ایتهر کی موجوں پر

نظریہ ہم اضافیت اور کائنات ( حصہ دوم )

image

ایتھر (ETHER) کا خیال کافی عرصہ تک سائنسدانوں کے دماغ پر چھایا رہا اور ان کے درمیان وجۂ بحث بنا رہا حتی کہ بیسویں صدی کے شروع میں اسے دفن کردیا گیا، ایک چھوٹے سے تجربہ سے ایتھر کے خیال کی وجہ سمجھتے ہیں.
بیٹری سے چلنے والا کوئی لیمپ اور ایک گھنٹی شیشے کے ایک بند جار میں رکھ دیں.. گھنٹی بج رہی ہے اور لیمپ جل رہا ہے، چنانچہ آواز بھی آرہی ہے اور روشنی بهی.
ایک وائکم پمپ سے شیشے کے جار میں سے ہوا خارج کرنا شروع کریں، جیسے جیسے شیشے کے جار میں ہوا کا دباؤ کم ہوتا جائے گا گھنٹی کی آواز بھی کم سے کم تر ہوتی جائے گی اور آخر کار بالکل ہی ختم ہوجائے گی (بشرطیکہ جار کے اندر ہوا کا کوئی وجود نہ رہے اور جار باہر کی ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ٹوٹ نہ جائے) مگر روشنی بدستور آتی رہے گی جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو.. تو اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا ہی وہ ذریعہ ہے جو آواز کی لہروں کو منتقل کرتا ہے چنانچہ ہوا کے بغیر کوئی سماعت نہیں..
چاند پر آپ کا پڑوسی چاہے کتنی ہی زور سے آپ کو کیوں نہ بلائے آپ تک اس کی آواز کبھی نہیں پہنچے گی، کیونکہ چاند پر کوئی ہوا نہیں ہے جو آواز کی لہروں کو ہمارے کانوں تک منقل کر سکے (چاند اور خلاء میں خلاباز ریڈیو کی لہروں کے ذریعے ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں).

چنانچہ سائنسدانوں نے سوچا کہ اگر آواز کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہوا ہے.. تو پھر روشنی کو منتقل کرنے کا بی کوئی ذریعہ ہونا چاہیے، اس ذریعے کے بغیر روشنی ہم تک نہیں پہنچے گی اور کائنات ایک گھپ اندھیرے میں ڈوب جائے گی.
چنانچہ سائنسدانوں نے فرض کیا کہ یہ ایتھر ہے جو کائنات میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے حتی کہ خلاء میں بھی، مگر ہم اس کے وجود کو دریافت نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی کوئی ایسی خوبیاں نہیں ہیں جو اسے ممتاز کر سکیں اور ہم پر اس کی
حقیقت آشکار کر سکیں، اس کے باوجود روشنی کی منتقلی کے لیے اسے ہر جگہ موجود ہونا چاہیے.
یہی وہ خیال تھا جو سائنسدانوں کو سوجھا.. ہوا کے بغیر سماعت نہیں، اور ایتھر کے بغیر بصارت نہیں.. کہ دونوں کو منتقلی کے لیے کوئی ذریعہ چاہیے بالکل جیسے پانی کے بغیر موجیں نہیں، کیونکہ پانی ہی وہ ذریعہ ہے جس میں اس کی
موجیں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں کہ:

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

سائنسدانوں نے اسے دریافت کرنے کے لیے تمام تر علمی طریقے استعمال کیے، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ اگر ایتھر کائنات کے خلاء میں پایا جاتا تو پھر کائنات میں وہی ایک “ساکن” چیز ہوتا.. یعنی ساکنِ مطلق جو کبھی کوئی حرکت نہ کرے.. تو اگر ایتھر ایسا ہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری زمین اور کائنات کے دیگر تمام سیارے
اور ستارے اسی کے اندر حرکت کر رہے ہیں اور اسے مضطرب کر رہے ہیں بالکل جیسے کوئی کشتی پانی کی سطح پر ہلچل مچا دیتی ہے.
مگر جب آپ پانی پر چلتی کسی کشتی میں بیٹھ کر کشتی کے اندر دیکھتے ہیں تو آپ یہ نہیں جان پاتے کہ کشتی حرکت (چل) کر رہی ہے یا نہیں، اس کے لیے آپ کو پانی کو دیکھنا ہوگا یا پانی میں کوئی ڈنڈا ڈبونا ہوگا اور جب آپ کو کشتی (یا ڈنڈے) کے راستے میں پانی ہٹتا ہوا نظر آئے گا تب آپ کو پتہ چلے گا کہ کشتی حرکت کر رہی ہے. مگر فہیم کو کچھ تکلیف ہے، وہ کہتا ہے: ہمیں کیا پتہ کہ یہی درست ہے؟ .. کیا یہ ممکن نہیں کہ کشتی رکی ہوئی ہو اور پانی حرکت کر رہا ہو؟

