کائنات کے آخری کونے تک سفر

عظیم کائنات اور چھوٹا انسان

image

کائنات میں جس طرف بھی دیکھیں ہمارے گرد 45.7 ارب نوری سال کا ایک ایسا غبارہ ہے جس سے پرے ہم کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے، زمین سے45.7 ارب نوری سال کی کائناتی حد یا باڑ آخر ہے کیا ؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئیے ہمیں چند ایک حقیقتوں سے واقف ہونا پڑے گا، کائنات میں محو سفر سب سے تیز رفتار روشنی ہے جوکہ خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتارسے سفر کرتی ہے، ہمارے مواصلاتی نظام روشنی کی رفتار پر کام کرتے ہیں اسی لئیے ہم زمین کے دوسری طرف بیٹھے لوگوں سے فون پر اس طرح سے بات کر سکتے ہیں جیسے روبرو بیٹھے ہوں۔

image

روشنی ایک سال میں جو فاصلہ طے کرتی ہے اسکو 1 نوری سال کہا جاتا ہے۔ آج انسان کا تیز ترین خلائی سفر کیلمیکل راکٹوں کے ذریعے طے سے ہوتا ہے جو کہ ایک بچے کہ ابتدائی قدموں کی طرح ہے ہمیں خلائی سفر میں چلنا اور بھاگنا ابھی سیکھنا ہے، روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے لئیے شائد زیادہ سے زیادہ چند صدیوں یا کم سے کم چند دھائیوں کی سائسنی تحقیق کی ضرورت ہو، تھیوری میں تو روشنی کی رفتار سے تیز سفر بھی ممکن نظر آتا ہے مگر اس مضمون کی مد میں کائناتی وسعت بیان کرنے کے مقصد کی خاطر ہم اپنے سفر کو روشنی کی رفتار تک ہی محدود رکھیں گے، روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے لئیے انسان کو انتہائی مضبوط اور پائدار خلائی کشتیاں بنانی ہوں گی جن کے ذریعے مستقبل کے انسان اپنے حقیقی کائناتی سفر کا آغاز کر سکیں گے۔

اب اگر مستقبل کے انسان روشنی کی رفتار سے زمین سے سفر شروع کریں تو صرف 1.2 سیکنڈ میں چاند تک پہنچ جائیں گے، اگر چاند سے سورج کی طرف واپس محو سفر ہوں تو 8.53 منٹ میں سورج کو جا چھوئیں گے، سورج سے روشنی کی رفتار پر پلوٹو تک جانے میں 6 گھنٹے اور 56 منٹ لگیں گے۔

اب پلوٹو سے آگے پلوٹو جیسی چھوٹی چھوٹی سرد کئی دنیائیں ہیں، نظام شمسی کی بیرونی حصے میں انتہائی سرد شہابیے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں، شہابیون کے اس پھیلاؤ کو اورٹ کلاؤڈ کا نام دیا جاتا ہے، اس کا پھلاؤ 2 نوری سال کے سطر پر ہے 1.6 سال روشنی کی رفتار پر سفر کرنے کے بعد مستقبل کے انسان اورٹ کلاؤڈ میں داخل ہو جائیں گے اور 2 سال بعد اس سے نکلیں گے ان 2 سالوں کے سفر کے بعد یہ سورج کی کشش ثقل سے آزاد ہو جائیں گے۔

