ایسی مادائیں جنہیں نروں کی ضرورت نہیں

80 ملین سال سے بغیر جنسی ملاپ کے بچوں کی پیدائش

image

انسانوں یا دیگر جانداروں کے بارے میں ہمارا عمومی تاثر یہی ہے کہ جاندار ایک جوڑے یعنی نر اور مادہ پر مشتمل ہوتے ہیں. نر اور مادہ کے جنسی اختلاط سے ہی افزائش نسل ممکن ہوتا ہے.  اپنے بڑوں سے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ہر جاندار کا ایک جوڑا ہے، لیکن اگر کبهی ایسا ہو کہ آپ کا واسطہ ایسے جاندار سے ہو جائے جو کہ اپنے خاندان کی واحد قسم ہو اور اس کا دوسرا ساتهی نہ ملے اور صدیوں سے افزائش نسل کا سلسلہ بهی تواتر سے جاری رکهے ہوئے ہو تو آپ کے ذہن میں شاید بہت سے سوالات در آئیں. یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ بچے کیسے پیدا کرتے ہیں اگر وہ جنسی ملاپ بهی نہیں کرتے؟ بچے ہونے سے بالغ ہونے کے درمیان اس جاندار کے اندر اچانک سے بچے کہاں سے آ ٹپکتے ہیں؟ کہیں یہ معجزہ تو نہیں؟  کہیں ایسا تو نہیں کہ بتانے والا غلط بیانی سے کام لے رہا ہے؟

جنسی ملاپ مجموعی طور پر ایک اچهی چیز ہے. میں جانتا ہوں، آپ جانتے ہیں اور قدرتی انتخاب بهی یہ بات بخوبی جانتا ہے. لیکن  ان جانداروں کو یہ بتانے کی کوشش کریں کے جنسی ملاپ ایک اچهی چیز ہے.
یہ چهوٹے فقاری جاندار پچهلے 80 ملین سال سے بغیر جنسی ملاپ کے جیتے آ رہے ہیں.
للورق کیڑے سے لے کر کوموڈو ڈریگن تک کئی ایسے جاندار ہیں جو وقتاً فوقتاً اپنی افزائش نسل بغیر کسی جنسی ملاپ کے جاری رکهتے ہیں.

(Komodo dragon) کوموڈو ڈریگن

image

ان کی دریافت سے لے کر اب تک ایک بهی نر تلاش نہیں کیا جا سکا اور یہ تمام کی تمام مادہ ہیں. ان کی دنیا میں صرف مادہ نسل رہتی ہے. جینیاتی مطالعہ سے اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ یہ مستقل طور پر غیرجنسی ہیں اور تمام مادائیں اپنے جیسی جینیاتی پہچان رکهنے والی صرف مادہ نسل پیدا کرتی ہے.  
اب تک تقریباً  فقاری جانوروں کی 70 اقسام دریافت ہوئی ہیں ، جس میں سانپ، بڑی چهپکلی ( کوموڈو ڈریگن)، وہپ ٹیل چهپکلی کا نام ہے.  جب کہ بغیر جنسی ملاپ کے مختلف طریقہ کار میں للورق کیڑے اور ڈیلوئیڈز روتیفرز سر فہرست ہیں.

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ مادائیں نر کے بغیر بهی زندہ رہ سکتی ہیں کم سے کم کوموڈو ڈریگن، ڈیلوئیڈز روتی
رز وغیرہ نے اسے ثابت کر دیا ہے جنہوں نے جنسی اختلاط کے بغیر ہی بچے پیدا کر دکهائے ہیں.

image

پارتهینوجینئسس ایک ایسا طریقہ کار جس میں غیر بارآور انڈوں سے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے
لندن کے چڑیا گهر چیسٹر میں فلورا نام کی کوموڈو ڈریگن مادہ نے آٹھ انڈوں دئیے اور ان کو سینچنے کے بعد آٹھ بچے پیدا کیے اور یہ سارے انڈے پارتهینوجینئسس عمل کا نتیجہ ہیں جس کا مطلب ہے کنواری مادہ کے بچے..

