ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

image

اگلی بار جب آپ کسی میٹنگ میں ہوں یا دوستوں میں بیٹهے ہوں تو ایک چهوٹا سا تجربہ کریں، ایک بڑی جمائی لیں اور اپنے منہ کو الٹے ہاتھ سے ڈهانپیں اور موجود لوگوں یا دوستوں کو دیکهیں کہ کتنے لوگ آپ کی پیروی میں یہی کچھ دوہرا رہے ہیں.

یہ ایک خوبصورت منظر ہو گا کہ سب بڑے کهلے ہوئے منہ لئے جمائیوں کا ایک تسلسل بنا لیں اور اس سے پہلے کہ آپ یہ تحریر ختم کریں آپ ایک جمائی لیں گے.

خیر ہمارا ارادہ آپ کو بور کرنے کا نہیں ہے، لیکن موضوع ہی جمائیاں لینے کا ہو تو جمائی آ بهی سکتی ہے، کیونکہ کسی کو جمائیاں لیتے دیکهنے اور جمائیوں کا ذکر سننے پر بهی آپ ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں.

تو آخر ایسا کیا پراسرار ربط ہے جمائیوں کے تسلسل بن جانے کے پیچهے؟

پہلے ہمیں یہ مشاہدہ کرنا ہو گا کہ یہ کیسی جسمانی تحریک ہے.؟  جمائی لینا ایک غیر ارادی جبری کاروائی ہے جس میں غیر ارادی طور پر ہم منہ کو کهولتے اور گہرا سانس اندر کهینچتے ہیں.

image

ہم جانتے ہیں کہ یہ جبری کاروائی ہے کیونکہ جمائیاں ہم اس وقت بهی لیتے ہیں جب ہم پیدا بهی نہیں ہوئے ہوتے.

اس سلسلے میں ایک ترقیاتی ادارے کی جانب سے بالٹی مور کاؤنٹی، میری لینڈ یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ رابرٹ پروون کی ایک تحقیق پیش کی گئی، جس میں گیارہ ہفتے کے جینین کو جمائی لیتے دکهایا گیا ہے.

ہم جمائی تقریباً چھ سیکنڈز کے لئے لیتے ہیں.
جمائی عام طور پر آرام کرنے اور غنودگی کے ساتھ منسلک ہے، جمائی لیتے وقت آپ کے دل دهڑکن 30 فیصد بڑھ جاتی ہے.
  جمائی لینا انگیختگی اور جنسی انگیختگی کا اشارہ ہے
( بحوالہ : الیگزینڈر ، زندگی کی کشیدگی )

جمائی لیتے وقت جسم کے بہت سے حصے مختلف کارروائیاں سرانجام دیتے ہیں. پہلے آپ منہ کهولتے ہیں جس کے نتیجے میں جبڑہ پورا نیچے چلا جاتا ہے اور آپ کے پھیپھڑے آکسیجن سے بهرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ہوا اندر کی جانب کهینچتے ہیں. آپ کا پیٹ پٹهوں کو اندر کی طرف خم دیتا ہے.
جو ہوا آپ اندر کهینچتے ہیں وہ آپ کے پھیپھڑوں کو وسعت دیتی ہے اور ضرورت کے علاوہ ہوا منہ سے خارج ہو جاتی ہے

لیکن وہ کون سے وجہ ہے جو ہمیں جمائی لینے پہ اکساتی ہے؟

اس کے بارے میں چار مقبول نظریات درج زیل ہیں.

تھکاوٹ، غنودگی یا بوریت کی صورت میں خود بخود جمائیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں. سائنسدان جمائیوں کے بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں تا کہ اس سے زیادہ معلومات اکٹهی کر سکیں جتنا کے لوگ پہلے سے جانتے ہیں.
اس موضوع پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے اس لئے ہم جمائیوں کے بارے میں اب تک بہت کم معلومات رکهتے تهے اور یہ بهی نہیں جانتے تهے کہ جمائی لینے کے کیا مثبت اثرات ہوتے ہیں.

image

اس بارے میں چند عام نظریات یہ ہیں

جسمانی نظریہ: ہمارا جسم  اس لئے جمائی لیتا ہے تاکہ زیادہ آکسیجن پھیپھڑوں تک کهینچی جا سکے یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زائد مقدار کو جسم خارج کرنے کے لئے ایسا کرتا ہے. 
یہ اصول ہمیں گروہ کی صورت میں جمائیاں لینے کی وضاحت کرتا ہے. بڑے گروہ کے جمائیاں لینے کا مطلب ہے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے چھٹکارا پانا،  ہمارے جسم زیادہ آکسیجن حاصل کر رہے ہوتے ہیں تاکہ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کیا جائے.
تاہم اگر آپ کا جسم آکسیجن کے حصول کے لئے جمائی لیتا ہے تو کیا ہم ورزش کے دوران جمائی نہیں لیں گے؟

میری لینڈ یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ رابرٹ پروون جو کہ جمائیوں پر تحقیق کر رہے تھے اس نظریے کو پرکهنے کے لئے ایک تجربہ کیا. تجربے میں جب لوگوں کو معمول سے زیادہ آکسیجن دی گئی تو کسی کی جمائیوں میں کمی نہیں آئی، اور جب کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کی گئی تو بهی جمائیوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا.

