ستاروں کا ارتقاء

ستاروں کے ارتقائی مراحل

image

سن 185 ء میں چینی ماہر فلکیات نے ایک انتہائی چمکدار ستارے کے بارے میں لکھا، جس کو کو آسمان میں غائب ہونے میں 8 ماہ لگے۔ یہ ستارہ انتہائی چمکدار تھا اور شہابیے کی مانند آسمان میں سفر نہیں کرتا تھا۔ یہ مشاہدہ سپر نووا(Super Nova) کے پھٹنے کی قدیم ترین شہادت ہے، گیسوں کے بادل RCW 86 کو اسی سپر نووا دھماکے کا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ مگر قدیم لوگوں کے لئیے یہ صرف ایک ستارہ تھا، اور ستارہ تو ستارہ ہوتا ہے،
یہ بات درست نہیں ہے

image

ستاروں کی بہت سی اقسام ہیں، چھوٹے بھورے بونے ستاروں(Brown Dwarf Stars) سے سرخ دیو(Red Giant) اور سپر جائنٹ(Super Giant) ستاروں تک، بہت ہی حیرت انگیز قسم کے ستارے ہیں جیسا کہ نیوٹران ستارے(Neutron Stars) اور وولف رائٹ ستارے(Wolf Rayet Stars)۔

ستاروں کی زندگی کا سب سے پہلا مرحلہ قبل الستارہ (Proto Star) ہے، یہ ستارے کے بننے سے پہلے کا مرحلہ ہے، قبل الستارہ مرحلہ گیس مالیکیولز کا ایک ایسا بادل ہوتا ہے جو اپنی کشش ثقل کے باعث سکڑ رہا ہوتا ہے۔ ستاروں کے ارتقاء میں قبل الستارہ مرحلہ تقریباً 100000 سال پر محیط ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، کشش ثقل اور دباؤ بڑھتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بادل مزید سکڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ بادل جتنی بھی قوت خارج کرتا ہے وہ کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی گرمی کے باعث ہوتی ہے، کیونکہ ابھی تک اس میں تابکار نیوکلیائی فیوژن(Nuclear Fusion) کا نظام شروع نہیں ہوا ہوتا۔

نیوکلیائی فیوژن ایک ایسا نظام ہے جسکے باعث ستاروں کے مرکز میں کشش ثقل کے شدید دباؤ اور انتہائی شدید درجہ حرارت کے باعث ہلکے عناصر ملکر بھاری عناصر بن جاتے ہیں، تمام  بھاری عناصر جیسا کہ ہمارے جسموں میں لوہا اور کاربن اسی عمل کا نتیجہ ہیں۔

ٹی تاؤری ستارے(T Tauri Stars)

image

ٹی تاؤری مرحلہ ستاروں کے ارتقاء میں مرکزی سلسلے(Main Sequence) کے ستارے بننے سے بالکل پہلے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ قبل الستارہ مرحلے کے آخر پر آتا ہے، اس مرحلے میں کشش ثقل اور دباؤ ہی ستارے کی تمام قوت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ٹی تاؤری ستاروں میں اتنا شدید دباؤ اور درجہ حرارت نہیں ہوتا کہ انکے مرکز میں نیوکلیائی فیوژن کا عمل شروع ہو سکے، مگر یہ مرکزی سلسلے کے ستاروں سے مماثلت رکھتے ہیں، انکا درجہ حرارت تقریباً مرکزی سلسلے کے ستاروں کے برابر ہی ہوتا ہے مگر یہ زیادہ چمکدار اور حجم میں بڑے ہوتے ہیں۔ ٹی تاؤری ستارے پر بہت بڑے بڑے شمسی دھبے ہوتے ہیں، اور ان سے شدید ایکس رے شعاعوں اور ستاراتی آندھی(Solar Winds) کا اخراج ہو رہا ہوتا ہے۔
ستارے تقریباً دس کروڑ سال تک ٹی تاؤری مرحلے میں رہتے ہیں۔

ہماری کہکشاں کے زیادہ تر ستارے اپنی عمر کے مرکزی سلسلے(Main Sequence Stars) کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ہمارا سورج بھی ایک مرکزی سلسلے کا ستارہ ہے، اور ہمارے قریبی ستارے سیریئس(Sirius) اور ایلفا سنتیوری اے(Alpha Centauri A) بھی مرکزی سلسلے کے ستارے ہیں۔ مرکزی سلسلے کے ستارے حجم ، مادے اور چمک کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ، مگر یہ سب ایک ہی طرز پر ہائیڈروجن گیس کو ہیلیم گیس میں تبدیل کرتے ہیں، جسکے باعث بے شمار توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔

