بچوں کی نفسیات

بچوں سے کیسا رویہ اختیار کیا جائے

image

اس تحقیق میں شامل کیے گئے تمام بچے کسی ذہنی بیماری یا تناؤ کا شکار تھے یا پھر ان بچوں کے روئیے دوسرے بچوں کی نسبت مختلف تھے۔

واشنگٹن —ایک نئی تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ بچوں پر چیخنے چلانے سے ان کی شخصیت پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے بچے ڈپریشن کا بآسانی شکار ہو سکتے ہیں۔اینٹ ماہونی اوہائیو کی بولنگ گرین یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ اینٹ کہتی ہیں کہ، ’اس تحقیق کا لب ِلباب یہ ہے کہ بچوں سے کس انداز میں بات کی جائے، یہ رویہ بچوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہم اس بات کا نظر انداز کر دیتے ہیں مگر ہماری تحقیق سے پتہ چلا کہ جس انداز میں والدین بچوں سے بات کرتے ہیں،اس کے بچوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر ماں باپ بچوں پر چیختے چلاتے رہیں یا پھر بچوں پر ہاتھ اٹھائیں تو اس سے بچوں کی نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے‘۔

image

اس تحقیق میں شامل کیے گئے تمام بچے کسی ذہنی بیماری یا تناؤ کا شکار تھے یا پھر ان کے روئیے دوسرے بچوں کی نسبت مختلف تھے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ بچے زیادہ ذہنی تناؤ، ذہنی بیماریوں یا پھر روئیوں میں تبدیلی کا شکار تھے جن کی والدہ یا تو ان پر چیختی چلاتی تھیں یا پھر انہیں مار پیٹ کا نشانہ بناتی تھیں۔ جبکہ اگر بچوں کو والد کی جانب سے بھی ایسے ہی رویئے کا سامنا ہو تو پھر بچوں میں ڈپریشن میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

image

اس تحقیق میں یہ امر بھی سامنے آیا کہ جو والدین بچوں کو مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں یا پھر چُھری یا گن سے انہیں ڈراتے ہیں، بچوں کو جن، بهوت، چڑیل یا کسی فلم کے ڈراؤنے کردار سے ڈراتے ہیں ایسے بچے ذہنی طور پر زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں اور عام زندگی میں ان بچوں کے روئیے دوسرے بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔اس تحقیق کے لیے ایسے 239 بچوں پر تحقیق کی گئی جن کی عمریں 11 سے 18 برس کی تھیں۔ بچوں سے پوچھا گیا اگر گذشتہ ایک برس میں انہیں اپنے والدین کی جانب سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا یا پھر کبھی انہیں برے ناموں سے بلایا گیا یا ذہنی یاجسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس تحقیق میں بچوں کے والدین کو بھی شامل کیا گیا۔51٪ بچوں کا کہنا تھا کہ انہیں والد یا والدہ یا دونوں والدین کی جانب سے شدید زبانی یا جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

image

عموماً جو ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ڈانٹنے سے بچہ سمجھ جائے گا وہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے اور بگاڑ دیتا ہے، بچوں کے ساتھ دوستی ، نرم اور دهیما لہجہ ہی ان کی نفسیات کو سمجهنے میں معاون ہوتا ہے

ایسے بچوں میں جنہیں والدین کی جانب سے چیخ و پکار یا پھر جسمانی تشدد کا سامنا کرنا، کئی مسائل نوٹ کیے گئے۔ یہ بچے اضطراب، ڈپریشن یا پھر ایسے روئیوں کا شکار تھے اور انہیں اصول توڑنے میں تسکین ملتی تھی

یہ تحریر وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s