زندگی کی ابتداء سائنسی تحقیق

‎ابتدائی خلیہ بدائی المرکز( پروکرئیوٹ سے یو کرئیوٹ تک)‎.

image
            اے بائیوجنسیس

زندگی کی ابتداء ایک سادہ سے خلیہ سے ہوئی جو اے بائیوجنسیس سے اس کرہ ارض پر نمودار ہوا خاص ماحول کے مطابق خلیہ کی نمو ہونا شروع ہو گئی۔ وہ خلیہ پروٹوسیل نما تھا اس خلیہ کی جھلی فاسفولیپڈز سے مل کر بنی تھی اور یہ خلیہ اس وقت آر-این-اے کو بیرونی ماحول سے بچانے کی غرض سے ایک مخفوظ مقام فراہم کر رہا تھا۔

ابتدائی نامیاتی سالمے جن سے زندگی نے ارتقاء پائی ان کے بارے مندرجہ ذیل نظریات موجود ہیں۔

ابتدائی زندگی کے لیے موضوع نامیاتی مرکبات خلاء سے شہاب ثاقب کے ذریعے آئے مثلاء(Murchison meteorite)۔

image
             شہاب ثاقب

زندگی گہرے سمندروں میں موجود گرم چشموں میں پانی  اور دوسرے نامیاتی عناصر کی موجودگی میں پیدا ہوئی۔

ملیر-یوری کے تجربہ کے مطابق ہوا میں چمک  کی موجودگی میں  عناصر کا آپس میں کیمیائی تعامل ہوا جس سے زندگی کے لیے ابتدائی سالمہ بنا۔

image

                   ملیر-یوری کا تجربہ

یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ابتدائی سالمہ جو نمودار ہوا وہ آر-آین-اے تھا ۔ جس میں خودبخود تقسیم ہونے  کی صلاحیت تھی اس کے علاوہ یہ خلیہ وراثتی معلومات ماحول کے مطابق اپنے اندر مخفوظ کر رہا تھا۔جس فکر کے تحت یہ تصور کیا جاتا ہے کہ آر-این-آے ابتدائی سالمہ تھا اسے آر-این-اے مفروضہ کہلاتا ہے۔ آر-این-اے مفروضہ کہ علاوہ پیپٹائیڈ نیوکلیک ایسیڈ  کے بننے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

image

                    آر این اے

ابتدائی خلیہ ہیٹروٹروف تھا۔ ( غیر تغذی)( یعنی اپنی خوراک خود نہ بنا سکنے والا )ایسے تمام جاندار جو ہوائی کاربن کو ضیائی تالیف کے ذریعے مخفوظ نہیں کر سکتے ان کو غیر تغذی اور جو اپنی خوراک کاربن سے بنا سکتے ہیں ان کو خود تغذی کہا جاتا ہے جیسے پودے اور سائنوبیکٹریا وغیرہ۔ بعد میں ابتدائی خلیہ نے کاربن کو محفوظ کرنا سیکھ لیا۔

image

                    ہیٹروٹروف
شحم ، چربی(فیٹس)  یہ بہت ہی پچیدہ نامیاتی پولی مر ہوتے ہیں جو پانی میں تحلیل نہیں ہوتے بلکہ معلق ہو جاتے ہیں۔ پانی میں نا حل پذیری کی بدولت ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گول ویزکل  بنا دیں عموما اس کی مثالیں ہیں لئیپوسوم، ویکیول، مائیسلز وغیرہ اہم ہیں۔ شحم کی خاص قسم جیسے فاسفولیپڈز کہا جاتا ہے جانداروں کی خلوی جھلی بنانے میں مدد دیتی ہے۔

