سے تقسیم ہوگئی ہیں جس سے ایک آنکھ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے.
یہ عجیب موافقت اس چار آنکھوں والی مچھلی کو ایک وقت میں سطح کے اوپر اور پانی کے اندر نیچے کی جانب دیکهنے میں مدد فراہم کرتی ہے جس سے انہیں ایک ہی وقت میں شکار اور ممکنہ شکاری کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نیچے پانی میں دیکهتے رہنے کا موقع ملتا ہے.
ارتقائی مراحل کے دوران مچهلی نے آدهی آنکھ کو اوپری سطح اور باقی آدهی آنکھ کو نیچے دیکهنے کے لئے ڈهال لیا. یہ مچهلی آنکھ کے دونوں حصوں میں ایک ہی لینس کا استعمال کرتی ہے. لینس کی موٹائی اور وکر (curve) اوپر اور نیچے کی آنکھ کے لئے مختلف طریقوں سے پیش آتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کی سطح پر اور نیچے پانی میں روشنی کی مقدار مختلف ہوتی ہے. 
چونکہ چار آنکھوں والی مچھلی نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ پانی کی سطح پر گزارتی ہے اور یہ صرف اس وقت پانی میں نیچے غوطہ لگاتی ہے جب اس کی اوپری سطح کو دیکهتی آنکھ خشک ہونے لگتی اور اسے تر کرنے کے لئے اسے نیچے جا کے واپس آنا پڑتا ہے.

image

05: آنکهوں سے بولتی مکهی Stalk eyed fly

یہ چهوٹی لیکن شاندار مخلوق زیادہ تر شمال مشرقی ایشیاء اور افریقہ کے جنگلوں میں پائی جاتی ہیں.  جبکہ اس کی چند اقسام یورپ اور جنوبی امریکہ میں بهی پائی گئی ہیں. یہ لفظ Stalk “آنکهوں سے باتیں کرنا” (eyestalk) کی مختصر شکل ہے. طویل تخمینوں اور بہت گہرے مطالعے کے بعد ان کے سر کے اطراف موجود آنکهوں اور ان کے آخر میں واقع طویل اینٹینا کی وجہ سے انہیں stalk eyed fly کا نام دیا گیا ہے. 
نر مکهی پر مادہ کی نسبت زیادہ اونچے eyestalk ہوتے ہیں اور اس کی مکمل تصدیق کی گئی ہے کہ مادائیں زیادہ طویل eyestalks والے نر کو اہمیت دیتی ہیں. 
ملاپ کے موسم میں،  نر ایک دوسرے کے سامنے کهڑے ہو کر چہرے سے چہرہ ملا کر کهڑے ہو جاتے ہیں اور باقاعدہ eyestalks کو ناپتے ہیں. سب سے بڑے stalk والا فاتح کہلاتا ہے. 
نر stalk آنکھوں والی مکھیوں میں eyestalks کی لمبائی کو وسعت دینے کی غیرمعمولی صلاحیت ہوتی ہے،  یہ مکهیاں ہوا کو منہ میں بهر کے سر میں موجود نلکیوں میں پمپ کر دیتی ہیں جس سے ہوا eyestalks کو منتقل ہو جاتی ہے. وہ ایسا زیادہ تر ملاپ کے موسم میں کرتی ہیں.

image

04: بکریاں Goats

آنکھ میں موجود چهوٹے نقطے “تلامیذ” ( Pupils ) کے بارے میں تصور کریں تو صرف گول تلامیذ کا خیال آتا ہے، لیکن بکریوں اور کهر والے چند اور جانوروں کی آنکهوں میں “افقی درز” (Horizontal slits) ہیں جو کہ پهیل کے مستطیل ہو جاتے ہیں. 
اس سے بکریاں 320 سے 340 ڈگری زاویہ تک گردن کو گهمائے بغیر دیکھ سکتی ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں انسان 160 سے 210 ڈگری زاویہ تک کا منظر دیکهنے کے قابل ہوتے ہیں.
مستطیل آنکهوں والے جانور کی آنکهوں میں بڑے تلامیذ (Pupils ) ہوتے ہیں، اس کے نتیجے میں انہیں رات میں صاف دکهائی دیتا ہے اور دن کی روشنی سے بچنے کے لئے یہ سختی سے بند رہتے ہیں،  حیرت انگیز طور پہ آکٹوپس کی آنکهیں بهی مستطیلی تلامیذ (Rectangular Pupils) شکل کی ہیں.

