کائنات میں ہمارا مقام

پهیکا نیلگوں ذرہ

image

اس فاصلاتی زاویہ نگاہ سے دیکھنے پر زمین شاید کوئی خاص دلچسپ نہ لگے ،لیکن ہمارے لئے معاملہ کچھ اور ہے۔ ذرا اِس نکتے پر دوبارہ توجہ دیں۔ یہ یہاں ہے، یہ ہمارا گھر ہے، یہ ہم ہیں۔ اس کے اوپر، تمہارےتمام محبوب ، تمہارےتمام شناسا ،اور وہ تمام لوگ جن کا تم نےکبھی نے سنا ،تاریخِ انسانی کے ہر اک شخص نے یہیں اپنی زندگی گزاری۔ ہماری خوشیوں اور غموں کا مجموعہ، ہزاروں پراعتماد مذاہب، نظریات اور اصولِ اقتصادیات، تاریخ ِ بنی نوع انسانی کا ہر شکاری اور کسان، ہربہادر اور بزدل، ہر تہذیب کا خالق اور اسے فناء کرنے والا، ہر بادشاہ اور فقیر، محبت میں گرفتارہر جواں جوڑا، ہر ماں اور باپ، ہر پُرامید بچہ، ہر موجد اور محقق، اخلاقیات کا ہر مبلغ، ہر بددیانت سیاست دان، ہر سپر اسٹار، ہر رہبر ِاعلیٰ، ہر صوفی اور گناہ گار یہیں رہا کرتا تھا، تیغِ آفتاب میں معلق دھول کے ایک ذرے پر۔

یہ زمین اس وسیع کائنات میں ایک بہت چھوٹا سا اسٹیج ہے، ذرا خون کے ان دریاؤں کے بارے سوچئے میں جو جرنیلوں اور شہنشاہوں نے بہائے، صرف اس لئےکہ وہ پرشکوہ فتح حاصل کرکے اس نکتے کی ایک کسر کے لمحاتی آقا بن سکیں۔ ذرا ان لامتناہی مظالم کاتصورکیجئے جو اس پکسل کے ایک کونے کے باشندوں نے ایک الگ شناخت رکھنے والےکسی دوسرے کونے کے باشندوں پرڈھائے۔انکی غلط فہمیاں کس قدر مستقل ہیں، ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے یہ کس قدربے چین ہیں، انکی اس باہمی نفرت میں کس قدر حرارت ہے۔

پھیکی روشنی کا یہ دھبہ ہماری خودنمائی ، ہماری تصوراتی خود اہمیتی اور اس خوش فہمی کہ ہمیں کائنات میں ایک مراعات یافتہ مقام حاصل ہے،کو ایک چیلنج ہے۔ ہمارا سیارہ کائنات کو گھیرے ہوئے عظیم اندھیرے میں ایک اکیلا ذرہ ہے ۔
ہماری اس گمنامی میں، اس تمام تر وسعت میں ، کوئی اشارہ ایسا نہیں کہ ہمارے لئے کہیں اور سے کوئی مدد آئے گی جو ہمیں ہم ہی سے بچالے۔اب تک زمین ہی ایک ایسا معلوم سیارہ ہے کہ جس پر زندگی موجود ہے، اور ایسی کوئی اور جگہ کم از کم مستقبل قریب میں نہیں جہاں بنی نوع انسان ہجرت کرسکے۔ دورہ ؟ہاں ضرور، رہائش؟ ابھی نہیں۔ پسند کریں یا نہ کریں لیکن فی الوقت ہم زمین ہی کے محتاج ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ علمِ فلکیات ایک منسکر اور کردار ساز تجربہ ہوتاہے، شاید ہماری چھوٹی سی دنیا کی اس فاصلاتی تصویر کے سوا کوئی اور منظر ایسا نہ ہو جو انسانی گھمنڈ کو احمقانہ ثابت کرے۔ میری رائے میں {یہ تصویر} ہماری اس ذمہ داری پر زور دیتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں اور محبت اور حفاظت کریں اس پھیکے نیلگوں نکتے کی، ساری کائنات میں وہ واحد جگہ جسے ہم گھر کہتے ہیں۔

{تصویر: زمین کی یہ تصویر ۱۹۹۰ میں خلائی جہاز وائیجر ۔ون سےچھ بلین کلومیڑ کے ریکارڈ فاصلے سے لی گئی }

کارل ساگان
ترجمہ : بلال امتیاز

یہ تحریر ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s