رنگ کیا ہیں؟

ہم رنگ کیسے دیکهتے ہیں؟

image

اس بات کا پہلی بار نیوٹن نے مشاہدہ کیا تها کہ چیزوں میں رنگ شامل نہیں ہیں بلکہ کسی چیز کی سطح چند رنگوں کی عکاسی کرتی ہے اور ان رنگوں کی تخلیق ان بنیادی رنگوں سے ہوتی ہے.

گلاب کے پهول سرخ رنگ کے ہیں اور ویولیٹس کے پهول نیلے رنگ کے ہیں.
آپ اپنی آنکهوں کے شنکوں (Cones ) شکریہ ادا کریں کہ کس مہارت سے یہ خلیات آپ کی آنکهوں کو رنگوں کی پہچان کراتے ہیں.

image

شنک:  یعنی Cones ایک قسم کے فوٹو ریسپٹرز ہیں جو ریٹینا کے اندر موجود نہایت باریک خلیے ہیں

.شنک آنکھ کے ریٹینا کے وسط میں مرتکز ہیں.ایک آنکھ میں چھ سے سات ملین شنک ہوتے ہیں.
ہماری آنکھ میں تین طرح کے شنک خلیات ہوتے ہیں، ایک روشنی کی لمبی طول موج، دوسرے درمیانی طول موج،  اور تیسرے چهوٹی طول موج کو کنٹرول کرتے ہیں.
یہی شنک خلیے مل کر عصبی خلیوں کو معلومات باہم پہنچاتے ہیں. عصبی خلیے یہ معلومات دماغ کو ارسال کرتے ہیں اور دماغ ان رنگوں کی الگ الگ تشریح کرتا ہے. پهر ہم دماغ کی مدد سے ان رنگوں کو پہچان کی غرض سے مختلف نام دیتے ہیں.
سارے شنک ایک جیسا کام سرانجام نہیں دیتے ہیں. ان میں سے ایک تہائی شنک سبز رنگ کو دیکهتے ہیں جب کہ ان میں سے 64 فیصد شنک سرخ رنگ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں. باقی کے دو فیصد نیلے رنگ کی پہچان بخوبی کرتے ہیں.

جب روشنی کسی چیز سے ٹکراتی ہے مثال کے طور پہ ایک کیلے سے جب روشنی ٹکرائے گی تو کیلا کچھ روشنی جذب کر لے گا اور باقی روشنی عکس کی طرح واپس لوٹا دے گا. اب جو طول موج واپس لوٹے گی یہ اس چیز کی کثافت پر منحصر ہے کہ وہ کتنی روشنی جذب کرتی ہے اور کتنی عکس کی صورت واپس لوٹا دیتی ہے.

مثال کے طور پہ ایک پکا ہوا کیلا 570 سے 580 نینو میٹر طول موج واپس اچهال دیتا ہے. اب یہ پیلے رنگ کی روشنی کی طول موج ہے.

جب آپ کیلے کو دیکهتے ہیں منعکس ہوتی روشنی کی طول موج سے آپ رنگ کا تعین کرتے ہیں کہ یہ کونسا رنگ ہے.

image

روشنی کی ہلکی لہر کیلے کے چهلکے سے ٹکراتی ہوئی واپس پلٹتی ہے اور آپ کی آنکھ کے حساس ریٹینا سے ٹکراتی ہے، جہاں یہ شنکوں ( کونز ) پہ پڑتی ہے.

ہم صرف رنگوں کا عکس دیکهتے ہیں. اسی طرح سیب اپنے چهلکے سے نیچے سرخ نہیں ہوتا.
سیب کی سطح ( چهلکے ) پر روشنی کی جو طول موج واپس پلٹ کے آئے گی اور سیب کے چهلکے پر جو اثر چهوڑے گی اسے ہم سرخ رنگ کہتے ہیں.

جب ایک چیز ہمیں سفید نظر آئے گی وہ اصل میں روشنی کی تمام طول موج واپس پلٹ رہی ہوتی ہے اور اس وقت ہمیں کوئی چیز کالی نظر آئے گی جب وہ چیز تمام طول موج جذب کر لے گی.
جب کیلے سے آتی روشنی شنکوں سے ٹکراتی ہے تو یہ مختلف زاویوں میں پهیل جاتی ہے. نتیجتاً روشنی کا واپس آنے والا اشارہ دماغ کے عصبی نظام کے لئے بصری تصاویری معلومات ساتھ لے کے آتا ہے، اس معلومات کو  دماغ پروسیس کرنے کے بعد رنگ کی
پہچان کرتا ہے کہ یہ پیلا یا سرخ رنگ ہے.

