ٹیلی پورٹیشن

زمان ومکان میں سفر

بڑی ہی عجیب اصطلاح ہے یہ..

زمان ومکان..

image

شاید یہ سطور لکھنے تک بھی ہماری حواسِ خمسہ کبھی اس اصطلاح کی عادی نہ ہوسکی حالانکہ یہ ایک خالصتاً علمی اصطلاح ہے جو 1905ء سے مستعمل ہے..

یقیناً تاریخ پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور نا ہی یہاں طباعت کی غلطیوں کا کوئی امکان ہے، یہ اصطلاح واقعی ایک صدی سے زائد عرصہ سے مستعمل ہے..

اُس سال مشہورِ زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک نیا علمی نظریہ پیش کیا جسے طبیعات اور ریاضی میں انقلابی حیثیت حاصل ہوئی اور جسے “خصوصی نظریہ اضافیت” کا نام دیا گیا..

اس نظریہ میں شاید پہلی بار آئن سٹائن نے یہ عجیب وغریب اصطلاح استعمال کی..

زمان ومکان..

آسان لفظوں میں اس اصطلاح کا مطلب ہے زمان ومکان میں ایک ساتھ سفر کرنا..

اس اصطلاح نے سائنسدانوں کے خیال کو ایک ایسی نئی جہت بخشی جہاں آئن سٹائن کے نظریہ سے پہلے کوئی نہیں پہنچ سکا تھا..

اس زمانے میں صرف زمان میں سفر ہی ایک ایسا سائنس فکشن تھا جسے لندن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انگریز صحافی اور ادیب “ہربرٹ جارج ویلز” نے اپنی شہرہ آفاق تخلیق “ٹائم مشین” میں 1895ء میں متعارف کرایا تھا..

اس کہانی میں ویلز کا ہیرو اپنی عجیب مشین کے ذریعے مستقبلِ بعید میں چلا جاتا ہے جسے مصنف نے ایک انتہائی مثالی معاشرے کے طور پر بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا جہاں لوگ بڑے امن وسکون سے ایک خوبصورت دنیا میں رہتے ہیں جس کے چاروں طرف باغ، خوبصورت نہریں اور دولت کے انبار ہیں، لیکن ہیرو زمین کے نیچے ایک اور بالکل مختلف دنیا دریافت کرتا ہے جس کے رہائشی درندے دن رات اوپر کی دنیا کو قائم رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں جو درحقیقت ان کی خوراک کے لیے ایک کھیت کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو اغواء کرکے انہیں جانوروں کی طرح کھا جایا کرتے تھے..

اس تصویر نے انیسویں صدی کے آخر کی دنیا کو ڈرا دیا اور بیک وقت حیران بھی کردیا، خاص طور سے جبکہ ویلز نے سب سے پہلے صنعتی معاشروں میں مزدوروں کی برتری کی طرف شارہ کیا..

اور سب سے پہلے ٹائم مشین کا ذکر بھی..

ایک ایسی معجزاتی مشین جس نے ویلز کے زمانے سے لے کر آج تک کے ادیبوں کو حیران کر رکھا ہے، یہ مشین ہی ایسی ہے، اس میں ایک حیران کن خوبی ہے، یہ زمانے کو چیرتے ہوئے ایک لمحے میں آپ کو کسی بھی زمانے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے..

ویلز کے بعد ادیبوں اور فنکاروں کا تخیل گویا پھٹ پڑا، اور ایسے ہی تخیلات کے انبار لگنے لگے اور عوام نے بھی اس تصور کے مزے لینے شروع کردیے اور..

اور پھر اچانک دنیا کے سامنے خصوصی نظریہ اضافیت نمودار ہوا اور آئن سٹائن نے یقینی ریاضیاتی کلیوں سے اپنی نئی اصطلاح وضع کی، جس نے ہماری آنکھیں کھول کر رکھ دیں اور اس سے پہلے دنیا جو کچھ جانتی تھی اس میں ایک بنیادی تبدیلی کر ڈالی..

پہلی بار آئن سٹائن نے ہمارے جانے پہچانے ابعاد طول، عرض اور اونچائی میں ایک چوتھا بعد شامل کردیا جس کی طرف اس سے پہلے کبھی کسی کی توجہ نہیں گئی تھی..

زمان..

اپنے عظیم نظریے میں جس نے اس کے دور کے سائنسدانوں کو حیرت زدہ کردیا تھا آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ زمان زندگی کا ایک بنیادی بعد ہے، وہ بھی ریاضی اور طبیعات کے تمام تر سنجیدہ قیاسات میں.. چنانچہ دیگر تمام ابعاد کی طرح اس میں بھی آگے اور پیچھے کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے..

اور یہی بات سائنسدانوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی حیرت کا باعث تھی..

نئے نظریے کے ساتھ زمان میں سفر کی ویلز کی کہانی محض خیال نہیں رہی تھی.. بلکہ علمی اور منطقی ہوگئی تھی..

جہاں کچھ سائنسدانوں کو یہ تصویر پسند نہیں آئی وہیں اس خیال نے ادیبوں کے لیے ایک نئی سوچ کا در گویا وا کردیا اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے انبار لگا دیے جن میں کوئی ماضی میں جا کر واقعات میں تبدیلیاں کردیتا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل کا حال متاثر ہوتا ہے..