3900 ایم اے بدائی المرکز سے ملتا جلتا خلیہ رونماء ہوا۔ ابتداء میں کیونکہ خلیہ سادہ تھا فقط ایک فاسفولپڈز پر مشتمل گول جسم جس میں مرکزہ کی ضرورت  نہیں تھی اور سائیٹو پلازم میں نیوکلئیک ایسڈ موجود ہوتا تھا۔ ان جانداروں نے  ضیائی تالیف شروع کر دی جس کے بدولت فضاء میں آکسیجن کی بھاری مقدار جمع ہوگئی۔ اور  بعد میں آنے والے نئے جانداروں کے لیے  ماحول فراہم  ہو گیا یعنی اس ماحول کی تشکیل کے بعد جانداروں میں یہ اہلیت پیدا ہونے لگی کہ وہ آکسیجن کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔ بیکٹریا اور سائنوبیکٹریا دونوں پروکرئیوٹ میں شمار ہوتے ہیں۔

image

                   فیٹس
2500 ایم اے پہلا جاندار جس نے آکسیجن استعمال کی ۔

2100 ایم اے حقیقی المرکز  خلیہ نمودار ہوا ایسا خلیہ جس کے مرکز میں نیوکلیئس موجود تھا۔ اس سے پہلے زندگی  دو حصون میں تقسیم ہو چکی تھی یعنی آرکیا اور بیکٹریا  یہ جاندار حقیقی المرکز جانداروں میں شمار نہیں ہوتے بلکہ یہ ابتدائی زندگی کی عکاسی کرتے تھے۔

یو کرئیوٹ ( حقیقی المرکز) جاندار

یہاں پر زندگی کو تین ساحہ نظام میں تقسیم کیا گیا ہے۔(Three domain system)

حقیقی المرکز

بدائی المرکز

آرکیاء

یہاں پر آرکیاء اور بدائی المرکز جانداروں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی المرکز کی طرف بڑھتے ہیں  کیونکہ انسان اور تمام بڑے جانداروں کے خلیے حقیقی المرکز ہوتے ہیں۔جب خلیہ میں نیوکلئیس نمودار ہوا تو زندگی پچیدگی کے مراحل میں داخل ہو گئی۔

حقیقی المرکز جاندار تمام موجودہ حیوانوں اور پودوں کے  پائے جانے والے خلیات ہیں جن کے مرکز میں نیوکئیس ہوتا ہے جو کہ ایک مخصوص جھلی سے مخفوظ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے بدائی المرکز میں یہ نیوکلیئک ایسڈ بغیر کسی جھلی کے موجود تھا۔

حقیقی المرکز خلیہ  کی ارتقاء

حقیقی المرکز خلیہ کی ابتداء باہمی تعاون والے خلیات سے شروع ہوئی یعنی جب دو یاں دو سے زیادہ  پرکرئیوٹ خلیات نے یہ محسوس کیا کی باہمی تعاون سے سخت ماحول میں زندہ رہنا زیادہ آسان  ہے بجائے اکیلے۔ خیطیہ یاں مائیٹو کونڈریا ابتداء میں ایسا خلیہ تھا جو بدائی المرکز تھا مگر جب کسی بڑے خلیہ میں داخل ہوا تو اس نے خلیہ کو توانائی فراہم کی جس سے ان دونوں کا تعلق مظبوط ہو گیا یعنی توانائی کے حصول کے لیے پہلا ابتدائی حقیقی المرکز خلیہ پیدا ہوا اسی طرح باقی عضیات بھی خلیہ کے اندر داخل ہوتے گئے یہ بات قابل غور ہے کہ یوکرئیوٹ سیل میں موجود تمام عضیات دو جھلیوں پر مشتمل خلیات تھے۔ لیکن بعد میں ان سب نے مل کر ایک خلیہ تشکیل دیا۔ معاشرے کی تشکیل ابتداء سے شروع ہو چکی تھی۔ ایک مکمل انسان بنیادی طور پر خلیات کا معاشرہ ہے جنہوں نے اپنی خفاظت اور بقاء کے لیے ایک جسم بنایا اور پھر انسانی عقل تک پہنچ گئے۔

1200 ایم اے جنسی تولید کا ارتقاء ہوا جس سے ارتقاء کا عمل  تیز ہو گئی۔ جنسی تولید سے نر اور مادہ کا ظہور اس دور میں ہوتا ہے۔

جنسی تولید کے ارتقاء پانے کی وجہ

باہمی تعلق معاشرے کی تشکیل

واراثتی مادے میں تبدیلی

صحت مند نسل اور نسل کی بقاء کا زیادہ اچھا طریقہ

ڈی این اے کی مرمت کے لیے جنسی تولید کی ضرورت تھی۔

اب تک یوکرئیوٹ کافی حد تک طاقتور ہو چکے تھے جن سے تمام جانداروں کی نسل ہوئی سب سے پہلے اور تمام بڑے جانداروں کے اباواجداد نمودار ہوئے۔