image

اب مستقبل کے انسان بین الستارہ خلا میں پہنچ چکے ہوں گے، یہاں سے سفر کرتےسورج کے قرب ترین ستارے پروکسیما سینٹاری تک پہنچنے میں انہیں 4.22 سال لگ جائیں گے۔
سیریئس جو کہ رات کو چمکنے والا سب سے روشن ستارہ ہے اس تک یہ 8.60 سال بعد ہی پہنچ سکیں گے۔
ستارے ٹاؤ سیٹی تک پہنچنے میں 11.9 سال لگ جائیں گے اسکے گرد ایک زمین سے چھ گنا ہجم کا ایک سیارہ محو گردش ہے جو کہ اسکے گولڈی لاک زون(قابل زندگی دوری) میں ہے۔ پھر روشنی کی رفتار پر 20.5 سال سفر کرنے کے بعد وہ گلیشے 581 جی پر پہنچیں گے یہ زمین سے 3 یا چار گنا ہجم کا ایسا سیارہ ہے جو زندگی رکھنے کے قابل ہے۔ اب ایسا ہے کہ ان ستاروں کے گرد یقیناً اور بھی چھوٹے ستارے محو گردش ہوں گے مگر آج کی ٹیکنالوجی کے مطابق زمیں سے انکا مشاہدہ کرناانتہائی مشکل ہے، ان چھپے ہوئے چھوٹے سیاروں کے بارے انہیں ان دور افتادہ نظام شمشی میں جا کر ہی اندازہ ہو گا، اسکے بعد کا خلائی سفر ایک انسان کی زندگی میں ممکن نہیں ہو گا، مجبوراً انہیں واپس آنا پڑے گا جو خلانورد اپنی 25 سالہ بیوی کو چھوڑ کر اس سفر پر روانہ ہو گا جب وہ واپس آئے گا تو وہ 66 سال کی ہو گی اور وہ عمر میں کم ہی بڑھا ہو گا کیونکہ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے سے وقت کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
اس سے اگے جو بھی وقت بتایا گیا ہے وہ زمین یا عام رفتار پر سفر کرنے والوں کا وقت ہے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں کے لئیے وقت سست رو ہو جائے گا۔

image

اس سے اگے کے کائناتی سفر کو جاری رکھنے کے لئیے انسان کو ایک یکسر مختلف حکمت عملی اپنانی پڑے گی، ایسی دیوہیکل خلائی کشتیاں بنانی ہوں گے جن پر خلائی دریافت کرنے والے کئی خانداں صدیوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں سال تک رہ سکیں، اس قسم کی خلائی کشتیوں میں مصنوعی کشش ثقل کے نظام نصب کرنے پڑیں گے، ساتھ ہی زندگی کے لیئے ضروری پودے حیوانات وغیرہ، نیز ایک ایسی آب و ہوا بنانی پڑے گی جو کہ ایک انتہائی لمبے عرصے تک زندگی کی پرورش کر سکے بلکہ اسکے لئیے انسانی جینیاتی ساخت کو بھی بدلنا پڑے گا، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مشینوں سے جڑے ہوئے انسان خلائی سفر کے لئیے موزوں ترین ہوں گے، مطلب روبوٹ اور انسان کا ملاپ سائبارگ، یا پھر بڑھاپے اور موت سے آزاد ہمیشہ یا ہزاروں لاکھوں سال تک زندہ رہنے والے لافانی انسان، یہ لمبی زنگی کا حصول اتنا مشکل نہیں ہے جتنا محسوس ہو رہا ہے جینیات کی مد میں کی جانے والی تحقیق نے بڑھاپے اور موت کے علاج کی جانب واضع اشارے دئیے ہیں.

اگر ایسا ممکن ہوا تو انسان سیاروں پر رہنے کے بجائے خلاء میں بسنے والی ایک خانہ بدوش نسل بن چکے ہوں گے جن کے لئیے ممکنات بے شمار ہوں گی، انکی خلائی کشتیوں کا ہجم ایک چھوٹے شہر سے لے کر ایک ملک کے برابر یا پھر زمین سے بھی بڑا ہو گا اور یہ کروڑوں انسانوں  کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم کر سکیں گھی، ان کشتیوں کا مادہ کھنڈر سیاروں یا پھر شہابیوں سے لیا گیا ہو گا، جن پر کروڑوں نہیں تو لاکھوں انسان رہتے ہوں گے۔ ایسی کشتیاں بنانے کے لئیے مستقبل کے انسان زمین کے بجائے کل نظام شمسی کے وسائل بروئے کار لائیں گے

image

آخر کار زمین پر 310 دس سال گزرنے کے بعد روشنی کی رفتار پر سفر کرنے والے مستقبل کے انسان ستارے کنوپس تک پہنچیں گے، جو کہ رات کے آسمان کا دوسرا چمکدار ترین سپر جائنٹ ستارہ ہے یہ سورج سے 15000 گنا زیادہ چمکدار ہے۔