انسان اپنی تین اقسام کی شنکوں کے ساتھ کسی بهی میمل جانور سے زیادہ شاندار طریقے سے رنگوں کی پہچان کرتا ہے، لیکن باقی اقسام کے جانور ہم سے اس معاملے میں سبقت لے گئے ہیں.

بہت سے پرندے اور مچھلیوں کی آنکهوں میں چار اقسام کےشنک پائے جاتے ہیں، جو انہیں بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) روشنی دیکهنے کی خوبی عطا کرتے ہیں یا انسانی آنکھ سے کم طول موج کو بهی دیکهنے کے قابل بناتے ہیں. 
کچھ کیڑے بهی بالائے بنفشی روشنی کو دیکهنے کی اہلیت رکھتے ہیں، یہ خوبی ان حشرات کو پھولوں میں موجود ایسے پوشیدہ پیٹرن دیکهنے میں بهی مدد کرتی ہے جسے انسانی آنکھ سے دیکهنا ممکن نہیں ہے.
اور یہ بهی لازمی نہیں ہے کہ ہمیں نظر آنے والا سرخ گلاب شہد کی مکهی کے لئے اتنا سرخ ہو جتنا ہمیں دکهائی دیتا ہے. 

image

سلاخیں: آنکھ بہت سارے شنک کے علاوہ سلاخوں پر بهی مشتمل ہوتی ہے.
ایک آنکھ میں 120 ملین سے زائد سلاخیں ہوتی ہیں
   یہ سلاخیں سیاہ اور سفید رنگ کی دماغ تک ترسیل کو ممکن بناتی ہیں.
آنکھ کے ریٹینا کی سلاخیں مدهم روشنی میں شنکوں کی بنسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں، آپ کم روشنی میں رنگ دیکهنے سے قاصر ہو جاتے ہیں. جب آپ کسی تاریک کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو یہی سلاخیں آپ کی آنکھ کو موزوں مناسبت سے ایڈجسٹ کرنے میں مدد کرتی ہیں.

ہماری آنکھ کو اطراف سےمنظر دهندلا اور رنگ دهیمے دکهائی دیتے ہیں جب کے آنکھ کے سامنے رنگ اور منظر واضح اور صاف رنگ دکهائی دیتے ہیں. اس کی وجہ ہماری آنکھ میں موجود سلاخیں اور شنک ہیں.

آٹھ فیصد مردوں اور ایک فیصد عورتوں میں رنگوں کی پہچان نہ کر سکنے کی خرابی موجود ہے.
  ایسے لوگوں کی بهی قلیل مقدار دنیا میں موجود ہے جنہیں کوئی رنگ دکهائی نہیں دیتا انگلش میں اسے کلر بلائنڈ کہا جاتا ہے

image

فطرت میں بقاء کے لئے رنگ بدلنا پسندیدہ عوامل میں سے ایک ہے. شکاری چهپکلیاں اپنا رنگ  بدلتی ہیں تا کہ شکار حاصل کر سکیں یا سانپوں سے اپنی جان بچانے کے لئے بهی رنگ بدلتی ہیں. کچھ سال پہلے تک یہ سمجها جاتا تها کہ کتے رنگوں کی پہچان نہیں کر سکتے ہیں لیکن حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کتے سرخ اور نیلے رنگ میں واضح تفریق کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں.

image

سرخ، سبز، اور نیلا وہ رنگ ہیں جو روشنی کے بنیادی رنگ ہیں. باقی کے رنگ انہی رنگوں کے امتزاج سے مل کر بنتے ہیں، سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے امتزاج سے سفید رنگ کی تخلیق بهی ہو سکتی ہے.
روشنی کے انہی تین بنیادی رنگوں سے دنیا کے باقی تمام نظر آنے والے رنگ بنائے جا سکتے ہیں.  اور تمام چیزیں روشنی کے انہی تین بنیادی رنگوں سے اپنا رنگ حاصل کرتی ہیں.

روشنی ہی تمام رنگوں کا مجموعہ ہے..!!

اس تحریر کے لئے، بحوالہلائیو سائنس، ٹی ایڈ ایجوکیشن، ایل آر سی ریسرچ سینٹر کی ویب سائٹس سے استفادہ کیا گیا.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s