ننهے جاسوس

نینو روبوٹ

image

جینیات اور نینوٹیکنالوجی یہ دونوں شعبے معروف و مقبول ہو رہے ہیں اور ہماری روز مرّہ کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ایک شعبہ جس کی معلومات کے بارے میں بڑی رازداری سے کام لیا جاتا ہے اور بہت کم شائع کیا جاتا ہے وہ ہے مشینی جاسوسی روبوٹوں کا شعبہ۔

اس سلسلے کی سب سے حیرت انگیز ایجاد جاسوسی کیڑے ہیں جوکہ کیمرے، مواصلاتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جانچنے والے آلوں سے بآسانی بچ نکلتے ہیں ۔
ان کیڑوں کو میلوں دور سے اپنا تابع رکھا جا سکتا ہے تاکہ وہ ضرورت کے مطابق کسی صدر اور آرمی چیف کی میز کے نیچے یا دیوار پر بیٹھ کر نہ صرف ان کی گفتگو بلکہ انکی ویڈیو براہِ راست میلوں دور بیٹھے غیر ملکی سفارتخانے تک پہنچا سکتے ہیں ۔

image

یہ کیڑے نہایت ہی طاقتور جاسوسی ہتھیارکی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔
یہ ننّھے جاسوس کسی بھی قسم کے زندہ کیڑے مکوڑے ہو سکتے ہیں مثلاً بھنورے،لال بیگ یا پھر چیونٹیی۔
ان کیڑوں کو مخبر میں تبدیل کرنے کے لئے ان کے دما غوں میں پہلے سے پروگرام شدہ چپ لگا دئیے جاتے ہیں۔ جسے کافی لمبے فاصلے سے اپنی مرضی کے مطابق استعال کیا جا سکتا ہے۔

ان کیڑوں میں موجود حسّاس چپ کو مخصوص بیٹریوں کے ذریعے توانائی پہنچائی جاتی ہے۔اس قسم کے کچھ ہتھیاروں کی تیّاری کیلئے امریکی دفاعی ایجنسی نے ایک پروگرام DARPA کے تحت فنڈنگ کی تھی۔

اس اقسام کے کیڑے ناسا کی فنڈنگ کےتحت Caltech Jet Propulsionلیب ، پاسادینا میں بھی تیّار کئے جارہے ہیں ۔
دیکھنے میں یہ کیڑے بالکل اصلی معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً وہ مکمل روبوٹ ہی ہوتے ہیں۔ ان کیڑے نما ننّھے روبوٹ کی تیّاری کیلئے 3Dپرنٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہے جو کہ بہت زیادہ تعداد میں ان کے مختلف اعضاء بناسکتی ہے لہٰذالاکھوں کی تعداد میں نہایت کم لاگت سے تیّار کردہ کیڑے دشمن کے خفیہ اداروں میں داخل کئے جاسکتے ہیں۔

image

ان کیڑوں کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اصلی کیڑوں کی طرح چھوٹے سے چھوٹے سوراخوں سے بھی گزر سکتے ہیں۔ UC Berkeley’s Biomimetic Millisystems لیب کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ننّھا’اسٹار‘ نامی روبوٹ تیّار کیا ہے جو کہ اپنے پاؤں موڑ کر چپٹی شکل اختیار کر سکتا ہے اور بآسانی پتلی سے پتلی جگہوں سے نکل سکتا ہے ۔ مثلاً دروازوں کے نیچے سے۔نہ صرف یہ بلکہ ضرورت کے مطابق مختلف زاویوں سے چپٹا ہو کر رینگتا ہوا زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

image

اسٹار کے جسمانی اعضاء Pro Jet 3000 3D پرنٹر کے ذریعے تیّار کئے گئے تھے تاکہ کم سرمائے میں زیادہ تعداد میں مہّیا ہو سکیں۔
اسٹارکی زمین پر دوڑنے کی رفتار 11.6 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے اور برقی احکامات ملتے ہی ایک سیکنڈ میں 360 ڈگری کے زاوئے تک مڑنے کی صلاحیت موجودہے ۔

ڈاکٹر عطاء الرحمن

یوٹیوب کی ایک معلوماتی ویڈیو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s