اسکے بعد روشنی کی رفتار پر ایک تویل ترین خلائی مسافت زمین پر 26000 سال گزرنے کے بعد مستقبل کے انسان اپنی اگلی منزل ملکی وے کہکشاں کے دامن میں پہنچیں گے یہ عرصہ تمام لکھی ہوئی انسانی تاریخ سے پانچ گنا زیادہ ہے انسان کو زراعت سیکھے ہوئے عرصے سے دوگنا ہے، ان 26000 سالون میں دوسرے(یعنی زمین پر اور دوسرے قسم کے نظام خلائی سفر کو استعمال کرنے والے) انسان اپنے خلائی ارتقاء کی پہلی سیڑھیاں چڑھ چکا ہو گا اسکو یہ تو معلوم ہو گا کہ وہ زمین سے آیا تھا مگر اب خلا ہی اسکا گھر ہو گی وہ خلا کی وسعت میں پھیل چکا ہو گا، اسوقت کا انسان کسی ایک سیارے ستارے یا شہابیے سے نہیں بلکہ جہاں سے بھی انکو اپنی مرضی کا مادہ یا توانائی ملے لے لے گا، اور کائنات میں رہنے والی ہزاروں زندگی رکھنے والے سیاروں کو دریافت کر چکا ہو گا ، شائد اسوقت کے انسان روشنی کی رفتار سےٓ سفر کرنے سے بہتر سفری نظام(وارپ ڈرائیو) بنا چکے ہوں اور ہماری روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی کشتیاں بنانے کو کئی ہزار سال پہلے ہی خیر باد کہہ چکے ہوں، مگر ہم فی الحال اسی روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی کشتی کے ساتھ چمٹے رہیں گے ۔

اگر اسی طرح روشنی کی رفتار پر سفر کرتے رہیں تو مستقبل کے انسانوں کی خلائی کشتی زمین پر اپنا سفر شروع کرنے سے 1 لاکھ 65 ہزار سال کے بعد بڑے میگیلینک بادل میں آج تک مشاہدے میں آنے والے سب سے زیادہ چمکدار ستارے A1136 R تک پہنچ جائے گی یہ ستارہ سورج سے 87 لاکھ گنا زیادہ چمکدار ہے۔ اب اگر مستقبل کے انسان یہاں سے انڈرومیڈا کہکشاں جانا چاہیں تو 2.5 لاکھ سال کا عرصہ درکار ہو گا یہ 2.5 لاکھ سال کا عارصہ موجودہ انسان کے ارتقاء پزیر ہونے کے عرصے کے برابر ہے پچھلے برفانی دور کے دوگنا سے بھی زیادہ ہے، اس لمبے عرصے کے بعد انسان زمین پر کیسی شکل اختیار کرے گا اسکے بارے میں کہنا انتہائی مشکل ہے ۔ اب اسی روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی کشتی میں بیٹھے انسان اگر ٹرائینگلم کہکشاں پہنچ جائیں تو3 لاکھ سال گزر چکے ہوں گے۔ یہ کائنات کی بائونڈری یعنی حد کی طرف روشنی کی رفتار سے سفر کے انتہائی ابتدائی لمحات ہوں گے۔

image

اس سے اگے پھر ایک لمبی خاموشی چھا جائے گی اور ورگو سپر کلسٹر جو کے ہماری ملکے وے کہکشاں، انڈرومیڈا کہکشاں اور کچھ قریبی کہکشاؤں کا جھنڈ ہے اسکے دامن تک جانے میں 59 لاکھ سال لگ جائیں گے یہ طویل وقت ہمارے ابتدائی جدوں کے زمین پر ارتقاء پزیر ہونے سے آدھا ہے مطلب 59 لاکھ سال پہلے ہمارے بندر نما جد زمین پر رہتے تھے، گریٹ اٹریکٹر جو کہ کائنات کی قابل مشاہدہ کہکشاؤں کے درمیان میں ایک انتہائی بڑا کوئی 10000 کہکشاؤں کا بادل ہے تک جانے میں انہیں 1.5 سے 2.5 کروڑ سال کا عرصہ لگ جائے گا، سلون گریٹ وال جو کہ کہکشاوں کہ ایک عظیم تہہ ہے جس میں اربوں کہکشائیں ہیں اسکی باڑ تک جانے میں 1.2 ارب سال لگ جائیں گے یہ زمین پر ملٹی سیل لائف کی عمر سے زیادہ عرصہ ہے، پھر یہاں سے آگے سب سے روشن کویزار ستارے327 C3 تک پہنچنے میں 4.2 ارب سال لگ جائیں گے، 4.2 ارب سال کا یہ سفر ہماری زمین کی کل عمر سے طویل الوقت ہے اگر یہیں سے یہ انسان 4.2 ارب سال سفر کر کے واپس زمین پر آئیں تو زمین کچھ 3 ارب سال پہلے سورج کے پھٹنے سے تباہ ہو چکی ہو گی جبکہ انکو شائد چند لاکھ سال ہی گزرہے ہوں، کیونکہ یہ روشنی کی رفتار پر سفر کرنے کا نقصان ہے کہ آپکا وقت سست رو جبکہ دوسروں کا وقت انتہائی تیزی سے گزر جاتا ہے،مگر زمین کی طرف واپس جانے کے بجائے مستقبل کے انسان روشنی کی رفتار سے سفر کرتے رہیں تو 45.7 ارب سال بعد وہ آج کی قابل مشاہدہ کائنات کی حد یا باڑ تک پہنچ جائیں گے مگر وہ دیکھیں گے کہ اس سے آگے بھی اتنی ہی کائنات ہے جتنی میں وہ پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں، انکے اس سفر کے دوران زمین پر یا کسی اور سیارے پر رہنے والے انسانوں کے لئیے 45.7 ارب سال گزر چکے ہوں گے۔ شائد دوسرے انسان ناپید ہوچلے ہونگے۔

