ڈر اور خوف کیا ہے؟

ڈر و خوف

image

باطن کی کفیت کا خارج سے جوڑنا ڈر ہے۔ ڈر داخلی و خارجی دونوں اقسام کا ہوتا ہے ۔
ڈر اگر خارج کے کسی محرک سے پیدا ہوا ہو تو اس کے پیچھے فعلیاتی دفاعی نظام کارفرما ہوتا ہے کیونکہ ہر جاندار کو اپنی بقاء کی جدوجہد کرنی ہوتی ہے۔ شکاری کو دیکھ کر ڈر کا احساس دراصل اس سے دور بھاگنے کی کوشش ہوتی ہے۔

خودی کا احساس اور اس کا تخفظ بھی دراصل جانداروں کا وہ رویہ ہے جس کی بدولت وہ زندہ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر درد اور خوف کو لیجے درد عموما ایک ایسا جسمانی ردعمل ہے جو کسی بھی نقصان دہ فعل سے بچنے کے لیے جاندار کے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ آگ پر ہاتھ یاں جسم کا کوئی حصہ آ جائے تو جسم جل جاتا ہے۔ جلد میں موجود ریسیپٹر آگ کے ہونے کا احساس خارج سے باطن میں منتقل کرتے ہیں۔ اگر کسی انسان میں یہ ریسیپٹر جینیاتی اعتبار سے موجود نا ہوں تو اس کو گرم، سرد اور کسی بھی قسم کا ایسا احساس نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ ایسے مریض فقط دباؤ کو محسوس کر سکتے ہیں۔

1. Congenital insensitivity to pain
2. Congenital insensitivity to pain with anhidrosis (CIPA)
3. Peripheral neuropathy
بہت ہی نایاب قسم کی ان بیماریوں کا ذکر کرنا بھی ضروری تھا کیونکہ ڈر اور خوف کے ارتقاء کی اصل وجہ کیا تھی۔ اس کے علاوہ درد کے نتیجہ میں ایڈرینالین کا جسم میں خارج ہونا جس کی بدولت کسی بھی جاندار میں سننے، سونگھنے، دیکھنے اور خود کو بچانے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح اگر ہم سادہ سے یک خلوی جانداروں میں دیکھیں تو وہ بھی خودی کا تخفظ کرتے ہیں اور خود کو خطرناک ماحول سے محفوظ ماحول میں منتقل کرتے ہیں۔

اوپر درج مثال میں تو ہم نے یہ واضع کیا کہ ڈر کی فعلیاتی و ارتقائی اہمیت دراصل بقاء ہے۔ لیکن اگر ڈر کسی محرک کے بغیر ہو اور ایک بار کی بجائے یا تو بار بار مختلف دورانیہ سے ہو یا مسلسل ہو تو اس کی وجہ باطنی خوف ہے۔

image

اب اس کی بھی کئی اقسام ہیں یعنی
1. کسی پچیدہ نا سمجھ آنے والی چیز کا خوف ( مافوق الفطرت ہستی کا خوف)
2. اپنے کسی ماضی کے کئے ہوئے فعل کا خوف
3. کسی غم، بیماری، بدقسمتی، احساس کمتری، غربت، دوسروں کی نفرت، سچ کا خوف، مذہب کا خوف

پہلا خوف دراصل اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ کم علمی ہوتی ہے جب تک کسی چیز کی سمجھ نا آئے اور لیکن ممکن ہے وہ سمجھی جا سکے لیکن ایک وقت تک اس سے ڈرنا دراصل باطنی خوف ہے اس کا نتیجہ انسان کسی محرک سے نہیں بلکہ اپنے باطن میں تجزیہ سے لگا ئے گئے اندازے سے کرتا ہے۔ یعنی ماحولیاتی تبدیلیاں دراصل ہمارے گناہوں کی خدا کی طرف سے دی گئی سزا ہے۔

image

اپنے ہی ماضی سے خوف زدہ ہونا بھی ایک نفسیاتی عمل ہے جس سے انسان ہر وقت پریشان رہتا ہے اور بعض اوقات زیادہ فکر سے انگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی طرح آتا ہے فوبیا یہ ایسا خوف ہے جس کی وجہ سے آپ عموما نارمل ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی اور لوگوں کی نسبت آپ کا سامنا اس محرک سے ہوتا ہے تو آپ خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ جیسے کتے سے ڈرنا، اونچائی سے ڈرنا، پانی سے ڈرنا
یہ ایسے خوف ہیں جو کہ عین نفسیاتی ہوتے ہیں ۔

شک اگر علم و تحقیق سے حل نا کیا جائے تو خوف بنتا ہے۔
سچ کا سامنا کرنا بہت ہی خوف زدہ اور مشکل ہوتا ہے۔ اس میں جس کو انسان مثبت یا سچ سمجھ رہا ہوتا ہے دراصل وہ اس کی عادت بن جاتی ہے اور وہ اسی میں اپنی بقاء دیکھتا ہے اور یہاں جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی بقاء کارفرما ہوتی ہے۔ یعنی اگر نفسیاتی طور پر ذہن میں اٹھنے والے سچ کی وجہ سے طوفان کو کون سنبھالے گا۔
مختلف اقسام کے ڈر اور خوف کی دراصل اس کی وجہ ہمارا احساس ہی تھا جو بقاء کی وجہ سے ارتقائی عمل میں ہم جانداروں کے جسم کا حصہ بنا ہم نے اسی ڈر کو جب بڑھا کر کم علمی کا جواب بنا لیا تو مذہب کی ایجاد ہوئی۔
اپنی کم علمی کے خوف کو تجسس میں بدل دیجئے کیونکہ تجسس متجسس کی حیرت کو علم میں بدل دیتا ہے اور علم باعث ارتقاء ہے اور ارتقاء خوف پیدا نہیں کرتی۔

یہ تحریر اناالحق کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s