نینڈرتهال کون تهے؟

نینڈرتهال

image

جن کے جسم
برفانی دور کے لئے
انتہائی موزوں و موثر تهے
لیکن کیوں
جب برفانی دور ختم ہوا
نینڈرتهال مر گئے..!!

نینڈرتهال کون تهے؟

1848ء میں جبرالٹر فوجی چوکی پر ایک غیر مانوس عجیب انسانی کهوپڑی ملی. بلاشبہ یہ ایک انسانی کهوپڑی تهی لیکن حیران کن طور پہ اس کهوپڑی میں ایک بندر کی بهی تمام خصوصیات موجود تهی.
یہ کهوپڑی پیشانی سے لے کر سامنے چہرے کی ساخت تک حیران کن مماثلت لئے ہوئے تهی.

یہ عجیب مخلوق کیا تهی؟ یہ کب اس زمین پہ بسا کرتے تهے؟ اس کی باقیات دریافت ہونے سے پہلے یہ دریافت کر لیا گیا کہ یہ پورے یورپ اور اس کے گرد و نواح میں رہا کرتے تهے. مزید شواہد ملنے اور ان کی باقیات دریافت ہونے کے بعد اس قدیم انسان نما مخلوق کا نام ہومو نینڈرتهالینسس دیا گیا اور انسان کی قدیم نسل نامزد کیا گیا.

آثارِ قدیمہ کے ثبوتوں سے انکشاف ہوا کے قریباً دو لاکھ سال پہلے یہ نینڈرتهال انسان یورپ میں رہا کرتے تهے اور تقریباً تیس ہزار سال پہلے یہ اچانک کرہ ارض سے غائب ہونا شروع ہو گئے.  یہ عین وہی وقت ہے جب آج کی انسانی نسل کا ظہور ہونا شروع ہوا.

image

تحقیقی معلومات کے مطابق ایک لاکھ سال پہلے نئی نسل کے انسانی آباؤ اجداد جو کہ بہترین دماغوں اور معیاری اوزاروں کے ساتھ افریقہ کے اطراف میں پهیلے ہوئے تهے. ہمارے آباؤ اجداد کی آبادی پهیل کے یورپی علاقوں میں پہنچی تو ان کا سامنا اپنے کزن نینڈرتهال سے ہوا.

لیکن کیا حقیقتاً نینڈرتهال بندر نما حیوانی نسل تهی یا ہم انسانوں کی کوئی نسلی حریف تهے. ؟ وہ کس طرح خاتمے سے دو چار ہوئے؟ اور کیا ہڈیوں میں اس طرح کا خودکار ارتقاء رونما ہو سکتا ہے؟
تحقیقات کے لئے ایک مکمل ڈهانچے کی ضرورت تهی اور اس وقت تک ایک بهی مکمل نینڈرتهال دریافت نہیں ہوا تها.
تاہم نیویارک میں امریکن نیچرل ہسٹری میوزیم میں ایک تعمیرِ نو کے ماہر نے اس بات کو ممکن بنایا کہ نینڈرتهال کے موجودہ دستیاب باقیات کے جزوی ڈهانچے سے ایک مکمل ڈهانچہ بنایا جا سکے.
گرے سوئیر نے ان تمام ٹوٹے ٹکڑوں کو اکٹها کیا اور اب تک کے تقریباً مکمل نینڈرتهال کی تعمیر نو کی.
اس نینڈرتهال کا قد 4 فٹ 5 انچ کے قریب تها لیکن وہ برفانی دور کے حساب سے ایک مضبوط قد کاٹھ اور جسامت کے مالک تهے. لیکن کیا وہ موجودہ انسانی نسل کے مقابلے میں سرد ماحول کا بہتر مقابلہ کر سکتے تهے؟

image

سرد دور کا ایک مقبول ترین تصور وہ دور جو سرد یخ جسم کو جما دینے والا دور ہے. لیکن قریباً کئی لاکھ سال پہلے یورپ کی آبو ہوا میں بہت بڑی تبدیلی آئی تهی جس میں گرم اور سرد ہوا کے طویل دور تهے.