image

Ogre faced spider دیو زاد مکڑی :03

مکڑیاں اپنی بہت ساری آنکهوں کی وجہ سے مشہور ہیں جس میں چند اقسام کی دو، چار، چھ یا آٹھ آنکهیں ہیں.
دیو زاد مکڑی کی چھ آنکهیں ہیں لیکن دیکهنے پہ صرف دو آنکھیں لگتی ہیں کیونکہ درمیان کی دو آنکهیں باقی آنکھوں سے بڑی اور واضح ہیں. ارتقائی مراحل میں دیو ہیکل مکڑی نے رات کی سیاہی میں دیکھنے کے لئے حالات کے مطابق خود کو ڈهال لیا. دیو ہیکل مکڑی رات کو تفصیلی وضاحت کے ساتھ اپنی بڑی آنکهوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان آنکهوں کو ڈهکی ہوئی انتہائی حساس خلیات کی پرت وجہ سے دیکهنے کے قابل ہوتے ہیں جو کہ معمولی سے معمولی روشنی کی مقدار کا پتہ لگاتی ہے. یہ جهلی اتنی حساس ہے کہ طلوع فجر ہوتے ہی یہ ختم ہو جاتی ہے اور ہر رات یہ مکڑی ایک نئی جهلی بنا لیتی ہے.
اس مکڑی کی آنکهیں رات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں چاہے ان میں ٹیپٹم لیوسئڈیم نامی یہ جهلی کم پڑ جائے جو کہ دوسری مکڑیوں اور بلی وغیرہ کی آنکهوں میں رات کو دیکهنے کے لئے عکاس جهلی کا کام کرتی ہے. سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دیوہیکل مکڑی بلیوں، شارک یا الو سے بهی زیادہ بہتر طریقے سے رات میں دیکهنے کے قابل ہے. اس مکڑی کی آنکهیں، انسانی آنکھ سے 100 گنا بہتر تفصیلی مناظر دیکهنے کے قابل ہے.

image


02: کیکڑے Mantis Shrimp

دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ آنکھوں کا حامل کیکڑا.
یہ اپنے خطرناک ہتھیار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، ان کے پاس ایک تیز اور طاقتور پنجہ ہے جس سے یہ دو وار میں انسانی انگلی یا مچهلی گهر کے شیشے کو ایک ہی ضرب میں توڑ سکتا ہے.
اس کی آنکهیں ڈریگن فلائی سے ملتی جلتی کمپاؤنڈ شکل کی ہوتی ہیں. اس کے علاوہ ان کی ایک آنکھ میں بہت ہی چهوٹے 10,000 کی تعداد میں اوماٹیڈیا ہوتے ہیں.
تاہم کیکڑے کے ہر ایک اوماٹیڈیا کا الگ الگ کام ہے، مثال کے طور پہ ان میں سے چند اوماٹیڈیا روشنی کی پہچان کرتے ہیں اور چند رنگوں کی پہچان کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ.
یہ کیکڑے انسان سے زیادہ رنگوں کی پہچان کرنے قابل ہیں. انسانی آنکھ میں رنگوں کی پہچان کے لئے 3 قسم کے ریسپٹرز ہوتے ہیں، جب کے کیکڑے کی آنکھوں میں 12 قسم کے ریسپٹرز موجود ہیں.
اب تک کسی بهی معلوم جانداروں میں سب سے زیادہ پیچیدہ ترین نظر رکهنے والا یہ جاندار بالائے بنفشی روشنی،  انفراریڈ اور پولرائزڈ روشنی کو دیکهنے کے قابل ہے.
اس کی آنکهیں stalk کے آخر میں ہوتی ہیں اور دونوں آنکهوں کو ایک دوسرے سے جداگانہ حرکت دینے اور انہیں 70 ڈگری زاویے پر گهمانے کے قابل ہوتے ہیں.  سب زیادہ دلچسپ بات یہ کہ دکهائی دینے والے تمام منظر کی معلومات پر عملدرآمد دماغ نہیں کرتا بلکہ آنکهیں خود یہ کام سرانجام دیتی ہیں.
اس سے بهی زیادہ عجیب اس کی آنکهیں تین حصوں میں تقسیم ہیں جس سے یہ ایک ہی چیز کے تین مختلف حصے ایک ہی وقت میں دیکهنے کے قابل ہے. دوسرے الفاظ میں ہر آنکھ ایک سہہ بصری مناظر دیکهنے کے قابل ہے اور اگر اس کی ایک آنکھ ضائع ہو بهی جائے تو ایک آنکھ سے بهی یہ کسی چیز کا فاصلہ، جسامت یا گہرائی کا اندازہ بلکل اسی طرح لگا سکتے ہیں جیسے انسان کی 2 آنکهیں مل کے سرانجام دیتی ہیں.
سائنسدان ابهی Stomatopod بصری مناظر کے اسرار کو سمجهنے کے ابتدائی مراحل میں ہیں. فی الحال تو ہم بس تصور کر سکتے ہیں کہ کیکڑے کو یہ دنیا کیسی نظر آتی ہو گی..

