نظریہ ارتقاء

نظریہ ارتقاء کیا ہے ؟

image

بیالوجی میں نظریہ ارتقاء ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ زمین پر زندگی کی شروعات کس نے کی مگر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جیسے کی زمین پر زندگی کا وجود ہوا، وہ آگے کیسے بڑھی، کیسے پھیلی، اور کس طرح اس میں اضافہ اور ترقی ممکن ہوئی۔ نظریہ ارتقاء ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ آج کل کے جاندار کیسے وجود میں آئے، کس طرح ان میں تبدیلی آئی اور کس طرح انہوں نے اپنے تسلسل اور نسل کو برقرار رکھا۔

ارتقاء کو بیان کرنے اور سمجھانے کے بہت سارے انداز ہیں۔ سادہ الفاظ میں اسے اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ
ایک آبادی میں نسلوں کے درمیان قابل وراثت یا وراثت پذیر خصلت میں کسی تبدیلی کے عمل کو ارتقاء کہتے ہیں۔ وراثت پذیر خصلت میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں مثلاً جسمانی خصلت میں چوہوں کے جلد کے رنگت کی تبدیلی، تتلی کے پروں کے نشانیوں کی تبدیلی۔
یا جیسے فطری خصلتی عمل جیسے کتے یا دیگر جانور سونگھ کر اپنے دوستوں کو پہچانتے ہیں وغیرہ۔
ممکن ہے کہ کافی لوگوں کو ارتقاء کا یہ تعارف سر کے اوپر سے گذر گیا ہو۔ آئیے اسے اب سادہ مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی صحتمند جاندار ہیں جیسے کہ سنگل سیل والے بیکٹیریا، امیبیا، پھول، درخت، مچھلیاں، یا انسان، سب اپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں اور اپنی ہی کاپیاں یعنی بچے پیدا کرتے ہیں۔
بچے پیدا کرنے کے دوران اصل میں ہم اپنے ہی ڈی این اے کی کاپیاں کرکے اپنے اگلی نسلوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔

ہمارے جسم میں ہر سیل کے اندر ایک زنجیر نما کیمیائی مادہ ہوتا ہے جسے ڈی این اے کہتے ہیں۔ ہر سیل میں موجود ڈی این اے اسے یعنی سیل کو بتاتا ہے کہ وہ کیسے نشونما کرے اور کام کرے۔ یعنی انسانوں سمیت ہر جاندار کے سیل میں ایک آپریٹر ہوتا ہے جو اسے چلاتا ہے جسے ہم ڈی آین آے کہتے ہیں۔ ڈی این اے کے اندر کوڈ کی شکل میں انفارمیشن یا معلومات ہوتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ایک جاندار جیسا کہ ایک انسان کیسے بنے گا۔
انسانی جسم میں پائے جانے والے ڈی این ای اے میں موجود انفارمیشن گلاب کے پھول کے ڈی این ای اے کی انفارمیشن سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے انسان گلاب کے پھول سے مختلف نظر آتا ہے اور مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔

image

آپ کے جسم میں موجود ڈی این ای اے کی انفارمیشن نصرت فتح علی خان کے ڈی این اے سے تھوڑی مختلف ہے ورنہ آپ بھی نصرت فتح علی خان کی طرح گا رہے ہوتے یا ان جیسے ہوتے۔

سنگل سیل والے سادہ جاندار اپنے خول کے اندر ہی اپنی ڈی این ای اے کی کاپی کرتے ہیں، جیسے ہی دو ڈی این ای اے بنتے ہیں، وہ خول دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے یوں دو نئے جاندار بن جاتے ہیں۔ اصولاً دونوں کو ایک دوسرے کی کاپی ہونا چاہیے مگر فطرت ایسے کام نہیں کرتی۔ جب ڈی این ای اے کی کاپی ہوتی ہے تو زنجیر نما کوڈ میں معلومات کی کاپی کے دوران غلطیاں ہوتی ہیں، یعنی کچھ کوڈ والی معلومات آگے پیچھے ہو جاتی ہے جسے بیالوجی میں ڈی این ای اے میوٹیشن کہا جاتا ہے۔ یہ ڈی این ای اے میوٹیشن حادثاتی طور پر ہوتی ہے اور بے ترتیب ہوتی ہے۔ ڈی این ای اے میں اسی بے ترتیب حادثاتی غلطیوں کی وجہ سے جو نیا ڈی این ای اے بنتا ہے وہ اپنے پہلے والے ڈی این ای اے سے ذرا مختلف ہوتا ہے اس لیے نیا بننے والا جاندار اپنے بنانے والے جاندار سے تھوڑا مختلف نکلتا ہے مگر مشاہبہ ضرور ہوتا ہے۔ یعنی اگر کاپی کرنے سے پہلے والا سیل گول ہے تو میوٹیشن کاپی کے بعد نیا بننے والا ڈی این ای اے سیل گول تو ہوگا مگر ساتھ تھوڑا پیندہ سا ہوگا، یوں ڈی این اے میں ذرا سی تبدیلی نئے بننے والے جاندار کی ساخت میں نیا پن لاتی ہے۔

جانوروں، مچھلیوں، اور انسانوں میں نئی نسلیں بنانے کا کام سنگل سیل والے جاندار سے کچھ مختلف ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو نئی نسل پیدا کرنے کے لیے ایک پارٹنر ڈھونڈنا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ایک بلی اور بلے نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا تو وہ نئے بچے پیدا کرنے کے لیے ملاپ کرتے ہیں۔ ملاپ کے دوران بلا اپنے ڈی این ای اے کا آدھا حصا بلی کو اسپرم کی شکل میں منتقل کرتا ہے۔ ڈی این ای اے کا بقیہ آدھا حصہ بلی اپنی اسپرم سے پورا کرتی ہے۔ یوں بلی اور بلا اپنے ڈی این ای اے کو مکس کر کے اپنا اپنا ڈی این ای اے نئے آنے والے بچے کو منتقل کر دیتے ہیں۔
یوں بلی کے بچوں میں اپنی ماں اور باپ دونوں کی خصوصیات ہونگی۔ یہی کام انسانوں میں ہوتا ہے۔ اسی لیے انسانی بچے کے نین و نقش اپنے ماں باپ سے ملتے بھی ہیں اور مختلف بھی ہوتے ہیں۔ یعنی ماں اور باپ اپنی خصوصیات اپنے بچوں میں منتقل کرتے ہیں جس میں بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور لمبے قد، نیلی آنکھیں، سنھرے بال وغیرہ وغیرہ۔
ڈی این ای اے میوٹیشن کی وجہ سے نیا پیدا ہونے والا بچہ بہت ساری نئی خصوصیات اپنے طور بھی لاتا ہے جو ان کے والدین میں موجود نہیں ہوتی۔ یوں اس وراثت پذیر خصلتوں کو نئی نسلوں میں تبدیلی کے عمل کو ارتقا کہا جاتا ہے جو کہ ہر روز ہمارے آس پاس ہوتا ہے۔

image

اگر ہم آج کے دور سے کچھ ہزار سال پیچھے جائیں تو پتا چلتا ہے کہ موجودہ نسل کے مختلف اقسام کے خوبصورت کتے اصل میں بھیڑیوں کی نسل سے ہیں جنہیں انسانوں نے افزائش نسل میں چن چن کر اسے آگے بڑھایا۔
پرانے لوگوں نے حفاظت کے لیے بھیڑیوں کو پالا، ان کے ہونے والے بچوں کو اپنی ضروریات کے حساب سے تقسیم کیا اور ان کی نسل مختلف ہوتی گئی، یوں انسانی مداخلت سے بھیڑیوں کے ارتقا سے کتوں کا وجود ہوا۔
آج ہم کتوں کی مختلف اقسام دیکھتے ہیں، جسیے چھوٹے کتے، موٹے کتے، لمبے کتے، تیز دوڑنے والے کتے۔ بالوں والے کتے، کم بالوں والے کتے۔ حقیقت میں یہ تمام کتے ماضی میں بھیڑیوں کی ایک ہی قسم سے افزائش نسل کئے گئے ہیں مگر اس میں کس نسل کو آگے بڑھانا ہے کسے نہیں بڑھانا،
یہ کام انسانوں نے خود کیا۔

اسی طرح ایک خاص قسم کی گھاس کو مختلف عوامل سے گذار کر مکئی کو پیدا کیا گیا، یا کیلے کو پیدا کیا گیا یا سندھ کے آم کے پھل کو انسانی مداخلت نے ایک نیا روپ دیا جسے ہم قلمی یا سندھڑی آم کہتے ہیں۔

جینیٹکس، جیالوجی، بیالوجی، میتھیمیٹکس سمیت تمام جدید سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جس طرح تمام کتے اصل میں بھیڑیوں کی ایک خاص نسل سے ہیں، اس طرح تمام جاندار بشمول انسان، جانور، مچھلیاں، پرندے پھول، درخت وغیرہ اصل میں ایک ہی نسل سے نکلے ہیں۔ اس دنیا میں جو بھی جاندار چیز ہے، اس کی اصل شروعات ایک ہی جگہ سے ہوئے،۔

کروڑوں کھربوں سال کی ارتقا اور ڈی این اے میوٹیشن کے وجہ سے نئی نسلیں، نئے اقسام بنتے گئے۔
ہمیں ابھی تک یہ نہیں پتا چلا کہ اس زمین پر زندگی گا پہلا بیج کیس طرح آیا مگر اتنا پتا چل چکا ہے کہ جیسے ہی زندگی وجود میں آئی، باقی سب اس سے وجود میں آیا۔ یعنی انسان ہو یا جانور، یا چرند پرند، یا نباتات، سب شروع میں ایک ہی جاندار سے نکلے ہیں۔

image

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کتوں کی مختلف اقسام کو پیدا کرنے میں انسانی ہاتھ ہے جو ارتقا کو کنٹرول کر رہا تھا تو کیا خود انسان یا دیگر جانوروں کے افزائش میں کنٹرول کرنے والا کون تھا؟
یعنی ایک خوفناک بھیڑیے کو ایک خوبصورت پپی میں بدلنے والے ارتقائی عمل کی نگہبانی کرنے والا انسان تھا تو خود ایک جاندار سے انسان کو وجود میں لانے والا کون تھا، کیونکہ ارتقا بذات خود اوربے ترتیب خودکار عمل ہے۔
اٹھارویں صدی میں چارلس ڈارون اور الفریڈ رسل والس نے جداگانہ طور پر سب سے پہلے یہ بات دریافت کی کہ ارتقاء کے عمل کو کسی نگہبان کی ضرورت نہیں ہوتی مگر ایک اور طاقتور فطری عمل موجود ہے جو ارتقا کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس طاقتور خودمختیار فطری عمل کو نیچرل سیلیکش کہتے ہیں۔ اور چارلس ڈارون نے اصل میں اسی نیچرل سیلکشن کے عمل کو دریافت کیا تھا۔

یہ تحریر انالحق کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے

اسی موضوع پر معلوماتی برقی کتاب پڑهیں

نظریہ ارتقاء کے بارے میں سائنسی ثبوت
image
Download پہ کلک کریں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s