image

اب 13.8 سالہ کائنات میں 45.7 سال دور سے روشنی ہم تک کیسے پہنجچ گئی؟ اسکی وجہ ہے کائنات میی روشنی کی رفتا جو کہ صرف 3 لاکھ کلیومیٹر فی سیکنڈ تک محدود ہے ہمارے مشاہدے کی حد اس جگہ تک ہے جہاں سے پرے کی روشنی 13.8 ارب سالہ کائناتی زنگی میں ہم تک نہیں پہنچی، تو بات ایسی ہے کہ خلا اور وقت کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایسا ہوا، اسکے معاملے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن پر روشنی ڈالنا یہاں ممکن نہیں ہے۔

اگر آجکا انسان خود اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں سے قیامت کی آرزو پوری نہ کرے تو یقیناً زمینی زندگی سے ارتقاء پزیر زندگی کروڑوں ستاروں اور سیاروں پر پھیل چکی ہو گی۔ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا کیا حاصل کیا ہو گا اسکا ہم بالکل بھی ادراک نہیں کر سکتے، بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک عالمِ حیرت و جادوگری ہو گا۔

آج کے انسان میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ ستاروں اور کہکشاؤں سے لمبی زندگی رکھ سکے، کائنات عظیم ہے انسان چھوٹا ہے مگر تبھی تک جب تک وہ اپنے اندر چھپی ہوئی عظمت کو نہ پہچان لے اربوں سال تو بہت لمبی بات ہے، اگر انسان صرف اگلی چند صدیاں ہی امن اور سلامتی سے گزار لے، جہالت، نسل پرستی اور نفرت سے نکل کر سائنس اور انسانیت کو اپنا نصب العین بنا لے تو آخر کار وہ اس کائناتی مستقبل کو ضرور پا لے گا، انسان ایک ایسی تہذیب کی شروعات کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے جو ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہو۔ یہ کائناتی وسعت اور ہمیشہ کی زندگی کا واحد خواب ہے جو پورا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنت کے خوابوں سے اس خواب میں حقیقت کے رنگ بھرنا زیادہ ممکن ہے،  آج ہم اپنے کائناتی سفر کے پہلے بچگانہ قدم اٹھا رہے ہیں، جب مستقبل کے انسان اس مد میں چلنا اور دوڑنا سیکھ جائیں گے.
مستقبل کے انسان ہم سے کہیں زیادہ ذہین پر اعتماد اور امن پسند ہوں گے، مگر انکی راہ ہموار کرنے کے لیے ہمیں اپنا پیچھا جہالت اور توہم پرستی سے چھڑانا ہوگا، یقیناً جنت تلواروں کے سائے میں نہیں بلکہ آسمان کے ستاروں میں کہیں چھپی ہوئی ہے، اور ستارے ہماری دسترس سے باہر نہیں ہیں۔

اسی موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم
اسی موضوع پر دوسری ڈاکومنٹری فلم

یہ تحریر نوائے سروش کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے