سائنس اور ہمارا معاشرہ

سائنس، معاشرہ اور ہم

image

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے –

ہمارے معاشرہ کو ان گنت دنوں سے ان گنت ضرورتوں کا سامنا ہے — تو کیا ہم نے کچھ ایجاد کیا؟ کیا رکی اور پھنسی ہوئی ٹریفک میں ضابطے توڑ کر نکل جانا یا کرپشن سے رستے بنانا ایجاد کہلائے گا ؟
نہیں ، ہم کچھ ایجاد نہیں کرتے – کیونکہ ایجاد کی ماں ضرورت نہیں،علم ہے –
ضرورت اگرعلم کے اوزار سے محروم ہے تو کچھ ایجاد نہیں ہوتا –

علم کیا ہے ؟ کیا معلومات کوعلم کہہ سکتے ہیں؟ نہیں ‘ یہ الگ الگ ہیں – ہستی اور زندگی کے وہ حالات و واقعات جو معلوم کئے جا چکے ہیں ہم انھیں معلومات کہتے ہیں – معلومات علم کے لئے ضروری تو ہیں ، لیکن معلومات خود علم کو جنم نہیں دے سکتیں- معلومات کا رشتہ حافظہ سے ہے- حافظہ سنبھالتا ہے ، لیکن کچھ تخلیق نہیں کرتا – دنیا کے سارے کمپیوٹر اور سارے حافظ مل کر بھی خدائی ذرہ)Higgs Boson( دریافت نہیں کر سکتے –

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایمان اورعلم ایک ہی حقیقت ہیں؟ نہیں- ایمان تو سچ پر بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹ پر بھی – حقیقت پر بھی اور وہم پر بھی – ایمان تو فزکس کے کسی قانون پر بھی ہو سکتا ہے اور کسی مفروضہ پر بھی – ہر کوئی مفروضے بناتا ہے ، خود سائنس دان بھی مفروضے بناتے ہیں لیکن مفروضہ اسوقت تک علم نہیں ہوتا جب تک اسے انسانی مشاہدہ کے سامنے تصدیق کے ذریعہ ثابت نہ کر دیا جاۓ –
چنانچہ کائنات اور زندگی کی ظاہری شکلوں کے پیچھے چھپے ہوئے قانون کو دیکھنے کی صلاحیت علم ہے -علم اورعقیدہ میں فرق ہے – علم انسان کی مشترکہ ملکیت بن جاتا ہے ، لیکن کوئی عقیدہ آج تک انسانوں کی مشترکہ ملکیت نہیں بن سکا کیونکہ عقیدہ کی تصدیق کا کوئی ایسا طریقه موجود نہیں جو ہر نارمل انسان کو قبول ہو –

image

ہمارا معاشرہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں نہیں – سچ یہ ہے کہ ایجاد علم سے پیدا ہوتی ہے -علم غور و فکر سے ،غور و فکر سوال سے ،سوال جستجو سے اور جستجو اعتراض و اختلاف سے جنم لیتی ہے – -لیکن اعترض و اختلاف منزل نہیں – اختلاف کی منزل اتفاق ہے اور اعتراض کی منزل اصلاح – لیکن انسان کے سفر میں ہر منزل فقط ایک پڑاؤ ہے ، مستقر ہے جس سے آگے ایک اور منزل یعنی ایک اور مستقر ہے – ہر اتفاق ایک نئے اختلاف ، نئے سوال ،جستجو سے گزر کر علم کے اگلے مرحلوں تک لے جاتا ہے –
کوئی ایجاد آخری اور مکمل نہیں ، کوئی علم آخری اور مکمل نہیں – اسلئے کہ کائنات خود مکمل نہیں -اعتراض اور اختلاف کرتے رہو ، اس نیّت سے کہ علم بڑھتا رہے – وہ علم جس کی تصدیق دنیا کا ہر شخص کرے ، وہ علم جو زندگی کی بقا اور مسرّت کے اوزار ایجاد کرتا رہے –

ہمارے مسلم معاشرے اتنی سنگین ضرورتوں کے باوجود کچھ ایجاد نہیں کرتے – کیونکہ ایجاد کی ماں ضرورت نہیں،علم ہے – ضرورت اگرعلم کے اوزار سے محروم ہے تو کچھ ایجاد نہیں ہوتا – ہم نے علم کو اپنے ایمان کا دشمن قرار دے کر ایمان کی ترقی کو اپنی ترجیح بنارکھا ہے ، لہذا ہم نے تین صدیوں سے اپنی بڑھتی بگڑتی ضرورتوں کا کوئی حل ایجاد نہیں کیا-کچھ دوستوں نے اس بیان سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے ایک آفاقی سچائی کی نفی ہوتی ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے- مجھے اس اعتراض کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ایک شخص نے میرے بارے میں لکھا کہ جب میں ضرورت کی بجاۓ علم کو ایجاد کا خالق کہتا ہوں تو میں دراصل بڑی چالاکی سے مارکس کے فلسفہ مادیت کو کمزور کرنے اور اس کی جگہ مذہبی فلسفہ کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہوں – اس دوست نے بتایا کہ انسان کو ضرورت ہی نےکام کرنے پر مجبور کیا اور اس کے نتیجہ میں زبان اور علم پیدا ہوئے -تاہم اس دوست کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ وہ ان گنت حیوان حتیٰکہ پالتو جانور جن کی ضرورتیں اور اذیتیں انسانوں سے کم نہیں ، آخر کیوں لاکھوں برس میں کوئی زبان اور علم پیدا نہیں کر سکے -میں مارکسزم پر اپنا اختلافی نقطہ نظر لکھنے سے ہمیشہ پرہیز کرتا ہوں کیونکہ اس وقت دنیا بھر کے انسان دوستوں کا مقابلہ وسطی صدیوں کی منظم جہالت سے ہے ، جس میں انسان دوست قوتوں کا اتحاد ضروری ہے –

