کیمیائی ہتھیار

کیمیائی ہتھیاروں کی اقسام

image

ایک ایسا آلہ ہے جو کیمیائی ترکیب سے تشکیل دے کر انسانوں کو مارنے یا ہمیشہ کے لیے معذور بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ کے پیش نظر جس میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے بہت سارے انسانوں کو قتل کیا ہے بلکہ اس جیسے دوسرے ممالک کو بھی حیران کیا ہے۔ کیمیائی ہتھیار بہت سارے دوسرے ہتھیاروں کی نسبت زیادہ خطرناک اور اذیت ناک موت کا سبب بنتے ہیں۔ حیاتیاتی ہتھیار اور کیمیائی ہتھیار دونوں ہی بہت خطرناک ہیں۔

ان ہتھیاروں کہ لیے ایک اصلاح استعمال کی جاتی ہے۔انبوہ تباہی ہتھیار( ویپن آف ماس ڈسٹریکشن) سے مراد ایسے ہتھیار ہیں جو لوگوں کی کثیر تعداد کو مار سکتا ہو اور ان کو خطیر ضرر پہنچا سکتا ہو۔ اس کے علاوہ انسان کی بنائی عمارتوں اور دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کرہ ارض کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

جدید دور میں انسان نے اپنے دشمن کو تلف کرنے کے لیے جدید اسلحہ تیار کر لیا ہے کہیں پر انسانی کی طرز کے روبوٹ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور کہیں پر جان لیوا بیماریوں کے جراثیم سے جنگ کے لیے تیاریاں ہو رہیں ہیں اسی میں سے ایک نرو گیس ہے جو کہ کیمیائی ہتھیاروں میں شامل ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ایک لمبی تعداد ہے جن میں سے انسانی جسم پر اثرانداز ہونے کہ اعتبار سے ذکر کیا جائے گا۔

سب سے پہلے وہ کیمیکل جو انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان کو حرکت کرنے سوچنے اور کسی بھی اعصابی عمل سے روک کر کچھ ہی وقت میں موت کا باعث بنتے ہیں۔

image

1: سیرین: یہ بے رنگ اور بے بو مائع ہے یہ نرو ایجنٹ بھی کہلاتا ہے اور اس کو اقوام متحدہ کی طرف سے عوام الناس کی موت کا سب قرار دیا گیا ہے۔ اس کا سب سے پہلے استعمال 1950 میں ہوا اور آخری دفعہ 2013 میں ممکنہ طور پر خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شامیوں نے یہ کیمیکل استعمال کیا ہے۔ یہ سائینائڈ سے بھی پانچ سو گناہ زیادہ خطرناک ہے۔ اور اس کا اثر سب سے پہلے ناک بہنا، سینے میں جکڑن، آنکھ کی پتلیوں کا سکڑنا، سانس کا روکنا، متلی، اور قے کے ساتھ ہی جسم روک جاتا ہے جس کہ ساتھ جھٹکے لگتے ہیں تھوڑی دیر بعد موت کا سبب بن جاتاہے۔

2: سومان: یہ کیمیکل بھی بہت زہریلہ ہے اور عمل کے لحاظ سے سیرین کی طرح ہی ایسی ٹائل کولین ایسٹریز انزیم پر عمل کرتا ہے۔اس کو بھی نرو ایجنٹ ہی کہتے ہیں۔ اس کو جنگ عظیم اول میں استعمال کیا گیا۔

image

3: سائیکلوسیرین : یہ کیمیائی ہتھیار سب سے پہلے جرمنی نے جنگ عظیم دوم میں تیار کیے تھے یہ نرو ایجنٹ کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جو انسانی اعصابی نظام پر اثر کرتے ہیں۔

4:تابون: یہ شفاف،بے رنگ، بے ذائقہ مائع ہے جس کی پھلوں جیسی خوشبو ہے۔ یہ بھی اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر اسے مفلوج بنا دیتا ہے۔ اوپر درج تمام کیمیکل اور تابوں کو جی سیریز کیمکل کہا جاتا ہے جو انتہائی زہریلے ہیں۔ اس کو حادثاتی طور پر جرمنوں نے 1936 میں دریافت کیا تھا۔

دوسرے نمبر پر ہم جلد کو جلا دینے والے کیمیکل کا ذکر کریں گے جن کو بلسٹرینگ ایجنٹ کہتے ہیں۔ یہ کیمیائی ہتھیار جنگوں میں مخالف فوج کو جلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اس سے انسانی جلد کو جلا کر بھسم کر دیتے ہیں۔

مسٹرڈ گیس: مسٹرڈ گیس کاربن، ہائیڈرجن، سلفر اور کلورین کا مرکب ہے۔ یہ بے رنگ گاڑھا مائع ہے جو زرد سے بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور بو سرسوں اور لہسن کے پودے سے ملتی ہے۔ اس کو بھی جرمن آرمی نے1916میں ہی بنایا تھا۔اس کے اثرات میں سب سے اہم جلد کا جل جانا اور اس میں زرد رنگ کا پانی بھر جانا ہے جو سلفر ہی ہوتا ہے اس کے علاوہ نظام تنفس پر بھی اس کا بہت خطرناک اثر ہے۔صدام حسین نے اس کو استعمال کر کے 4000 کے قریب کرد ماردیے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے مصری افواج کے خلاف ہونے والی دونوں بڑی جنگوں میں اِن بھیانک کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔

تیسرے نمبر پر نظام تنفس پر اثر کرنے والے ہتھیار شامل ہیں

کیمیائی ہتھیاروں کی ایک اور بھیانک قسم سانس روک کر انتہائی دردناک موت سے دوچار کرنے والے کیمیکلز کلورین اور فاسجین وغیرہ شامل ہیں۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا شکار بننے والے کی سانس کی نالی بند ہوجاتی ہے اور دم گھٹنے سے وہ انتہائی بھیانک موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایسے کیمیائی ہتھیار بھی ہیں جن کے شکار افراد پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے لقوے/ فالج کا شکار ہوگئے ہوں۔ اچھا خاصا تندرست انسان اِن ہتھیاروں کے اثر کی وجہ سے کوئی بھی حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسے کیمیائی ہتھیاروں کو دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کیمیائی ہتھیار ایسا بھی ہے۔ جس کا شکار انسان الٹیاں کر کر کے نڈھال ہو جاتا ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے۔

ان کے علاوہ بہت سارے زہریلے مادے استعمال کیے جا سکتے ہیں جن میں سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی جاتی ہے۔

اس مضمون کا مقصد ہتھیاروں سے آگہی ہے جس کا شکار پوری دنیا کے انسان ہو رہے ہیں۔ ویسے تو ہتھیاروں کی بہت ساری قسمیں ہیں لیکن کیمیائی ہتھیار سب سے ذیادہ استعمال ہو تے ہیں۔

فیس بک : اناالحق

یہ تحریر ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s