اس سے پہلے یہ طریقہ کار کوموڈو ڈریگن میں کبهی مشاہدہ میں نہیں آئے.
چیسٹر چڑیا گهر کے مالک کیوین بیولے اور اس کے ساتهی محقق نے اس دریافت کے بعد کہا..
” پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک کنواری نے بچے پیدا کیے”

اس طرح کے طریقہ کار میں مادہ منویہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے.
کچھ چهپکلیوں میں صرف مادہ چهپکلیاں موجود ہیں اور وہ اپنے جیسی مادہ ہی پیدا کرتی ہیں.  جب کہ چند نسلیں ایسی بهی ہیں جو کہ صرف دونوں طریقوں یعنی بغیر جنسی ملاپ کئے اور ملاپ کے ذریعے بهی بچے پیدا کرتی ہیں.
بڑی چهپکلی کوموڈو ڈریگن دونوں طریقوں پر عمل کرتی ہیں اور اس کا انحصار ان کے ماحول پر ہے. بہت سے چڑیا گهروں میں ان کو نر ساتهی سے دور اکیلا رکها جاتا ہے.
لیور پول یونیورسٹی سے تعلق رکهنے والے فلپ واٹس نے جینیاتی تجزیے کے لئے ان چهپکلیوں کے انڈے لیبارٹری میں چیک کئے. مختلف ٹیسٹس کے بعد تصدیق کی گئی کہ انڈوں کے اندر موجود سارا جینیاتی مادہ صرف ماں فلورا سے لیا گیا تها اور انڈے کی ماں اور باپ وہی مادہ چهپکلی فلورا تهی.

نر اور مادہ دونوں میں ایک اطناب (meiosis) ہوتا ہے  جو کہ جنسی خلیات کو مادہ منویہ اور انڈے بنانے کے لئے تقسیم کرتا ہے. مادہ میں اطناب چار “پدر انڈے خلیات” بناتا ہے جس میں سے ایک انڈہ بنتا ہے جبکہ باقی تین مادہ کے جسم میں دوبارہ جذب ہو جاتے ہیں.  فلورا مادہ چهپکلی کے لئے ایک اضافی خلیہ،  سروگیٹ نطفے کا کام کرتا ہے اور انڈے کی بڑهوتری کرتا ہے.

صرف ماں فلورا سے پیدا ہونے کی وجہ سے اسے کے بچوں کی جینیاتی پہچان بلکل ماں جیسی ہو گی. لیکن وہ بچے فلورا کے کلون نہیں ہوں گے کیونکہ انڈے کے بننے کے دوران پہلے وہ جینیاتی طور پر خلط ملط ہونے کے بعد انڈہ مکمل ہوتا ہے.

(Whiptail) شلاق دم چهپکلی

image

چهپکلی کی ایک اور نسل سنیمی ڈوفورس جو کہ جانداروں کی ٹئیڈائی خاندان سے تعلق رکهتی ہے، عام لوگ اسے شلاق دم والی ( whiptail ) یا ریس لگانے والی چهپکلیاں کہتے ہیں.
2002ء میں ٹی-ڈبلیو ریڈیر کی جانب سے شلاق دم نسل کی اصطلاحاتِ فہرست دوبارہ مرتب کی گئی.

image

سنیمی ڈوفورس نسل کی انواع میں بهی کچھ اقسام ایسی ہیں جن میں ایک بهی نر نہیں ہے. یہ چهپکلیاں پارتهینوجینس طریقہ کار سے اپنی افزائش نسل کرتی ہیں.  افزائش کا یہ عمل حشرات میں شہد کی مکھیوں اور للورق ( aphids ) نامی کیڑے میں پایا جاتا ہے، لیکن فقاری جاندار میں یہ عمل بہت کم دیکهنے کو ملتا ہے.

ان انواع میں نر کے بغیر افزائش نسل کا یہ طریقہ کار،  عمل پیوند زنی ( hybridization ) یا عمل خصوصیات بین پرورش ( interspecific breeding ) کہلاتا ہے.

( Bdelloids rotifers ) ڈیلوئیڈز روتیفرز

image

  

ارتقائی ماہر حیاتیات کو اس مسئلے کی وضاحت کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا کہ آخر کیسے ڈیلوئیڈز روتیفرز باقی جانداروں کی اختیار کردہ حکمتِ عملی کو رد کر کے جانوروں کی بادشاہ بن بیٹهی.
آخرکار کیمبرج یونیورسٹی سے نتالیا پوشینا ستینتشوا ، ایلن ٹیوناکلف اور ان کے ساتھیوں نے مل کر یہ دریافت کیا کہ وہ آخر ایسا کیسے کرتی ہیں.؟

جنسی ملاپ کرنے والے جانوروں میں ایک ایک جین کی دو دو نقول ہوتی ہیں اور ان میں خفیف سا فرق ہوتا ہے.
لیکن غیر جنسی ڈیلوئیڈز کا طرز زندگی ان کو ایک نئی سمت میں لے جانے کی اجازت دیتا ہے، ان کے ہر جین کی جوڑی میں موجود نقول ایک دوسرے سے تعلق توڑ لیتے ہیں اور انہیں ایک جین کی قیمت میں دو جینز حاصل ہو جاتے ہیں. 

جنسی ملاپ کے ظاہری  فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ جینیاتی تنوع میں یہ سخت امتحان میں سے گزرتے ہیں. جانور جین کا ایک جوڑا اپنی ماں اور ایک جوڑا اپنے باپ سے حاصل کرتے ہیں.  یہ جوڑے ایمبریو میں متحد ہوتے ہیں اور آپس میں مل کے ایک تخلیق کا باعث بنتے ہیں.
یہ جینیاتی اختلاط ان افراد میں فائدہ مند میوٹیشن کو متحد کر سکتی ہے جس سے مزید فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں. جبکہ یہ ان افراد میں نقصان دہ میوٹیشنوں کو بهی متحد کر سکتی ہے جو کہ فطرتی ماحول میں غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں. 
اس کا مطلب ہے کہ جنسی ملاپ دونوں طریقوں یعنی فائدہ مند میوٹیشن کے پھیلاؤ اور نقصان دہ میوٹیشنوں کو ختم کرنے کی رفتار بڑها دیتا ہے.

image

غیر جنسی افزائش نسل کا طریقہ اس طرح کی کسی خوبی سے لیس نہیں ہوتا.
کچھ سائنسدان اس غیر جنسی طریقہ کار کو بے فائدہ اور بےکار قسم کی طویل مدتی حکمت عملی سمجهتے ہیں کیونکہ یہ نئے حالات اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے موزوں ماحول کو اپنانے کے قابل نہیں رہتے.  لیکن ڈیلوئیڈز خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ مستقل غیر جنسی رویہ کام کرتا ہے اور ان کے پاس اپنی جینیاتی تنوع تخلیق کا طریقہ کار موجود ہے.

جنسی ملاپ کے ساتھ جینیاتی بدل جس میں ہر فرد کے پاس ہر جین کی دو نقول ہوتی ہیں جو کہ تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں. ان دو نقول میں خفیف سے اختلافات کے بہت واضح اثرات ہو سکتے ہیں. لیکن ان نقول میں فرق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے.
مثال کے طور پہ،  اسی روتیفرز کی دوسری اقسام جو کہ ابهی تک جنسی ملاپ کرتی ہیں،  ان میں ایک انفرادی جین کا جوڑا 97.6 فیصد ایک دوسرے جیسا ہے.
لیکن غیر جنسی ڈیلوئیڈز میں، ایک مادہ کی ہر جین کی دونوں نقول اسے اپنی ماں سے ملیں گی اور وہ کبهی ملاپ  نہیں کریں گی. یہ طریقہ کار انہیں اپنی زندگی میں بغیر کسی ساتهی کے اپنی زندگی کا کردار نبهانے کی آزادی دیتا ہے.

پوشینا ستنتشیوا نے اس کا ثبوت ڈیلوئیڈز کے “ایل ای اے نامی خلیہ” میں تلاش کر لیا. اس جین کی دونوں نقول ایک دوسرے سے 14 فیصد مختلف تهی. یہ فرق پروٹینز میں تبدیل ہو کے مختلف افعال اور ڈهانچہ تشکیل کرتا ہے.
ڈیلوئیڈز تازہ پانی کے تالابوں میں رہتے ہیں لیکن خشک علاقوں، نامساعد حالات اور خشک سالی کے ادوار میں بهی طویل عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں. دونوں (ایل ای اے پروٹینز) اس کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن وہ صرف تکمیلی طریقوں میں ایسا کرتے ہیں. 
ورژن اے پروٹین، مالیکیولر ڈهال کا کردار ادا کرتا ہے اور بے کار جهنڈ جب خشک ہوتے ہیں ان کے اندر حساس پروٹین کو اکٹها ہونے سے روکتا ہے.
ورژن بی پروٹین،  خود کو فیٹی جھلیوں میں مقید کر لیتا ہے جو کہ تمام خلیات کو گهیرے ہوتی ہے جس سے فیٹی جھلیوں کو مستحکم رہنے میں مدد ملتی ہے.

image

ایک ہی جین کی دو نقول دو الگ الگ راستوں پر بهیجنے کا عمل ان ڈیلوئیڈز روتیفرز کو خشک سالی سے بچاؤ کے لیے ارتقائی سفر میں قدرتی انتخاب نے انہیں مہیا کیا تها. محققین کے مطابق پروٹین تنوع پر ایک کی قیمت میں دو جین کے ایک معاہدے سے انہیں جنسی ملاپ نہ کرنے کے نقصانات کی تلافی کرنے میں مدد ملتی ہے. 

