جیلی فش جو مرتی نہیں..!!

لافانی جیلی فش

image

آج سے 4,000 سال قبل جب سے وقت کے حساب کتاب رکهے جانے کے شواہد ملتے ہیں،

اتناپشتم نے گلگامش کو بتایا تها کہ امر ہونے کا راز سمندر کی تہہ میں پائے جانے والے ایک مرجان میں قید ہے، آخر کار 1988ء میں انسان نے سمندر کے تہہ میں ہی ابدی زندگی کا وجود رکهنے والے ایک جاندار کو دریافت کر لیا.

یہ دریافت بیسویں صدی میں ایک عیسائی سومار اور  جرمن سمندری حیاتیات کے طالب علم نے نادانستہ طور پر تلاش کی.

image

کہا جاتا ہے کہ بلی کی نو زندگیاں ہیں خیر یہ ایک مذاق ہے، لیکن سائنسدانوں نے جیلی فش کی کچھ ایسی اقسام  ہیں جن بیالوجی کی حد تک لافانی ہونے کی تصدیق جا چکی ہے، جو کہ زخمی حالت یا مرنے سے قبل اپنے خلیات کو پہلے کی حالت میں لانے کے قابل بنا کے خود کو دوبارہ زندہ کر لیتی ہے. اس کا یہ بهی مطلب ہے کہ یہ چار سے پانج ملی میٹر کا جاندار ممکنہ طور پر لامحدود زندگی رکهتا ہے.

اس جاندار کا سائنسی نام ٹیوریٹوپسس نیٹریکیولا ( Turritopsis nutricula ) ہے اور یہ پہلی بار 1883ء میں بحیرہ روم کے سمندر میں دریافت کئے گئے تهے، لیکن ان کی دوبارہ سے جنم لینے کی انوکهی خوبی 1990ء کے وسط صدی تک کسی کو علم نہیں تها.

وہ موسم گرما کی چهٹیاں منانے اٹلی کے قصبے رپالو گیا ہوا تها جہاں ایک صدی قبل ہی فریڈرک نطشے نے ” تهس کا زرتهشترا سے خطاب” میں لکها تها کہ” ہر شئے چلی جاتی ہے، اور لوٹ آتی ہے، وقت کا پہیہ گهومتا رہتا ہے. سب مر جاتے ہیں ایک بار پهر سے کهل اٹهنے کے لئے”

image

سومار کی تحقیق کے مطابق زندگی کو سائیکل کرنے میں ہائیڈرزون کا انحصار چهوٹے فقاری کی موجودہ عمر پر منحصر ہے چاہے وہ جیلی فش کا دوبارہ سے جوان ہونا ہو یا نرم مرجان کا دوبارہ تروتازہ ہونا.
سومار نے سمندر کی تہوں میں ہائیڈروزون کی تلاش میں پلینکٹن جال سے چهان مارا اور حیاتیات کی نئی سینکڑوں چهوٹے نسبتاً گمنام جاندار ڈھونڈ نکالے جو کہ اب بیالوجی میں جیلی فش اور ڈوهری کے نام سے جانے جاتے ہیں.
جسے آج امر رہنے والی جیلی فش کے نام سے ہم جانتے ہیں.

سومار نے ان حیاتیاتی نمونوں کا مشاہدہ کیا تو اسے ایک حیران کن بات پتہ چلی کہ جیلی فش کا رویہ دوسرے جانداروں سے بلکل عجیب تها، جیلی فش نے حیران کن طور پر مرنے سے انکار کر دیا جیلی فش نے اپنی عمر کو واپس جوانی کی طرف اور عمر کے پہلے درجے کی طرف موڑ دیا تها وہ جوان ہوتی گئی ہوتی گئی اور بالآخر اپنے بچپن کی اس عمر تک جا پہنچی جہاں سے نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے.
سومار یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا لیکن اس نے اتنی جلدی اپنے مشاہدے کا یقین نہ کیا.

یہ کیسے دوبارہ جنم لیتا ہے ؟ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایک ٹیوریٹوپسس ( جیلی فش ) کسی حادثے کا شکار ہو جائے یا بهوک سے کمزور ہو جائے تو یہ سمندری ریت میں خود کو لپیٹ لیتا ہے اور ایک بلاب کی شکل میں خود کو ڈهال لیتا ہے، اس کے بعد یہ ایک تعامل کرتا ہے جسے سائنسی زبان میں سیلز انڈر گو ٹرانسڈیفرینیشن ( Cells under go transdifferentiation ) کا نام دیا گیا ہے جس میں خلیات کی ایک اقسام بنیادی طور پر خلیات کی دوسری اقسام میں تبدیل ہو جاتی ہیں.
اعضاء کے خلیات مادہ منویہ یا انڈوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یا پهر اعصابی خلیے اعضاء کے خلیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں.

image

کسی بهی جاندار میں اس طرح سے خلیات کی تبدیلی کا  بلاشبہ یہ ایک بےمثال طریقہ ہے.
“انواع کی اصل” سے اقتباس جو 1996ء میں شائع ہوئی

جاپان، سپین اور بحر اوقیانوس میں پانامہ کی طرف جیلی فش کی دریافت کے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر تمام جیلی فش اپنے اصل مسکن جیسی ہی ہیں.
محققین نے تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پانی میں فوجی مشقوں سے کئے گئے دهماکوں سے، کارگو جہاز میں لگے پانی کے پمپس میں پانی کے کھنچاؤ سے لگنے والی ضرب سے زخمی ہوتی ہیں.
جیلی فش ماحول کے مطابق خود کو ڈهالنے کی خوبی بهی رکهتی ہیں مثال کے طور پہ معتدل علاقوں میں رہنے والی جیلی فش میں 24 ٹینٹاکلز یا اس سے کچھ زیادہ ہیں اور گہرے پانیوں میں رہنے والی جیلی فش میں 8 ٹینٹاکلز ہیں.
لیکن جیلی فش مناسب حالات نہ ہونے کی بنا پر شکار بهی ہو سکتی ہیں اور شکار یا بیمار ہوتی بهی ہیں اور مر بهی جاتی ہیں.

image

جیلی فش وہ واحد معلوم لافانی جاندار ہے جو اپنی زندگی کا رخ بڑهاپے سے جوانی کی طرف موڑ سکتا ہے.

جدید تحقیق بتاتی ہے جس طرح “بریڈ پٹ” کی ایک فلم میں جیلی فش کا کردار خود کو بڑهاپے سے واپس بچہ بنا لیتا ہے اور امر ہو جاتا ہے لیکن اصل زندگی میں جیلی فش اس کردار سے دو ہاتھ آگے ہے کیونکہ وہ یہی عمر کو بڑهاپے سے جوانی اور جوانی سے بڑهاپے کے عمل ایک بار نہیں بلکہ بار بار لگاتار تبدیل کرتا ہی رہتا ہے.

یہ تحقیق کسی بهی جاندار کے ساتھ لفظ ” امر ” لگانے سے کچھ ہی عشرے پہلے کی بات ہے.

ماہر حیاتیات نے 1996ء سومار کی اس دریافت کے بعد حیاتیاتی تحقیق پر مبنی تعلیمی مقالہ ” زندگی کی ری سائیکلنگ” کے نام سے ایک اخبار میں چهاپا جس میں سائنسدانوں نے بتایا کہ کس طرح جاندار زندگی میں عمر کے ہر درجے پر کس طرح اپنی تعمیر کرتے ہیں.

اس تحقیق نے فطرت کے اس قانون کہ آپ پیدا ہوتے ہیں جیتے ہیں اور مر جاتے ہیں کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے.
سائنسدانوں نے جیلی فش کو دنیا کا واحد معلوم امر رہنے والا جاندار قرار دیا ہے. اسی طرح انسانی عمر میں اضافے، بیماری  یا دوسرے خلیاتی مسائل کے حل کے لئے جیلی فش پر تحقیقی مطالعہ جاری ہے..!!

اسی موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم
اسی موضوع پر دوسری ڈاکومنٹری فلم
اسی موضوع پر تیسری ڈاکومنٹری فلم

  حوالہ جات : نیویارک ٹائمز ،  مدر نیچر نیٹ ورک،نیشنل جیوگرافک

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s