اوہم پرستی

اوہم پرستی اور بیماریاں

image

اوہم پرستی نے کبھی بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑا انسان جتنا شعور کا دعوہ کرے وہ اوہام پرستی سے بچ نہیں سکتا۔

اوہم پرستی مذاہب میں بھی شامل ہے اور اس سے جدا انسان کی روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے انسان اس کی لپیٹ میں رہے ہیں..
اور بیماریوں کی وجہ بھوت پریت کو سمجھنا اور ان کا علاج بھی انھیں ٹونے ٹوٹکوں سے کیا جاتا رہاہے۔

جیسے روم میں بخار اتارنے کے لیے مریض کے ناخن کاٹنے کے بعد موم میں ڈبو کر طلوع آفتاب سے قبل ہمسائے کے دروازے کے آگے رکھ دئے جاتے ہیں۔

افلاطون جیسا مفکر اپنی جمہوری ریاست میں لوگوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے گھر کے دروازے یا بزرگوں کی قبروں پر پڑی موم دیکھو تو جان لو کہ کیسی نے ٹونا کیا ہے لہذا اس کے توڑ کی کوشش کرو۔

چوتھی صدی میں بورڈیکس کے مارسیلس نے موہکوں کا روحانی علاج بتایا جو آج بھی یورپی معاشروں میں مانا جاتا ہے۔تم اپنے موہکے کے برابر پتھر کو اپنے موہکے پر رگڑو پھر اس پتھر کو شاہ بلوط کے پتے میں باندھ کر عام گزر گا پر پھنک دو۔ جو شخص اس پتھر کو چھوئے گا اس کو موہکے نکل آئیں گے اور مریض کے موہکے صاف ہو جائیں گے۔

جزائر ارکنی کے لوگ اپنے مریضوں کو نہلانے کے بعد پانی گزر گاہپر پھینک دیتے ہیں جو شخص اس پانی سے گزرتا ہے وہ اس مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بویریا میں بخار اتارنے کے لئے کاغذ کے ٹکرے پر یہ عبارت لکھ کر کہ “بخار ٹھہرو، رک جاؤ” کسی کی جیب میں ڈال دی جاتی ہےجس سے اس شخص کو بخار چڑھ جاتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

دانت درد کا علاج : شبھ دن میں شبھ گھڑی میں مینڈک پکڑ کر اس کا منہ کھول کر کہو میرا دانت درد ہے اس کے بعد مینڈک کو چھوڑ دو۔

منہ آنا اور منہ پکنے کا علاج: مینڈک کا منہ پکڑ کر مریض کے منہ میں دے کر کہتا ہے اس کا مرض فوراً لے لو۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مینڈک کھانسنے لگتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

کھانسی:نارتھ مپٹن شائر ، ڈیو شائر اور ویلز کے علاقے میں کھانسی کے مریض کا علاج کرنے کے لیے مریض کے سر کے بال اتار کا ڈبل روٹی میں رکھ کر کتے کو کھلا دئے جاتے ہیں جس سے کھانسی کتے کو لگ جاتی ہے۔

بخار: اولڈن برگ کے علاقے میں بخار کے مریض کے حصے کا دودھ کتے کو پلایا جاتا ہے اور دوبارہ مریض کو پلایا جاتا ہے جس سے بخارکتے میں منتقل ہو جاتا ہے۔

تپ دق: ویدک لوگ تپدق کا علاج نیل کنٹھ سے کرتے تھے۔

مریض کا مرض: ایتھینز میں سینٹ جان کے گرجا کا ستون اس کام کے لیے با لعموم استعمال کیا جاتا ہے۔ بخار کے مریض ایک دھگہ کو موم لگا کر اس کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔

سرگرانی: مریض سن کے کھیت میں عریاں تین چکر لگا آئے تو مریض تندرست ہو جاتا ہے۔

گٹھیا: سونن برگ میں گٹھیا کے مریض سن کے پودے کو گرہ لگاکر کہتے ہیں : اے عظیم کتان خدا تمہیں خوش رکھے میں گھٹیا کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے گرہ میں اپنا مرض باندھ دیا ہے۔

یہ چند اہم مثالیں ہیں جو یورپ میں بہت عرصہ رائج رہیں اور کچھ ابھی بھی موجود ہیں۔ آخر انسان ہمیشہ سے اوہام پرست کیوں رہا ہے۔؟؟
ہمارے اردگرد بھی ایسی بہت سی روایات اور توہمات پرستیوں کی مثالیں عام ہیں۔ جو یا تو مذہب کا حصہ تھیں یا انسان نے ان کو آہستہ آہستہ اس کا حصہ بنا لیا۔

بیماریوں کو پریوں، فرشتوں، جنوں اور یورپ میں چڑیل سے ملایا جاتا رہا یعنی بدروحیں اچھے انسانوں کو بیمار کرتیں ہیں اور ان سے بچنے کے لیے ان کو دور کیا جاتا اور نذرانے پیش کیے جاتے۔ایسی طرح بیماری کو گناہوں کی صفائی کا سبب سمجھا جاتا ہے جو شخص جتنا بیمار رہے یعنی وہ گناہوں سے پاک ہو گیا۔ یہ بات بھی بیماری کی اصل تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے۔

بیماری کی وجہ نہ نظر آنے والے جراثیم ہوتے ہیں اس کے دریافت بہت عرصہ بعد کی گئی اس سے پہلے اور کچھ علاقوں اور قبائل میں اب تک اس کو بھوت پریت کی وجہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا علاج کوئی مذہبی نمائندہ ٹونے ٹوٹکوں سے کرتا ہے۔ دم، تعویز، منتر، جنتر اور گٹ ہمارے معاشرے کے اہم ناسور ہیں۔

بیمار کے کمرے میں ہرمل کا دھواں دیا جاتا ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بیمار سے جن دور ہو جاتے ہیں یا کوئی بیرونی سایہ جب کہ ہرمل ایک ایسے پودے کہ بیج ہیں جو جراثیم کش اثرات رکھتا ہے اور ابن سینا اس کو اپنے مریضوں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
اسی طرح یرقان کے علاج کے لیے اکثر ایک قسم کی گھاس کے پھولوں کا ہار بنا کر مریض کے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے اور خشک ہونے تک انتظار کیا جاتا ہے۔مختلف درختوں لکڑی کے ٹکڑے گلے میں ڈالے جاتے ہیں تاکہ مریض ٹھیک ہو جائے۔

نظر وٹو: یہ ایک طرح کا نظر اتارنے کے لیے یا تو کڑا، خالینہ، یا کوئی علامتیہ مریض کو پہنایا جاتا ہے۔ تاکہ وہ نظر بد سے بچے جیسے چشم بد دور جیسے لفظ ست پکارا جاتا ہے۔

ایسی بہت ساری توہمات پرستی پر مبنی بکواسیات ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکیں ہیں۔ جن کو دور کرنا بھی اہم کام ہے اپنے گھراور اردگرد کو اس سے مخفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی چیز کی اصل وجہ کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ اور لوگوں کو تعلیم دی جائے کہ یہ تمام نفسیاتی تسلی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
آپ بھی اپنے اردگرد کی کچھ توہم پرستی یہاں شئیر کریں۔!!

یہ تحریر انالحق کی ٹائم لائن سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s