رونا کیا ہے؟

ہم کیوں روتے ہیں؟

image

ہم سب پر ایسے دن گزرتے ہیں جب سب برا اور غلط ہو رہا ہوتا ہے. صبح آپ کا الارم نہ بجنے سے کام سے دیر ہو رہی ہو اور چولہے میں گیس بهی نہیں ہے، آپ نے اپنے کپڑوں پر چائے گرا دی یا دس کاروں کے بیچ کہیں ٹریفک میں پهنس گئے. دن کے آخر میں آپ نہانا چاہتے اور پانی نہیں ہے، آپ رات کو بستر میں گهستے ہیں اور دن بهر کی تهکان اور گزرے دن کی پریشانیوں کا سوچ کے آپ کو رونا آ جاتا ہے.

بعض اوقات ہم میں سے کچھ کے حالات کی نوعیت اس وقت زیادہ کشیدگی اختیار کر لیتی ہے جس میں زیادہ سنگین اور تکلیف دہ صورت حال درپیش ہو آجائے،  جیسے کسی بیماری،اموات، پیدائش ( خاص طور پر ہمارے والدین یا بچوں کی ) وہ خاص سنجیدہ وجوہات ہیں جس میں ہم رونے لگتے ہیں.
رونے کی دیگر عام وجوہات میں پریشانی، ذہنی تناؤ، الجهن یا ٹیلی ویژن پر کوئی اداس فلم دیکهتے ہوئے رونا شروع کر دینا ہیں.

image

آپ کو کیا لگتا ہے کیا یہ وجوہات ہمیں ہمارے احساسات، جذبات کو ایسا ردعمل کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں؟

اس میں مضبوط اعصاب والے لوگ بهی دعوہ نہیں کر سکتے کے وہ روتے نہیں ہیں.
ہم انسان ابهی تک کی معلومات کے مطابق اس سیارہ زمین کی واحد عجیب مخلوق ہیں جو جذباتی آنسو بہاتے ہیں، اگرچہ ہاتهی اور گوریلے بهی آنسو بہاتے ہیں لیکن ابهی اسے جذباتی ثابت کرنے کے لئے مطالعہ کیا جا رہا ہے.

ہو سکتا ہے آپ میں سے کسی کو کچھ دن پہلے ہی رونے کا دورہ پڑا ہو اور آپ نے مگرمچھ کے آنسو بہائے ہوں، آپ کی آنکھوں سے نمکین پانی بہہ نکلا ہو. کون آخر صرف نمکین پانی بہانے کے لئے یہ عمل کرتا ہے؟

image

رونا کیا ہے؟

رونے کا عمل صدیوں سے چلا آ رہا ہے. تاریخی کہانیوں میں لکها ہے اسیسی کے راہب فرانسس نے اتنے آنسو بہائے کہ وہ اندها ہو گیا.
گزرے وقتوں میں اس موضوع پر تاریخی محققین اپنے پیاروں سے محبت کی اظہار کے لئے ان کے دکھ میں ہمدردی کے اظہار کے لئے یہ نفسیاتی ردعمل ظاہر کیا کرتے تهے.

پال ڈی میکلینز (ایم.ڈی ،پی ایچ ڈی)  کے مطابق ہمارے قدیم آباؤ اجداد کی آنکهوں میں دهواں پڑنے سے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے تهے جس سے ان کے آنسو بہنے لگتے تهے. ڈاکٹر میکلینز کا کہنا ہے کہ یہ وہ پہلے اضطراری عوامل تهے جس سے رونا ہماری نفسیات کا حصہ بن گیا.