image

ایسے وقت میں بعض دوستوں کا مجرد فکری اضطراب مسائل پیدا کرتا ہے اور سماجی حقائق کی روشنی میں غلط ہے -ضرورت اور محنت سے متعلق ان سادہ سی سچائیوں پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو- مگر حقیقت یہ ہے یہ سچائیاں اور یہ محاورہ کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ، مارکس کی دریافت نہیں –
یہ محاورہ صدیوں سے مومنوں اور ملحدوں، عینیت پرستوں اور مادیت پرستوں کو یکساں قبول رہا ہے – مارکس نے تو اس سے آگے کی بات کی – اس نے اس صداقت پر زور دیا کہ ضرورت )حاجت ، جبریت، تقدیر( اندھی ہے ،تاریک ہے ، اس کا ادراک آزادی ہے ، روشنی ہے – یعنی ضرورت کی تاریکی سے نکلنے کے لئے خود ضرورت رہنما نہیں بنتی ، نہ ہی محنت رہنمائی کرتی ہے ، بلکہ ادرا ک یعنی متعلقہ ضرورت یا مجبوری کا ادراک ، ہی جبر سے قدر کی طرف رستے دکھاتا ہے-
مارکس کا یہی نقطہ نظر اسکے فلسفہ کو میکانکی مادیت سے ممتاز کرتا ہے-ہمیں اچھا لگے یا برا ، لیکن سچ یہ ہے ضرورت خود ایک محرک سے زیادہ کچھ نہیں – ضرورت ایک حیوان کو بھی تحریک کرتی ہے لیکن حیوان لاکھوں برس میں نہ علم پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایجاد – علم محض ضرورت سے پیدا نہیں ہو جاتا – یہ اس ذھانت کا پھل ہےجو زندگی کے ارتقائی عمل سے پیدا ہوئی – زندگی کو ارتقا کے لئے بقا کی جنگ نے مجبور کیا -اسی بحث کے ساتھ جڑا ہوا سوال یہ ہے کہ انسانوں کے رویوں اور اعمال میں علم و شعور کا کوئی رول ہے یا نہیں ؟

جمادات اور فطرت کے عناصر اپنی خاصیتوں سے ذرا سا انحراف نہیں کرتے- حیوانات بھی اپنی جبلتوں کے مطابق رد عمل ظاہر کرتے ہیں جن کا پیشگی اندازہ کافی حد تک ممکن ہوتا ہے – ایک کم ذہین انسان کے رد عمل کا اندازہ بھی کسی حد تک ممکن ہوتا ہے لیکن انسانی دماغ کی نشو و نما اسکے رویوں کو پیچیدہ بناتی چلی جاتی ہے ، حتیٰ کہ اسکے فیصلے اس کی”فکری منطق ” کے پابند ہو جاتے ہیں- چنانچہ جب ہم کسی ضرورت یا جبریت سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمارا علم وشعور ہی ہمارے ردعمل کا تعین کرتا ہے – سادہ ترین مثال یہ ہے کہ اگر ایک جانور کو رسی سےباندھ دیا جاۓ تو وہ آزادی کے لئے کوئی ایسا طریقه ایجاد نہیں کرتا جو اسی طرح بندھا ہوا انسان کرتا ہے- برطانیہ کے ایک مقامی پرو فیسر کا رد عمل اپنی بیٹی کی ڈیٹنگ کا سن کر اسی طرح کا نہیں ہوتا جیسا ایک پاکستانی گارڈ کا ہوسکتا ہے ، جو لندن میں تیس برس سے آباد ہے –

image

کیا علم کو ایجاد کا خالق کہنے سے علّت و معلول کا سلسلہ ) Causation( ٹوٹ جاتا ہے ؟

یعنی کیا اس بیان سے کسی ما بعد الطبیعاتی فلسفہ کے لئے میدان صاف ہو جاتا ہے ؟ گرچہ دہریت کو پھیلانا سکیڑنا میرا درد سر نہیں ، تاہم یہ میرا ایمان ہے کہ انسانی نسلوں کی بقا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انکے فیصلے انسانی علم کی روشنی میں ہوں جو قابل تصدیق ہو اور مزید علم کے رستے کھولے – کیونکہ ہر معلوم کے پیچھے ایک نامعلوم منتظر ہے کہ اسے معلوم کیا جاۓ –

جب ہم کہتے ہیں کہ کائنات اور زندگی کی ظاہری شکلوں کے پیچھے چھپے ہوئے قوانین کوجان لیناعلم ہے، اور جب ہم علم سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انسانی ادراک کے متفقہ معیاروں سے تصدیق کیا جا سکے ، تو ہم دریافت کرنےکی انسانی کاوش کوعلم کا سرچشمہ قراردیتے ہیں – انسانی کاوش کا یہ چشمہ ، تجسس اور انہماک کی گہرائیوں سے نکلتا ہے – تجسس اور انہماک تربیت اور تہذیب نفس سے آتے ہیں ، فرد کی تربیت اور تہذیب معاشرتی اداروں سے آتی ہے- معاشرتی اداروں کی کارکردگی معاشرہ کی ترجیحات کا نتیجہ ہوتی ہے-

فیصلہ کن اہمیت کا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترجیحات معاشرہ کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں؟

یہ تحریر ڈاکٹر مبارک حیدر کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے

Advertisements

One thought on “سائنس اور ہمارا معاشرہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s