دراصل دونوں باتیں درست ہیں.. یہ جاننے کے لیے کہ کشتی حرکت کر رہی ہے یا پانی، آپ کو کنارے پر کسی ساکن چیز کو دیکھنا ہوگا تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ کشتی اس کی نسبت حرکت کر رہی ہے یا نہیں. ایسی ہی باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انیسویں صدی کے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اگر ایتھر موجود ہے اور زمین اس کے اندر 66 ہزار میل ف گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے گرد گردش کر رہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ایتھر میں لہریں پیدا ہوں گی بالکل جس طرح پانی کی سطح پر کشتی کے چلنے کی وجہ سے پانی میں لہریں پیدا ہوتی ہیں یا کوئی تیزی سے دوڑتی ہوئی گاڑی ہوا کو چیرتے ہوئے اس میں اضطراب پیدا کرتی ہے، مگر پانی یا ہوا کی موجوں کی طرح ہم یہ “ایتھری اضطراب” دریافت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ زمین کی حرکت کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرتا اور زمین اس کے اندر سے ایسے گزر جاتی ہے جیسے بادِ نسیم درختوں سے! سائنسدان ایتھر کو دریافت کر کے دراصل اس کی نسبت سے زمین (اور دیگر سیاروں) کی رفتار ناپنا چاہتے تھے، کیونکہ کائنات میں صرف وہی ایک ممکنہ ساکن شئے ہوسکتی تھی، یعنی سیاروں کی اس کے اندر حرکت سے اس میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، چنانچہ زمین کی مطلق رفتار معلوم کرنے کے لیے اسے کسی ایسی شئے سے منسوب کرنا لازمی ہے جو مطلق
ساکن ہو، اور چونکہ کائنات میں ہمیں کوئی ایک شئے بی ساکن حالت میں نہیں مل سکتی، اس لیے زمین کی رفتار ہمیشہ متحرک چیزوں سے منسوب رہتی ہے، اور ساکن ایتھر ہی وہ واحد امید ہے جو اس میں زمین کی مطلق رفتار بتا سکتا ہے..
مگر .. اسے کس طرح دریافت کیا جائے؟

image

                                           میکلسن 1852ء تا 1931ء

ہم تصور کرتے ہیں کہ زمین ایتھر میں اس طرح تیر رہی ہے جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے، کسی خاص معینہ وقت میں مچھلی جو مسافت موجوں کے خلاف (برعکس) چلتے ہوئے طے کرے گی وہ اس مسافت سے کم ہوگی جو اسی وقت میں وہ موجوں کے ساتھ تیرتے ہوئے طے کرے گی. ایسے ہی ایک تصور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکی سائنسدان میکلسن نے ایک حساس آلہ تیار کیا، اس آلے کا کام تھا ایتھر میں روشنی کی رفتار ناپنا جبکہ زمین اس کی طرف بڑھ رہی ہو، اور پھر تب ناپنا جب زمین اس سے دور جا رہی ہو، تو اگر ایتھر میں زمین کی حرکت کی وجہ سے کوئی ارتعاشی یا اضطراب لہریں پیدا ہوتیں تو یقیناً اس میں (ایتھر میں) روشنی کے زمین کی طرف آنے اور جانے کی رفتار میں فرق ہوتا.

چلیے اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں، روشنی کی رفتار 186 ہزار میل فی سیکنڈ ہے.. ہم فرض کرتے ہیں کہ زمین ایتھر میں ہزار میل ف سیکنڈ (در حقیقت اپنے مدار میں زمین کی رفتار .18 5 میل ف سیکنڈ ہے،ہم نے آسانی کے لیے فرض کیا ہے کہ زمین کی رفتار 1000 میل ف سیکنڈ ہے تاکہ عدد کا کوئی مطلب بن سکے) کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے، اس صورت میں اہلِ زمین کے لیے روشنی کی رفتار 185 ہزار میل فی سینکڈ ہوگی جب ایتھر میں روشنی زمین کی حرکت کی سمت
سفر کرے گی.. لیکن اگر روشنی زمین کی حرکت کے برعکس سفر کر رہی ہو تب اس کی رفتار 187 ہزار میل فی سیکنڈ ہوگی.
یہاں ہم زیادہ علمی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے، ہمیں میکلسن اور بعد میں میکلسن اور مورلے کے تجربے کا نتیجہ ہی کافی ہے.. انہوں نے پایا کہ روشنی کی رفتار کبھی تبدیل نہیں ہوتی، اور نا ہی یہ ایتھر میں سفر کے دوران زمین کی حرکت سے متاثر ہوتی ہے.

جب 1887ء میں میکلسن اور مورلے نے اس نتیجے کا اعلان کیا تو علمی حلقے نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ سائنسدانوں کے عقیدے بهی متزلزل ہوگئے.. تجربہ کئی بار دہرایا گیا، حتی کہ یہ اتنا حساس کردیا گیا کہ اگر زمین کی حرکت ایک میل فی
سیکنڈ بھی ہوتی تب بھی تبدیلی دریافت کر لی جاتی.. حالانکہ زمین کی رفتار .18 5 میل فی سیکنڈ ہے.. اس کے باوجود نتیجہ ایک ہی رہا.. یعنی ایتھر میں روشنی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا.
یہاں تک ایتھر کا تصور اپنی تمام تر لہروں اور اضطرابات کے ساتھ زمیں بوس ہوجاتا ہے.. ساتھ ہی سائنسدان ایک اور ٹینشن میں پڑ جاتے ہیں.. صرف اس لیے نہیں کہ ایتھر کا کوئی وجود نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ میکلسن اور مورلے کے اس اہم تاریخی تجربے نے ایک اور عجیب حقیقت دریافت کر لی جو ہماری زندگی میں ہر منطقی چیزوں کے برخلاف تھی..
وہ
یہ کہ کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے روشنی کی رفتار وہی رہتی ہے.. یہ اپنے چھوڑے جانے کے مصدر کی حرکت سے کبھی متاثر نہیں ہوتی.

ایتھر کے نظریے کو بچانے کے لیے دو سائنسدان اپنے اپنے طور پر سامنے آئے، یہ تھے لیڈن یونیورسٹی سے ہینڈرک لورینٹز اور
ڈبلن یونیورسٹی سے فیٹزجیرلڈ، کچھ ریاضیاتی مساواتوں سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بہت زیادہ رفتار سے حرکت کرنے والی کوئی بھی شئے حرکت کی سمت میں سمٹنا شروع ہوجائے گی.. رفتار جتنی بڑھے گی.. وہ اتنا ہی سمٹے گی.. انہوں نے
کہا کہ قلیل مقدار میں یہی سمٹاؤ میکلسن اور مورلے کے آلے کے ساتھ ہوا جس کی وجہ سے وہ ایتھر میں زمین کی حرکت کی وجہ سے روشنی کی رفتار کا فرق نہیں ناپ سکے (اس سمٹاؤ کی بعد میں وضاحت کی جائے گی). جیسے ایک بار پھر ہم یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ ایتھر موجود ہے اور روشنی کی رفتار حرکت سے متاثر ہوتی ہے..
یہاں ہم ایک متضاد بند راستے تک پہنچ جاتے ہیں..
کس پر یقین کریں؟ .. کیا میکلسن اور مورلے پر یقین کریں جن کا تجربہ قطعی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ روشنی کی رفتار کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں ہوتی؟ ..
یا فیٹزجیرلڈ اور ہینڈرک لورینٹز پر یقین کریں جنہوں نے اپنی مساواتوں سے ثابت کیا کہ چیزیں زیادہ رفتار پر سکڑنا شروع ہوجاتی ہیں؟
در حقیقت دونوں باتیں درست ہیں..! جیسے ہم معاملے کو مزید پیچدہ کر رہے ہوں.
انیسویں صدی تمام ہوتی ہے، اور کوئی اس تضاد کا عقدہ حل نہیں کر پاتا، اس کے پیچھے ایک بہت بڑا راز تھا جسے بیسویں صدی کے شروع میں صرف 26 سال کی عمر میں البرٹ آئن سٹائن نے دریافت کر ڈالا.
آئن سٹائن کی آمد سے پہلے مروجہ متضادات نظریات اور بحث پر ایک نظر ڈالنی ضروری تھی..
اضافیت کا تصور آئن سٹائن کی آمد سے پہلے ہی جانا پہچانا تھا.. جرمن طبیعات دان ہیرمن مینکوفسکی اس کی طرف اشارہ کر چکے تھے جو زیورخ یونیورسٹی میں آئن سٹائن کے استاد تھے اور شاگرد کو اس سے روشناس کرا چکے تھے، مگر استاد وہ دریافت نہ کر سکا جو اس کے شاگرد نے دریافت کر دکھایا تاہم اس کا سہرا استاد کی سوچ کو ہی جاتا ہے،
آئن سٹائن نے استاد کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا تھا: “یہ امر افسوس ناک ہے کہ اضافیت کی پیدائش سے ایک دن پہلے ہی مینکوفسکی مر گئے”


image

نظریہ ہم اضافیت اور کائنات ( حصہ اول )

یہ تحریر مکی کا بلاگ سے شئیر کی گئی ہے