جنسی ملاپ میں جینیاتی گڈمڈ کے دوران، اس “جین نقل عمل” سے ملتے جلتے بہت بڑے ارتقائی اقدامات پیش آئے اور ایک جین غلطی سے اضافی نقل بنا بیٹها اور اس اضافی فالتو نقل نے مفت میں خود کو دہرانا شروع کر دیا جس سے نئے عوامل ظہور پذیر ہونے شروع ہو گئے.

ڈیلوئیڈز بنیادی طور پر یہی طریقہ کار استعمال کرتی ہیں جس وجہ سے انہیں اپنے جین کی نقل بنانے کی ضرورت پیش ہی نہیں آتی کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی دو خودمختار نقول موجود ہیں. 
یہ وہ حکمت عملی ہے جو انہیں واپس پیچهے نہیں لے جا سکتی. اس وقت دنیا میں ڈیلوئیڈز روتیفرز کی تقریباً 400 اقسام موجود ہیں. 

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ غیر جنسی جانوروں کے زندہ رہنے کا راز ان کا زندگی کی سادہ اشکال سے غیر نسلی ذرائع سے ڈی این اے کا حصول ممکن بنانا ہے. مطالعہ میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ غیر جنسی جانوروں میں فعال جینز کے 10 فیصد خردبینی ڈیلوئیڈز، انہیں بیکٹریا اور دیگر حیاتیات مثلاً فنجی اور الجی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں. 

کیمبرج یونیورسٹی سے اس مطالعہ کے اہم مصنف پروفیسر ایلن ٹیوناکلف نے اس دریافت کے بعد ڈیلوئیڈز کی تعریف میں نیا اضافہ کیا…
” ایک نئی عجیب و غریب خوبی ایک ایسی چهوٹی مخلوق کی، جو  پہلے ہی بہت عجیب تهی ”

اس بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے ٹیوناکلف نے اپنی دستاویز میں کہا کہ  “ہم نہیں جانتے کہ یہ جین کی منتقلی کیسے ہوتی ہے. لیکن جین کی منتقلی تقریباً ان کے کهانے سے منسلک ہے جس سے ان کا ماحول پہلے ہی بهرا ہوتا ہے، اور ڈی این اے کهانے میں ہی نگل جاتے ہیں.
ڈیلوئیڈز اپنے سر سے چهوٹے سائز کی تمام اشیاء کها جاتی ہیں.  بہت سے غیر جنسی جاندار اس لئے خود کو غیر جنسی بنا لیتے ہیں کیوں کہ جینیاتی تنوع کی کمی اور میوٹیشن بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ بالآخر صرف ایک مادہ کے ڈی این اے سے افزائش کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں. 

زندگی میں اس طرح غیرجنسی تنوع کی غلطیوں سے بچنے کے لئے ان میں ایک اجنبی خلیے کی کارکردگی قابل قدر ہے جو کہ پانی کی انتہائی کمی کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکهتا ہے.
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چند اجنبی خلیات نے اپنا کام اس وقت شروع کر دیا تها جب ڈیلوئیڈز روتیفرز میں پانی کی کمی کی وجہ سے کمزور ہونا شروع ہو گئے تهے. ڈیلوئیڈز کو مکمل طور پر خشک سالی میں بهی بچانے کے پیچهے بهی انہی خلیات کا بطور طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس کا کردار ہو سکتا ہے.
ٹیوناکلف نے مزید آضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ، ڈیلوئیڈز اپنے طاقتور ڈی این اے کو رپئیر کرنے کے میکنزم میں بهی کامیاب ہو چکی ہیں جس کے لئے انہیں ان جین کے نقول جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے.

اردو سائنس بلاگ کی طرف سے لائیو سائنس, ہفنگٹن پوسٹ اور سائنس بلاگ کی ویب سائٹس سے استفادہ کیا گیا..!!