لیکن آج نینڈرتهال کیوں باقی نہیں رہے حالانکہ دو لاکھ سال پہلے نینڈرتهال اس وقت سرد دور میں زندہ تهے جب زمین کا موسم آج کے مقابلے میں زیادہ ٹهنڈا اور کم گرم ہوا کرتا تها

نیو اورلینس کی ٹیولین یونیورسٹی سے تعلق رکهنے والے پروفیسر ٹرینٹن ہولیڈے جسمانی اعضاء کی منصوبہ بندی کے ماہر نے نینڈرتهال کے ڈهانچے کا معائنہ کیا ہے. پروفیسر کو یقین ہے کہ نینڈرتهال کے مختصر اعضاء اور ایک وسیع قفص صدوری ( Rib Cage ) کی وجہ سے یہ مختصر جسم گرمی کو برقرار رکهنے کا کام کرتا تها. اس کے علاوہ ان کی جلد کم اور زیادہ سردی سے بچاؤ میں بہت معاون ثابت ہوا کرتی تهی.

یہ دیکهنے کے لئے کہ یہ جسمانی ساخت ان کی بقاء میں کتنی مددگار ہوا کرتی تهی.

ماہر بشریات پروفیسر لیسلی ایلو نے لوفبروگ یونیورسٹی میں یو سی ایل سے تعلق رکهنے والے ڈاکٹر جارج ہیونتھ کے ساتھ مل کر ایک تجربہ کیا جو کہ انسانی جسم میں درجہ حرارت برقرار رہنے کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک لیبارٹری چلا رہے ہیں. 
انہوں نے دو انسانوں پر تجربہ کیا جو ایک دوسرے سے بلکل مختلف جسمانی مدافعت کے حامل تهے. انہیں برف سے ایک برفانی غسل دیا گیا.
ان میں سے ایک آدمی کے اعضاء لمبے اور کسی ایتھلیٹ کی مانند تهے جب کے دوسرے آدمی کا نینڈرتهال سے ملتا جلتا بهاری بهرکم مضبوط جسم تها.
بهری بهرکم مضبوط جسم والا شخص زیادہ دیر تک برفانی غسل میں لیٹا رہا، تو اس سے لگتا ہے کہ کیوں نینڈرتهال کے لئے یہ بهاری جسم فائدہ مند رہا ہو گا. نینڈرتهال کے پٹهے مدافعتی نظام اور اس کا چوڑی چهاتی اعضاء کو گرم رکهنے کا کام سرانجام دیتے ہوں گے.
اس کے باوجود اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ نینڈرتهال اپنے مدافعتی نظام کی بدولت شدید سرد دور سے بچنے میں کامیاب ہوئے ہوں گے. ایک قطبی بنجر زمین پر اس کے پٹهوں کو اس سے دوگنا خوارک کی بهی ضرورت تهی جتنی ہمیں آج ضرورت ہے. 

آثار قدیمہ کے ثبوتوں کے مطابق نینڈرتهال جنگلات کے کناروں پر آباد تهے جہاں وہ بڑے جانوروں جیسے سرخ ہرن، گھوڑے یا جنگلی بھینسوں کا شکار کیا کرتے تهے.
جنگل انہیں پناہ گاہیں اور نیزے بنانے کی لکڑی مہیا کرتے تهے.

image

سٹونی بروک یونیورسٹی نیویارک کے پروفیسر جان شیا،  نینڈرتهال کے اوزاروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے لکها کہ ان کے نیزے کا ڈنڈا موٹا اور بهاری تها، اگر وہ جنگل میں شکار کرنے جاتے تو کسی جانور پر یہ نیزہ پھینکنا بیکار تها. تو پهر وہ آخر شکار کیسے کیا کرتے تهے؟

اس سوال کے جواب کی نشاندہی پروفیسر ہولیڈے نے نینڈرتهال کے ڈهانچے میں کی، نینڈرتهال اپنے بائیں کی نسبت دائیں طرف سے زیادہ مضبوط تهے. اس لئے ان کی دائیں بازو سے گرفت مضبوط اور طاقتور تهی.
یہ دیکهنے کے لئے کہ، کیسے شکار کرنے کے لئے اعضاء میں تبدیلی آئی ڈیوک یونیورسٹی سے  پروفیسر سٹیوو چرچل نے ایک اور تجربہ کرنے کی ٹهانی.

ہالیڈے کے تجربات سے اخذ شدہ نتائج میں ہمیں پتہ چلا کہ نینڈرتهال گهات لگانے والے شکاری ہوا کرتے تهے. وہ شکار کو گهیرتے اس کے نزدیک پہنچتے اور نیزوں سے حملہ کر دیا کرتے. نینڈرتهال اب تک کی سب سے زیادہ گوشت خور نسل ہوا کرتے تهے.
لیکن ان کے خونخوار شکاری ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تها کے وہ ذہانت کے لحاظ سے سادہ لوح ہوا کرتے تهے. کیا ہمیں اس کے ڈهانچے سے اس بارے میں پتہ چل سکتا ہے؟  کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں قدیم دماغوں پر تحقیق کرنے کے ماہر پروفیسر رالف ہولووے نے اس بارے میں تحقیق کی ہے.

image

نینڈرتهال کی کهوپڑی پر پروفیسر کی تشخیص چونکا دینے والی تھی. اس کا حجم جدید نسل کے انسانوں سے 20 فیصد زیادہ تها. اس کهوپڑی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دائیں بازو سے کام کرتے تهے اور ان کا دماغ ہمارے جدید دماغ جتنا ہی پیچیدہ تها. ان میں سوچنے کی صلاحیت بهی ہمارے جیسی تهی.
لیکن ہمارے دماغ کی ایک اضافی صلاحیت بہت خاص ہے.
اور وہ یہ کہ ہم بول سکتے ہیں.
یہ خوبی ہمیں آج کی دنیا میں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہے.
تو کیا یہ معلوم کرنا بهی ممکن ہے کہ نینڈرتهال بهی بول سکتے تهے یا نہیں؟ 

اس مرحلے میں گلے پر تحقیق لازمی جزو تهی. حلق میں ایک چھوٹی ہڈی ہوتی ہے جسے لامی ہڈی ( hyoid ) کہا جاتا ہے. یہ ہڈی حلق کی نرم بافتوں کی حمایت کرتی ہے جس سے آواز نکالنے میں مدد ملتی ہے. سائنسدانوں کے چند گروپ کو ہڈیوں سے ان نرم بافتوں کا ماڈل بنانے کی کوشش کرنی تهی جس یہ دریافت ہو گا کہ یہ کس قسم کی آواز نکالنے کے قابل تھے. 

آئیووا یونیورسٹی سے تعلق رکهنے والے پروفیسر باب فرانسسکس ایک بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہیں جنہوں نے یہ کام سرانجام دیا. انہوں نے جدید انسان کے سکین تیار کئے اور ان کا مشاہدہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ،
حلق کے حصے کی نرم بافتوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ، لامی ہڈی اور لنگر کاری سائٹس کهوپڑی کے کس حصے پر واقع ہیں.

image

کمپیوٹر سے یہ پیشن گوئی کرنے میں مدد ملی کہ اکیلے لامی ہڈی کے اعداد و شمار کیا ہیں جس سے حلق کی نالی کی شکل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی.
پهر اسی مساوات کو نینڈرتهال کی مخر نالی کی شکل معلوم کرنے کے لئے نینڈرتهال کی کهوپڑی سے موصول شدہ اعدادوشمار کے ساتھ استعمال کیا گیا.

نینڈرتهال کی مخر (حلق) نالی جدید انسانی نسل کے مردوں سے لمبائی میں کم اور چوڑائی میں زیادہ تهی، جب کہ موجودہ عورتوں کی مخر نالی سے مشابہت رکهتی تهی.
جیسا ہم نے توقع کی ہے اس کی بجائے یہ بهی ممکن ہے کہ نینڈرتهال مردوں کی آواز اونچی اور بهاری ہو اور وہ چوڑے سینے، منہ، بڑے ناک کے نتھنوں سے زوردار، بلند، سخت آواز نکالنے کے قابل ہوں.

لیکن اس بات کی نشاندہی کرنے کے لئے کہ وہ موجودہ انسانوں کے کتنے قریب تهے ان کی مخر نالی میں ایسی کوئی وجہ نہیں ملتی کہ نینڈرتهال کیوں کوئی پیچیدہ آوازیں نکالنے سے قاصر تهے. 

image

وہ طاقتور تهے، انہوں نے خود کو زیادہ بہتر طور پر سردی کے مطابق اپنے جسم کو ڈهال لیا اور شاید زیادہ ذہین بهی تهے….
نینڈرتهال کو زندہ ہوناچاہئیے تها. لیکن کیسے ہم یہاں موجود ہیں اور نینڈرتهال ناپید ہو گئے.؟

ایسا لگتا ہے کہ، کسی بہت زیادہ بے ترتیبی نے یہ کام سر انجام دیا.
تقریباً 45,000 سال پہلے  یورپ کی آب و ہوا اچانک گرم سے سرد اور سرد سے گرم ہوئی تهی جس نے نینڈرتهال کا ماحولیاتی نظام تبدیل کر دیا.
جنگلوں کے وہ کنارے جو انہیں پناہ گاہیں مہیا کرتے تهے
میدانی علاقوں نے انہیں کم کرنا شروع کر دیا، پروفیسر شئیا کو یقین ہے کہ انہی میدانی علاقوں کی وجہ سے نینڈرتهال کے شکاری طور طریقوں کی حکمتِ عملی کام نہ آئی. جیسے جیسے ان کے شکار کرنے کا علاقہ سکڑتا گیا ان کی آبادی کم کرنے کا سبب بنتا چلا گیا.

نینڈرتهال سے موازنہ کیا جائے تو ہم انسان ہلکے پتهروں سے بنے ہوئے ہلکے وزن کے نیزے بنایا کرتے تهے. یہ نیزے ہمارے آباؤ اجداد کو اس قابل بناتے تهے کہ وہ کهلے میدانوں میں بهی مؤثر طریقے سے شکار کر سکیں. میدانی علاقوں میں شکار کی تلاش اور ان کا پیچھا کرنے کے لئے نیزہ اچهالنے کی اعلیٰ مہارت اور وسیع پیمانے پر خانہ بدوشی، نقل و حرکت کی ضرورت ہوا کرتی تھی. 
لیکن اس کے لئے یہ کیسے معلوم ہو گا کہ نینڈرتهال ہمارے آباؤ اجداد سے زیادہ پهرتیلے تهے یا کم.؟

اس کے لئے نینڈرتهال کے کان کے اندرونی حصے کا معائنہ کیا گیا، یو سی ایل کے پروفیسر فریڈ سپور نے نینڈرتهال کے کم پهرتیلے ہونے کا ثبوت دریافت کیا.
کان کی اندرونی سیمی سرکلر نہریں توازن کا احساس فراہم کرتی ہیں، اور مختلف جانوروں کا مطالعہ کر کے انہیں معلوم ہوا کہ کان کی اندرونی نہروں کے سائز اور پهرتیلے ہونےکا آپس میں گہرا تعلق ہے. 

انسانی ارتقاء کے دوران جیسے جیسے ہمارے پهرتیلے پن میں اضافہ ہوا کان کی نہروں کا سائز بهی بڑهتا چلا گیا.
لیکن نینڈرتهال کی کان کی نہروں کا سائز نا صرف جدید انسانوں بلکہ ہمارے آباؤ اجداد سے بهی چهوٹا ہوا کرتا تها جس کی وجہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کم پهرتیلے تهے.

image

ڈهانچے کی طرف واپس آتے ہیں،  پروفیسر ہالیڈے نے یہ دریافت کیا کہ نینڈرتهال کے مختصر اعضاء اور چوڑی ریڑھ کی ہڈی جدید انسانوں کی نسبت کم موثر حرکت دیتی ہو گی. ان مختصر اعضاء کے ساتھ سفر کے لئے جتنی زیادہ توانائی درکار ہے اتنی ہی خوراک کی فراہمی بهی درکار تهی جس کی کمی ارتقائی عمل میں نینڈرتهال کی بقاء کے لئے ایک سنگین نقصان ثابت ہوئی تهی.

نینڈرتهال کے لئے، یہ ایک بهیانک اختتام ثابت ہوا تها. نینڈرتهال کے پاس ایک انتہائی موزوں جسم جو برفانی دور کی مناسبت سے ڈهل چکا تها آخرکار انہیں ارتقائی عمل میں جانبر نہ کر سکا.
شاید وہ جدید انسانوں سے بہتر طور خود کو ڈهال سکتے تھے،  لیکن یہ ہمارے وہ باپ، دادا تهے جنہوں نے کهلے میدانوں کا فائدہ اٹهایا، جنہوں نے خود کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا، جو زندہ رہے..!!

یہ تحریر اردو سائنس بلاگ کے لئے بی بی سی کی ویب سائٹ سے ترجمہ کی گئی ہے. 

Advertisements

One thought on “نینڈرتهال کون تهے؟

  1. کمال محنت سے بنایا گیا بلاگ ہے۔ بے پناہ خوشی ہوئی۔ سب مخلص اہل ِ اُردو کو بھرپور معاونت کرنا چاہیے۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s