ایک ستارہ جو مرکزی سلسلے میں ہوتا ہے وہ مائین ساکن توازن(Hydrostatic equilibrium) میں ہوتا ہے۔ کشش ثقل ستارے کو اندر کی جانب دبائے رکھتی ہے اور فیوژن نیوکلیائی ردعمل کی وجہ سے باہر کی طرف لگنے والی قوت کشش ثقل کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک توازن بنائے رکھتی ہے ، جس کی باعث ستارے کی کروی(Spherical) شکل برقرار رہتی ہے۔ مرکزی سلسلے کے ستاروں کا حجم انکے مادے کے مطابق ہوتا ہے۔

کم سے کم مادہ رکھنے والے ستارے جو کہ مرکزی سلسلے میں آ سکتے ہیں وہ سورج کی نسبت 8 فیصد مادہ رکھتے ہیں یا پھر سیارے مشتری سے 80 گنا زیادہ مادہ رکھتے ہیں۔ یہ کم از کم مادہ ہے جو اتنی کشش ثقل پیدا کر سکتا ہے کہ دباؤ کے باعث نیوکلیائی فیوژن ری ایکشن شروع ہو سکے۔ مرکزی سلسلے کے ستارے سورج سے 100 گنا زیادہ مادہ تک رکھ سکتے ہیں۔

image

جب ایک ستارہ اپنی تمام ہائیڈروجن استعمال کر لیتا ہے تو نیوکلیائی فیوژن کا عمل رک جاتا ہے اور ستارے میں بیرونی جانب لگنے والا دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ ستارے کے بیرون میں ہائیڈروجن کا ایک خول جلنا شروع ہو جاتا ہےجو ہجم میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ یہ بوڑھا ستارہ ایک سرخ دیو ستارہ(Red Giant Star) بن جاتا ہے، اور اپنی مرکزی سلسلے کی جسامت سے 100 گنا بڑا ہو جاتا ہے۔ جب یہ بیرونی ہائیڈروجن بھی ختم ہو جاتی ہے، تو ہائیڈروجن اور اس سے بھی بھاری عناصر کے خول بھی فیوزن کے عمل میں استعمال ہو جاتے ہیں اس مرحلے میں ستارے کو پلینٹری نیبیولا(Planetary Nebula) کہا جاتا ہے ۔ اس مرحلے میں ستاراتی آندھیوں کے ذریعے ستارے کی باہری گیس کی تہیں مرکز سے دور سے دور ہوتی جاتی ہیں، اور گول گول رنگین بادل بننے لگتے ہیں تقریباً اپنا تمام مادہ خلا میں خارج کر دینے کے بعد یہ ایک سفید بونا یا وائٹ دوارف (White Dwarf)بن جاتا ہے۔

جب ستارے اپنی تمام ہائیڈروجن استعمال کر چکے ہوتے ہیں، اور مادے کی کمی کے باعث مزید بھاری عناصر کو فیوژن کے عمل میں استعمال نہیں کر سکتے تو یہ سفید بونے ستارے(White Dwarf Stars) بن جاتے ہیں۔ فیوژن کے عمل کے باعث باہر کی طرف لگنے والا کم دباؤ ختم ہو جاتا ہے اور ستارہ اپنی ہی کشش ثقل کے باعث اندر کی جانب سکڑ جاتا ہے۔ سفید بونا صرف اسلئے چمکتا ہے کیونکہ وہ ایک وقت پر ایک انتہائی گرم ستارہ تھا، مگر فیوژن کا عمل رک چکا ہوتا ہے۔ سفید بونے ستارے کائنات کے کم ترین درجہ حرارت تک ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، مگر اس عمل میں سینکڑوں ارب سال لگتے ہیں، ابھی تک کوئی بھی سفید بونے ستارے اتنے ٹھنڈے نہیں ہوئے۔

ہماری کائنات میں سب سے عام طور پر پائے جانے والے ستارے سرخ بونے(Red Dwarf) قسم کے ہیں۔ یہ مرکزی سلسلے کے ستارے ہیں، مگر ان میں مادہ انتہائی کم ہوتا ہے جسکے باعث یہ ہمارے سورج سے کہیں کم درجہ حرارت رکھتے ہیں۔ انکی دوسری برتری یہ ہے کہ سرخ بونے ستاروں کے مرکز میں ہائیڈروجن حرکت میں رہتی ہے جسکے باعث یہ اپنے ایندھن کو کم استعمال کرتے ہیں۔ ماہر فلکیات کے اندازے کے مطابق کچھ سرخ بونے ستارے 10 کھرب سال تک چمکتے رہیں گے، سب سے چھوٹے سرخ ستارے 7.5 فیصد شمسی ہجم رکھتے ہیں، اور سورج سے آدھا مادہ رکھنے والے ستارے بھی سرخ بونے ہی بنتے ہیں۔