( بحوالہ : یونیورسٹی آف واشنگٹن )

ارتقائی نظریہ : کچھ لوگ سوچتے ہیں یہ ارتقائی مراحل کے ساتھ ہمارے آباؤ اجداد سے شروع ہوا جو دوسروں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اپنے دانتوں کی نمائش کیا کرتے تهے.
جمائی لینے کے بارے میں آباؤ اجداد سے وراثتی منتقلی کے اصول کی ایک شاخ یہ بتاتی ہے کہ جمائی لینا ہم میں اپنی سرگرمیوں کو تبدیل کرنے کی علامت کے طور پر یہ عادت اب بهی باقی ہے.

( بحوالہ : یونیورسٹی آف واشنگٹن )

image

بوریت تهیوری: جب ہم تھکاوٹ محسوس کر رہے ہوں یا بوریت ہو رہی ہو تو جمائیاں لینے لگتے ہیں، لیکن یہ تهیوری اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ اولمپک کے کهلاڑی مقابلے میں جانے سے ٹهیک پہلے کیوں جمائیاں لینے لگتے ہیں یا کتے حملہ کرنے سے ٹهیک پہلے کیوں جمائیاں لینا شروع کر دیتے ہیں. یہ بوریت کچھ مشکوک سی ہے.

( بحوالہ : پیٹرسن )

دماغی راحت کا نظریہ: محققین کی جانب سے پیش کیے گئے چند نئے نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ اس وقت جمائیاں لینا شروع کرتے ہیں جب ان کے دماغ کا درجہ حرارت زیادہ ہو، تو اسے ٹهنڈا کرنے کے لئے ہم ایسا کرتے ہیں.
اس کے لئے ایک تجربہ کیا گیا جس میں ان کے ناک کے ذریعے سانس لینے اور ماتهے پر ٹھنڈے اور گرم اشیاء کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا. یہ دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا ایک طریقہ ہے.  لیکن اس کا کیا مقصد ہے کہ ہمارا دماغ ٹھنڈا یا گرم ہو؟

ٹهنڈے دماغ سے ہم زیادہ بہتر انداز میں سوچ سمجھ سکتے ہیں،تو جمائی لینا شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ہمیں ہوشیار ہو جانا چاہئیے کہ دماغ اب راحت محسوس کرنے لگا ہے.

( بحوالہ :  ناجورنی )

اب ہم جمائی لینے کی چند وجوہات جانتے ہیں لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ کسی کو جمائی لیتا دیکھ کر ہم بهی جمائی لینے لگتے ہیں.

image

متعدی جمائی: دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام فقاری جاندار بشمول مچهلیوں کے جمائیاں لیتے ہیں، صرف انسان، چمپنزی اور کتے ہی متعدی جمائی لیتے پائے گئے ہیں، اور انہیں چار سال کی عمر سے پہلے متعدی جمائی لیتے نہیں دیکها گیا.
حالیہ مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ متعدی جمائی کا مطلب ہے کہ اسے کسی سے کتنی ہمدردی ہے.
ایک مشاہدے میں یہ بات پتہ چلی ہے کہ خیالی اور غیر خیالی بچوں کو جمائیاں لینے کی بجائے صرف منہ ہلاتے لوگوں کی ویڈیو دکهائی گئی.  دونوں اقسام کے بچوں نے لوگوں کی جمائیوں پر ایک ہی طرح سے جمائیاں لی.

لیکن اصلی جمائیاں لیتے ہوئے لوگوں کی ویڈیو دکهائی گئی تو  غیر خیالی بچوں نے عدم توجہی سے دیکهنے والے بچوں کی نسبت بہت زیادہ جمائیاں لیں.

خیالی بچوں کی عدم توجہی ان کی صلاحیتوں میں کمی  اوران کی سماجی رابطوں پر برا اثر ڈالتی ہے کہ انہیں دوسروں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہئیے.
خیالی بچوں نے دوسروں کی جمائیاں لیتی ویڈیو دیکهتے وقت کم جمائیاں لی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ کم ہمدردی رکهتے ہیں.
مشاہدے سے یہ بهی پتہ چلا ہے کہ کون کون سے بچے زیادہ یا کم عدم توجہی اور خیالی مزاج رکهتے ہیں.

ایک مثبت قدم کے لئے ڈاکٹر آنے والے وقتوں میں اس قابل ہو سکیں گے کہ چهوٹے بچے کو جمائی کی طرف متوجہ ہوتا دیکھ اس قابل ہو سکیں گے کہ ان میں “معذوری ناتوانی” نامی بیماری کی تشخیص کر سکیں.

( بحوالہ : روئٹرز،  ڈیسکوری چینل  )

تو اب تک یقینی طور پر ہم نہیں جانتے کہ ہم جمائیاں کیوں لیتے ہیں.
لیکن جمائیاں لینے کے بارے میں ہم اب بهی بہت سی دلچسپ باتیں جانتے ہیں.
image

ہم مادر رحم میں ہی جمائیاں لینا شروع ہو جاتے ہیں.
پیدا ہونے کے بعد بهی ہم جمائیاں لینے لگتے ہیں،  آپ میں سے نصف احباب اس وقت جمائیاں لیتے ہیں جب وہ دوسروں کو ایسا کرتا دیکهتے ہیں اور جمائیوں کے بارے میں پڑهتے وقت بهی آپ یہی کرتے ہیں

( بحوالہ: ڈیسکوری چینل )

تو پهر بتائیں آپ نے اس تحریر کو پڑهتے ہوئے اب ےک کتنی جمائیاں لی ہیں؟ ہمیں امید ہے زیادہ نہیں لی ہوں گی..!!!

اسی موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم
اسی موضوع پر دوسری ڈاکومنٹری فلم

یہ تحریر How Stuff Work  کی ویب سائٹ سے ترجمہ کی گئی ہے

Advertisements

One thought on “ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s