زندگی کا مقصد کیا ہے؟

زندگی کا مقصد

image

یہ جو لفظ ‘مقصد یا مقصدیت’ ہے.
یہ انسان کی اپنی ایجاد اور ضرورت ہے۔۔۔ورنہ کائنات میں اس کا کوئی وجود نہیں۔۔۔
یہ انسان ہے ، جو ہر چیز میں ‘مقصد’ دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔
حتی کہ اپنے وجود اور اپنے ہونے کا بھی۔۔۔وہ جو بھی چیز دیکھتا ہے۔۔کہتا ہے۔۔اس کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔۔میں اس کو کیسےاستعمال اور اسے کیسے اپنے فائدے میں لا سکتا ہوں.

‘مقصد’ کا تصور بھی انسانی شعور کے ارتقا کے سفر میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنے لاکھوں سال ابتدائی سال اسی مقصد کے تصور کے بغیر ہی گزارے۔۔)حیوانوں کی طرح(۔ چنانچہ مقصد کا تصور انسانی شعور کا پیدا کردہ ہے۔

image

میں کیا ہوں، کس لئے ہوں۔۔میں نے زندہ رہنا ہے تو کس لئے۔۔۔اصل میں انسان اپنے ہونے کو meaningful کرنا چاہتا ہے۔یہ اس کی انا کے لئے ضروری ہے۔۔کہ اس کی ذات اور وجود بے کار اور فضول نہیں ہے.
کسی پودے، حیوان،ستارے سیارے کو کوئی غرض نہیں ۔۔۔کہ اس کا کیا مقصد ہے۔۔۔اس کا مطلب یہ ہوا۔۔کہ کائنات بذات خود بے مقصد ہے۔۔۔ بارش کے ہونے کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔۔وہ اپنے قانون فطرت کے تحت پیدا ہوتی اور برستی ہے۔۔۔
اب اس سے کوئی ذرخیزی کا مقصد پورا کررہا ہے۔، کوئی نہریں ، دریا، ڈیم بنا کر اس کے پانی سے “مقصد” کشید کر رہا ہے۔۔یا اس سے کسی کا کچا مکان گر رہا ہے۔۔بارش کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔۔
سورج کو کچھ پتا نہیں۔کہ اس کی روشنی سے یہاں زمین پر حیات نام کا کیا ڈرامہ رچا ہوا ہے۔۔فطرت اور قدرت اندھی ہے۔۔۔اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔۔

image

یہ انسان کی کم نظری اور خود پسندی تھی۔۔۔کہ اس نے سمجھا۔۔”خالق” نے یہ ساری کائنات ‘اس کی ضروریات’ کے لئے بنائی ہے.
اسٹیفن ہاکنگ لکھتا ہے۔۔کہ اگر اسے مان بھی لیا جائے، کہ خدا نے یہ سب انسان کے لئے بنایا تھا۔۔تو اس کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ ایک کہکشاں ہی کافی تھی۔۔۔!!! اربوں کھربوں کہکشاوں کی کوئی تُک نظر نہیں آتی۔۔۔۔لہذا مقصدیت کا سوال انسانی ساختہ ہے.

دوسری اہم بات یہ ہے، کہ مقصد انسانی زندگی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔۔ہم پیدا )اندھے( قانون فطرت کے مطابق ہوتے ہیں۔۔۔مقصد کا تعین اور عنصر پیدایش اور موت کے درمیانی وقفے کے لئے ہوتا ہے۔۔۔یہ میں ہوں، جو اپنی زندگی کو بامقصد دیکھنا چاہتا ہے۔۔سب سوال ہم انسان ہی پیدا کرتےہیں۔اور ان کے جواب بھی خود ہی ڈھونڈنے ہیں۔۔تہذیبی علمی شعوری ارتقا کا سفر ہماری زندگی کو بامقصد بناتا چلا جاتا ہے۔۔۔

image

اگر مرنےکے وقت مجھے یہ احساس ہو، کہ میں نے زندگی کو بےکار نہیں گزارا,
اپنی صلاحیتوں،انرجی سے انسانیت ، فطرت اور قدرت کے ماحول کی بہتری کے لئے کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے تو انسان یقینا کسی توہم پرستی میں پڑے بغیر اس دنیا سے اطمینان سے چلا جائے گا.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s