image

ہم اپنی پیدائش کے ابتدائی چند ہفتوں اور مہینوں میں اپنی بنیادی ضروریات کے لئے روتے ہیں.  اگر ہمیں بہت بهوک لگے، نیند آ رہی ہو، گندے ہوں یا کوئی بہت باتونی پاس ہو، ہم روتے ہیں تا کہ ماں یا کوئی نگرانی کرنے والا ہمارا مسئلہ حل کرے. بچے جب بڑے اور بالغ ہونے لگتے ہیں تو اپنی ضروریات کو منوانے کی خاطر رونے کا طریقہ بهی بدل جاتا ہے جس سے ہمارے رونے کی آواز کی شدت، پچ اور لگاتار رونے کا طریقہ کار بدلنے کی ضرورت رہتی ہے.  
بچے 10 ماہ کی عمر تک اپنے رونے کا مقصد بدلنا شروع کر دیتے ہیں.  اس عمر میں چیزیں مانگنے کے علاوہ دوسرے مقاصد حاصل کرنے اور متوجہ کرنے کے لئے بهی رونا سیکھ جاتے ہیں. 
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہیں سے رونے کی عادتوں کا آغاز ہوتا ہے. چند مشاہدات کے مطابق عورتیں بهی اسی عمر میں روتے رہنے کو اپنی پوری زندگی کی عادت میں شامل کر لیتی ہیں تا کہ وہ دوسروں سے اپنا مقصد حاصل کر سکیں جو وہ چاہتی ہیں.  مثال کے طور پہ،  عورت سے معافی مانگنے کی ایک قسم ہے، یا تو افسوس کرو یا پهر ایک تحفہ چاہئیے.

image

تحقیق کے مطابق جب بچپن ختم ہوتا ہے تو لڑکے لڑکیاں ایک جتنا ہی روتے ہیں حتیٰ کہ ان میں ہارمونز کی بڑهوتری ہونا شروع ہوتی ہے. 
لڑکوں کے ٹیسٹوسٹیرون میں اضافے کے ساتھ ان کے رونے میں بهاری پن در آتا ہے. لڑکیوں کی ابتدائی بلوغت کی عمر میں ایسٹروجن کے اضافے سے اس کا بلکل برعکس ہوتا ہے. لڑکیوں میں رونے کا عمل خاص طور پر دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ پروٹین پرولیکٹن اور چهاتی کے دودھ بنانے کے عمل کا آپس میں گہرا تعلق ہے جو کہ صرف عورتوں میں ہی ہوتا ہے.  بائیو کیمسٹ اور محقق ولیم فرے اور شریک مصنف میورئیل لینگستھ جن کی تصنیف ” آنسوؤں کے اسرار” کے مطابق اسی وجہ سے عورتیں مردوں سے چار گنا زیادہ روتی ہیں.

فرے کے مطابق عورتوں کے جسم میں مردوں کے مقابلے 60 فیصد زیادہ پرولیکٹن ہوتا ہے. فرے کی تحقیق کے مطابق زیادہ پرولیکٹن ہونے کی وجہ سے بهی عورتوں کو زیادہ رونا آتا ہے کیونکہ پروٹین اینڈوکرائین نظام کو بڑھاوا دیتے ہیں جو کہ انسان کے زیادہ رونے کا سبب بنتے ہیں. 
ایک اور تحقیق کے مطابق اس بات کا مطالعہ کیا گیا کہ اوسطاً ایک سال میں کون کتنا روتا ہے. جس کہ مطابق ایک سال میں عورت تقریباً 64 مرتبہ جب کہ مرد صرف 17 مرتبہ روتے ہیں. 
ایک اور نظریہ مردوں کے کم رونے کی وضاحت کرتا ہے، کیونکہ مردوں میں پسینے کا اخراج بنسبت عورتوں کے زیادہ ہوتا ہے اور مردوں کے پسینے میں جذباتی آنسو کے ٹاکسن بهی پائے گئے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیوں مرد کم روتے ہیں.

رونے کی فریکوئینسی بهی دونوں جنس میں ایک جیسی نہیں ہوتی ہے.  مرد صرف اس وقت روتے ہیں جب کسی بهاری نقصان سے ان کا سامنا ہو، اور صرف اس وقت غصہ ہوتے ہیں جب وہ پریشان، بے چین یا مایوسیت سے دوچار ہوں.
عورتیں زیادہ تر عام سے دکھ یا تکلیف پر رونا شروع کر دیتی ہیں.  عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ اونچی آواز سے روتی اور مرد سے زیادہ آنسو بہاتی ہیں. 
اس کی وجہ مردوں کی آنکهوں میں آنسوؤں کے غدود عورتوں کی نسبت چهوٹے ہوتے ہیں. اس لئے مرد ایک بار میں عورت جتنے آنسو نہیں بہا سکتے ہیں. 