image

اگر ایک ستارے کے پاس سورج سے 1.35 یا 2.1 گنا زیادہ مادہ ہو تو یہ اپنی موت پر سفید بونے میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ، ستارہ ایک انتہائی شدید قیامت خیز سپر نووا دھماکے(Super Nova Explosion) سے پھٹ جاتا ہے، اور اسکا بچا ہوا مرکز ایک نیوٹران ستارہ(Neutron Star) بن جاتا ہے۔ جیسا کہ اسکا خوبصورت نام ظاہر کرتا ہے، نیوٹران ستارہ ایک انتہائی حیرت انگیز قسم کا ستارہ ہوتا ہے جو کہ مکمل طور پر نیوٹران کا مجموعہ ہوتا ہے، کیونکہ اس ستارے کی شدید کشش ثقل الیکٹران اور پروٹان کو جوڑ کر نیوٹران بنا دیتی ہے۔ اگر ستارے اس سے بھی بڑے ہوں تو وہ سپر نووا دھماکے کے بعد نیوٹران ستارے بننے کے بجائے بلیک ہول بن جاتے ہیں۔

کائنات میں پائے جانے والے سب سے بڑے ستارے سپر جائنٹ(Super Giant) ستارے ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی بڑے ستارے جو سورج سے درجنوں گنا زیادہ مادہ رکھتے ہیں۔ سورج کی طرح مستحکم ستاروں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، یہ سپر جائنٹ ستارے اپنی ہائیڈروجن کو انتہائی تیزی سے چند لاکھ سال میں استعمال کر جاتے ہیں۔ سپر جائنٹ ستارے کم عمری ہی میں مر جاتے ہیں، اور انتہائی شدید سوپر نووا دھماکے میں مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو سورج ہمارے نظام شمسی کا مرکزی ستارہ ہے یہ اپنی آدھی عمر گزر چکا ہے، یہ ایک مکمل طور پر گول گیند کی طرح ہے، اسکا قطر 1392684 کلومیٹر ہے جو کہ زمین کے قطر کا 109 گنا ہے، اسکا مادہ زمین کے مادے کا 330,000 گنا ہے، اور یہ نظام شمسی کے کل مادے کا 98.9 فیصد رکھتا ہے۔ سورج میں تین چوتھائی ہائیڈروجن ہے، باقی تمام ہی تقریباً ہیلیئم ہے جبکہ 1.69 فیصد ( جو کے زمین کے حجم کا 5,600 گنا ہے ) آکسیجن، کاربن، لوہے اور نیان جیسے بھاری عناصر ہیں۔

فی الحال سورج اپنی زندگی کے مرکزی سلسلے میں ہے اور اگلے 5.7 ارب سال تک یونہی رہے گا، پھر جب سورج اپنی ہائیڈروجن گیس استعمال کر چکا ہو گا، تو یہ سرخ دیو کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا اور ایک ایک کر کے یہ اپنے ہائیڈروجن اور ہیلئیم کے خول استعمال کرتے کرتے بھاری سے بھاری عناصر بناتے ہوئے، اپنا مادہ خلا میں خارج کرتا رہے گا، آخر کار ایک لمبے عرصے کے بعد یہ ایک سفید بونے میں تبدیل ہو جائے گا جو اسکے کھربوں سال تک مدھم روشنی کے ساتھ چمکتا رہے گا اور آخر کار کھربوں سال بعد ایک کالا بونا بن جائے گا۔

image

اس پوسٹ میں ہم ستاروں کی زندگی کی باتیں کر رہے ہیں جوکہ لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں سال پر محیط ہوتی ہے، کائناتی تناظر میں سورج انتہائی کم عرصے کے لئیے زندہ رہے گا، اسکے بعد یہ ختم ہو جائے گا 5.7 ارب سال بعد جب یہ اپنے سرخ دیوئی مرحلے میں داخل ہو گا تو یہ زمین کو ختم کردے گا، اس وقت انسان کہاں ہو گا شاید ہم دعوے سے نہیں کہہ سکتے، مگر دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو انسان ستاروں میں اپنے کئی نئے گھر تلاش کر چکا ہوگا یا پھر انسان اپنے تشدد پسند رویے کے باعث اکیسویں صدی میں ہی اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوگا کیونکہ ہم اپنی کم علمی، دقیانوسی عقائد اور ہٹ دھرمی کے باعث اسکو جہنم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ تحریر نوائے سروش کے فیس بک پیج سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s