image
01: ٹریلوبائٹ Trilobites

تقریباً 300 ملین سال پہلے جب ڈائنوسارز زمین پر پهیلنا شروع ہوئے اس وقت سے لے کر اب تک معلوم تمام جانوروں کے گروہوں میں سے ٹریلوبائٹ کی آنکهیں سب سے منفرد، انوکهی اور بہترین آنکهیں ہیں.
اس دور کے اس سے ملتے جلتے جانوروں کی کچھ اقسام بغیر آنکهوں والی ہیں یا پهر ان کی آنکهیں کمپاؤنڈ کی طرح ہیں.
ٹریلوبائٹ کی آنکھوں کے بارے میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس کی آنکهوں کے لینز کیلسائٹ کرسٹل معدنیات سے بنے ہوئے ہیں جو کہ چونے کے پتهر اور چاک کا اہم اتحادی جزو ہے.
کیلسائٹ صاف شفاف اور اپنی سب سے پہلی اور خالص شکل میں اس کام کے لئے ایک موزوں نامیاتی مادہ تها جس سے ٹریلوبائٹس نے اپنی آنکهوں کا کام لینا شروع کردیا تھا.
ٹریلوبائٹ کو اس کی یہ منفرد آنکھیں اسے دوسرے غیرفقاری جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں جن کی آنکهیں بلوریں مرکب شکل میں چیتین نامی عضویاتی مادہ کی بنی ہیں.
ٹریلوبائٹ کی آنکھوں کی ساخت غیر روایتی مواد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان آنکهوں سے توجہ کو مرکوز نہیں کیا جا سکتا اور اس کام کے لئے ٹریلوبائٹ اپنی اندرونی آنکھ کا استعمال کرتے ہیں جو کہ نہ صرف معدنی عضو سے بنی ہوئی آنکھ کے ممکنہ مسائل کو حل کرتی ہے بلکہ یہ خوبی ٹریلوبائٹ کو دور اور نزدیک دونوں فاصلوں پہ ایک ہی وقت میں توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنا دیتی ہے. کیلسائٹ سے بنے ہونے کی وجہ سے ٹریلوبائٹ کی آنکهیں آسانی سے فوسل میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے کسی بهی دوسرے جانور کی نسبت اس کی آنکهوں کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات میسر ہیں.
یہ بهی زیادہ عجیب و غریب نہیں ہیں. ان میں سے ٹریلوبائٹ کی چند اقسام کی آنکهیں بہت زیادہ بهیانک ہیں.
ان میں سے کچھ اقسام کی آنکهیں ” آنکهوں سے باتیں کرنے والی مکهی” (Stalk eyed fly) کی طرح ہیں. ان میں سے چند اقسام کے آنکهوں پر سورج کی تیز روشنی سے بچنے کے لئے آنکهوں کے اوپر آئی شیڈز (eyeshades) ہیں.

اگلے باب میں دنیا کے بہترین سماعت والے دلچسپ جانداروں کے بارے میں بتایا جائے گا اور ان کا موازنہ انسانی سماعت سے کیا جائے گا..!!

اس تحریر میں اردو سائنس بلاگ کی طرف سے لسٹ ورس کی ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا.!!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s