مردوں میں رونے کی عادت “اعصابی طور پہ کمزور” ہونے کی علامت سمجهی جاتی ہے.
محققین کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں میں کم رونے کی یہ ایک معقول وجہ ہے. 

رونے کا کیا مقصد ہوتا ہے، اس وقت درحقیقت کیا عوامل ہو رہے ہوتے ہیں جب آپ رو رہے ہوتے ہیں؟
پروٹین، پانی، بلغم اور تیل ملا ہوا ایک نمکین سیال مادہ آپ کی آنکھ کے اوپر، آنسوؤں کے غدود سے بیرونی سطح پر بہنے لگتا ہے. یہ سیال مادہ، جسے ہم آنسو کہتے ہیں آپ کی آنکھ سے نیچے کی جانب بہتا ہوا چہرے سے گزرتا ہوا ہوا کاجل پهیلاتا گزر جاتا ہے.

image

یقیناً تمام آنسو جذباتی اظہار کی غرض سے نہیں بہائے جاتے. آنسوؤں کی تین اقسام ہیں،  اور تینوں کی وجوہات مختلف ہیں.

باسل آنسو

باسل آنسو ہماری پوری آنکھ میں موجود ہوتے ہیں.  یہ آنسو ہماری آنکھ کو مکمل سوکهنے سے بچاتے ہیں.  ایک انسانی جسم ایک دن میں اوسطاً 5 سے 10 اونس کی مقدار میں باسل آنسو پیدا کرتا ہے. اس لئے تهکان کے بعد نہانے سے ہماری ناک بہنے لگتی ہے.

اضطراری آنسو

آنسوؤں کی دوسری قسم اضطراری آنسو ہیں جو انسانی آنکھ کی پیاز، دهول مٹی، دهوئیں کے خراش آور نقصانات سے حفاظت کرتے ہیں. 
اس عمل میں آنکھ کے کارنیا میں موجود حسی اعصاب اس پریشان کرنے والے مادہ کا سگنل یا جلن دماغی خلیات کو بهیجتے ہیں جو جوابی کارروائی میں ہارمونز کو آنکھ کی پتلی میں موجود غدود کی طرف بهیجتے ہیں. یہ ہارمونز آنکھ میں آنسو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو اپنے ساتھ پریشان کرنے والے مادہ کو بهی آنکھ سے باہر بہا لے جانے اور نجات دلانے کا کام کرتے ہیں.

جذباتی آنسو

تیسری قسم کے آنسوؤں میں جذباتی آنسو ہیں. یہ ہر اس صورتحال میں بہنے لگتے ہیں جو اداسی یا دکھ سے جڑی ہو.
اس قسم میں اینڈوکرائین نظام ہارمونز کو آنکھ کے آکیولر علاقے کی جانب بهیجتا ہے جس سے آنسوؤں کی تشکیل ہوتی ہے
جذباتی آنسو ان لوگوں میں عام ہیں جو کسی کو مرتے ہوئے دیکهتے یا جو بہت سے ذاتی نقصانات کا شکار ہو چکے ہوں. 

بہت سے لوگ اس جملے پہ یقین رکهتے ہیں کہ ” کبهی کبهی رونا ہمارے لئے نفسیاتی اور جسمانی طور پر بہتر ہے”
کچھ سائنسدان اس نظرئیے پر متفق ہیں، کہ جب ہم زیادہ کشیدگی سے گزر رہے ہوتے ہیں اس وقت دماغ میں چند کیمیکل تیزی سے تشکیل پا رہے ہوتے ہیں. ان محققین کا کہنا ہے کہ جذباتی آنسو جسم اس لیا بہاتا ہے کیونکہ وہ ان فضلاتی ٹاکسن مادوں سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے. 
جذباتی اور اضطراری آنسوؤں کا پیاز کاٹتے ہوئے اور ایک اداس فلم کو دیکهتے ہوئے نکلنے والے آنسوؤں کا تجزیہ کیا گیا.  مشاہدے سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق  سائنسدانوں کو اور بات پتہ چلی کہ یہ دونوں آنسو ایک دوسرے سے بلکل مختلف تهے. اضطراری آنسو 98 فیصد پانی تها جب کے جذباتی آنسوؤں میں کچھ دوسرے کیمیکل بهی شامل تهے.
ان کیمیکل میں ایک پروٹین ہے جسے پرولیکٹن کہا جاتا ہے جو کہ عورت میں دودھ کی پیداوار کو کنٹرول کرنے کا کام کرتے ہیں. دوسرے نمبر پہ ایڈرینو کورٹیکو ٹروپک ہارمونز بهی عام ہیں جو کہ زیادہ کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں.
اس کے علاوہ جذباتی آنسوؤں میں پائے جانے والے دوسرے دوسرے کیمیکلز میں لیوسین اینکیفالن ہے جو کہ درد کم کرنے اور رویے کو بہتر کرنے کے لئے ایک ایندروفن مرہم کا کام کرتا ہے.