900 ایم اے  choanoflagellates   کا ظہور ہوتا ہے۔جو کہ تمام جانداروں کے اباؤاجداد ہیں ۔ اس کے علاوہ اسفنج دریائی  sponges  کے اباؤاجداد ہیں۔ابھی تک ہم ایک معمولی سی پیچید ہ زندگی کی طرف بڑھ آئے ہیں۔ اگر اس پر غور کیا جائے تو ممکن نہیں کہ یک خلوی جانداروں کے ابتدائی ادوار میں انسان پایا جاتا ہو بلکہ یہی ہوا ہے کہ انسان تمام سادہ زندگی سے بتدریج آخر پر نمودار ہوا۔یعنی معاشرتی، حیاتیاتی اور فطری لحاظ سے کافی ترقی یافتہ جاندار انسان تھا، دیکھتے ہیں مزید کون سی مخلوق اس دنیا میں نمودار ہوتی ہے جو انسان سے زیادہ پچیدہ ہو۔

image

                    اسفنج Sponge

choanoflagellates   ایسے جاندار تھے جو یک خلوی تھے اور آبادی کی شکل میں رہتے تھے۔ان میں حرکت کا آغاز ہو چکا تھا یہ جاندار ایک دم کے ذریعے سے ایک مقام سے دوسرے میں پانی کے اندر حرکت کر سکتے تھے۔اس کے علاوہ یہ

600 ایم اے یہ خیال ہئ کہ ابتدائی کثیر خلوی حیوان اسفنج کی طرح کی مخلوق تھی۔ اسفنج حیوانوں میں سادہ ترین ہیں۔ بہت ہی کم اختلافی ریشے تھے۔

سائینو فلیجلیٹ کی سب اہم اور اچھی مثال پروٹیرو سپنجیاء تھے جو آبادیوں میں رہتے تھے اور حقیقی المرکز تھے ان کے خلیات یوکرئیوٹ میں سے سادہ ترین تھے۔

اسفنج ( prifera) سب سے پرانے حیوانوں کا قسمہ( فائلیم ) تھا جو کہ معدوم ہو چکا ہے۔

580 ایم اے حیوانوں میں حرکت کی ابتداء ہوئی۔ مثال کی طور پر لاسعات ( cnidarians) ان جانداروں میں اعصاب اور پٹھوں کی ارتقاء ہو چکی تھی۔یہ سادہ ترین جاندار ہیں جنہوں نے اعصاب اور پٹھے  ایک ساتھ استعمال کئے۔ وہ پہلے حیوان تھے جن کی خاص پرتوی جسامت تھی۔ ایسی جسامت جو پرتوں کی شکل میں ہو یعنی تہہ در تہہ ۔

کینڈئریئن سمندر میں پایا جانے والا جاندار ہے جس کی تقریبا 900 انواع پائی جاتی ہیں۔

550 ایم اے میں چپٹے جاندار جن کو فلیٹ ورم کہا جاتا ہے نمودار ہوئے ان جانداروں  کو عربی میں دیدان مسطحتہ کہا جاتا ہے۔ان کا عصبی نظام مرتب ہو رہا تھا اور واضع مجموعہ اعصاب دماغ کی ماند موجود تھے۔ان کا جسم تین جَرم تہوں پر مشتمل تھا۔

540 ملین سال قبل  Acorn worm فلیٹ ورم سے ملتے جلتے جاندار کرہ ارض پر  ظاہر ہوئے۔ لیکن  فلیٹ ورم کے برعکس ان جانداروں میں نظام  دل بن چکا تھا ۔ان میں دورانی نظام اور دل کا تعلق پیدا ہو چکا تھا اس کے علاوہ اس نظام کا تعلق گردوں کے ساتھ منسلک تھا۔یہ جاندار گلپھڑوں  جیسی ساخت والے عضو رکھتے تھے جو سانس لینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ان جانداروں کو فقاریہ اور غیر فقاریہ جانداروں کے درمیان تعلق سمجھا جاتا ہے۔

ابھی تک ہم یک خلوی جانداروں سے ہوتے ہوئے کثیر خلوی پچیدہ جانداروں تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ تحریر اناالحق کی فیس بک ٹائم لائن سے لی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s