image

بہت سے سائنسدانوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس موضوع پہ بہت کم تحقیق کی گئی ہےاور اس پر مطالعہ و تحقیق کی جانی چاہئیے.
جاپان میں چند لوگوں نے اس بات کو اہمیت دی ہے اور ایسے کلب اور لائبریریاں بنائی ہیں جہاں “کبهی کبهار رونا اچها ہے”  کے جملے پر عمل کیا جاتا ہے، لوگ وہاں جاتے ہیں اور ایسی اداس فلمیں اور اداس کتابیں پڑهتے ہیں جن سے انہیں رونا آجاتا ہے.

اسی طرح پیاز کاٹتے وقت آنسو بہنا عام سی بات ہے
کیا پیاز ہمیں واقعی رلاتے ہیں؟ پیاز صرف بدبودار سانس بنانے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ پیاز کاٹنے والے شخص کو رلانے کے ماہر ہیں. 
کانگریس لائبریری کے مطابق، اس کی وجہ پیاز کاٹتے وقت ہوا میں پهیلنے والے غیر مستحکم کیمیکل ہیں جو کہ رلانے کا سبب بنتے ہیں.
لیکریمیٹری عمل ( عمل گریہ ) نامی سنتهیزز انزائم کو رلانے کا زمہ دار سمجها جاتا ہے.
جب پیاز کٹتا ہے ایک انزائم پیاز سے خارج ہوتا ہے جو کہ پیاز میں موجود امینو ایسڈ کو سلفینک ایسڈ میں بدل دیتا ہے.
بعد میں سلفینک ایسڈ ایک دوسرے مادہ سین روپینتهیتهئیل ایس آکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ کاٹنے والے آدمی کے چہرے پر پڑتا ہے اور اس کی آنکهوں کے غدود میں سوزش پیدا کرتا ہے جس سے آنسو بہنے لگتے ہیں. 

جس طرح پہلے بتایا گیا ہے کہ لوگ اور سائنسدان رونے کو فائدہ مند سمجهتے ہیں. فرے کے مطابق رونے کا مطلب ہے جسم کا حفاظتی طریقہ کار جو کہ کشیدگی سے پیدا ہونے والے ٹاکسن کو جسم پر سوار نہیں ہونے دیتا.
آپ اس سوچ سے متفق ہوں یا نہیں لیکن بہت سے نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ مدت جذباتی طور پہ غم زدہ رہنے یا رونے کی زیادتی سے بهی بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں. 
تحقیق کے مطابق جذباتی آنسوؤں کی شدت دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ پیدا کر دیتی ہے.
جو لوگ ایسی صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں ان میں کولٹس اور السر کے لئے کم مثبت مدافعتی رویہ دیکها گیا ہے. 
اس سائنسی تحقیق کے بعد شاید اگلی بار اگر آپ کو کچھ حاصل کرنے کے لئے رونا ہو اور روتے وقت آپ کو یاد آئے کہ رونا بہت سی بیماریوں کا سبب بهی بنتا ہے تو اسی وقت اپنے آنسو پونچهئے اور اپنے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ بکهیرنا سیکهئے..!!

اس تحریر اردو سائنس بلاگ کی طرف سے How Stuff Work کی ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا..!!