جب 1915ء میں عمومی نظریہ اضافیت پیش کرکے آئن سٹائن نے سائنسدانوں کو اپنے نظریے اور خِرد مندی کا قائل کرلیا تھا اس وقت ادباء اس خیال کو با قاعدہ اپنا چکے تھے، زمان میں سفر کا خیال، وہ اس کے ممکن ہونے پر ایمان لے آئے تھے بلکہ اس کا خواب بھی دیکھنے لگے تھے اور اس کا شدت سے دفاع بھی کرنے لگے تھے..

زمان یا وقت میں سفر کا خیال ہی ایسا ہے، یہ انسان کو اپنا حال، مستقبل بلکہ شاید دنیا کا مستقبل بھی بدلنے کی ہلکی سی امید فراہم کرتا ہے..

اور چونکہ ہر عمل کا ردِ عمل ضروری ہوتا ہے جو بالکل عمل کی قوت کے مساوی ہوتا ہے اور اس کی سمت کا عکس ہوتا ہے، کچھ سائنسدانوں نے ایک عکسی خیال اپنایا اور وقت میں سفر کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے اسے پاگل پن قرار دیا..

انکاری سائنسدانوں نے ایک علمی اور فلسفیانہ نظریہ کا سہارا لیا جسے انہوں نے “وجوہیت” کا نام دیا..

اس نظریے کے مطابق دنیا ایک واحد یونٹ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ماضی میں جاکر کوئی تبدیلی کرتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، اس کے نتیجے میں ایک لا متناہی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے ساتھ ساری دنیا کی تاریخ بدل کر رہ جائے گی، اس سے مستقبل میں خود اس کی اپنی بقاء خطرے میں پڑجائے گی..

اور پھر کسی کے مستقبل کے واقعات میں تبدیلی کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ ایسی صلاحیتوں کا مالک ہے جو کسی انسان کو چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی..

فرض کریں کہ ایک سائنسدان کا خیال ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بہت برے اثرات تھے اور یہ سب ہٹلر اور اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوا، چنانچہ اس نے ٹائم مشین کا استعمال کرتے ہوئے ماضی کا سفر کیا اور اس سے پہلے کہ ہٹلر نازی پارٹی کی قیادت کا منصب سنبھالتا اسے قتل کردیا، تو کیا معاملہ اس حد تک رک جائے گا؟!

نا ممکن..

دوسری عالمی جنگ کا نہ ہونا ساری دنیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا.. دنیا کا توازن، اس کی آبادی اور اس کی علمی صلاحیتیں سب مضطرب ہوجائیں گی، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ ٹائم مشین جس کے ذریعے اس نے ماضی کا یہ سفر کیا اس کے لیے دستیاب نہیں ہوگی کیونکہ اس زمانے کے لحاظ سے وہ ابھی ایجاد ہی نہیں ہوئی چنانچہ اس کی واپسی نا ممکن ہوجائے گی اور پھر ماضی کی یہ تبدیلی حال پر کس طرح اثر انداز ہوگی اور…

اور اس طرح ہم ایک عجیب وغریب کھوکلے دائرے میں بے سروپا گھومتے رہ جاتے ہیں جس کا نا تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے اور نا ہی اسے سمجھا جاسکتا ہے اور نا ہی اس کے ہونے پر کبھی یقین ہی کیا جا سکتا ہے..

اور پھر کیا ہو اگر کوئی دوسرا جاکر ہٹلر کو بچا لے..؟!

اور تیسرا جاکر اسے روس جلا وطن کردے..؟!

اس طرح ساری تاریخ گویا مذاق بن کر رہ جائے گی جس کی خالقِ کائنات یقیناً کبھی بھی اجازت نہیں دے گا..

اس سب کا مطلب ہے کہ یہ خیال دراصل خیال ہی ہے جس کا حقیقی دنیا میں وقوع پذیر ہونا نا ممکن ہے..
image

آئن سٹائن وقت میں سفر کے حامیوں اور مخالفین کی یہ ساری گفتگو اور گرم مناظرے خاموشی سے بغیر کسی کے حق میں ایک لفظ کہے سنتا رہا.. کیونکہ اس کا نظریہ ان سب بکواسیات سے ما وراء تھا..

کیونکہ وہ صرف وقت نہیں بلکہ وقت یعنی زمان اور مکان میں ایک ساتھ سفر کی بات کر رہا تھا..

اس کا مطلب سمجھنے کے لیے وقت میں سفر کے خیال کو ترک کرنا ہوگا اور اپنی توجہ فضاء میں سفر پر مرکوز کرنی ہوگی..

جی ہاں.. کائناتی فضاء میں اور یہی آئن سٹائن کا مطلب تھا، اس کا نظریہ فضاء میں ایسے دور دراز مقامات تک سفر کی راہ ہموار کرنے آیا تھا جہاں جانے کا کبھی کسی انسان نے سوچا تک نہیں تھا..

زمان و مکان میں ایک ساتھ سفر کے ذریعے..

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں علمِ فلک کی ترقی نے ستاروں کے سفر پر نکلنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک نا امید سی اصطلاح متعارف کروائی..

نوری سال کی اصطلاح..

اس اصطلاح کا مطلب ہے وہ مسافت جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے..

تو کیا آپ اس مسافت کا تصور کر سکتے ہیں جو روشنی اس جنونی رفتار میں پورے ایک سال کے اندر طے کرے گی..؟!

یہ سولہ ارب ستر کروڑ چار لاکھ میل ہے.. یعنی کوئی پچیس ارب آٹھ سو اٹھارہ کلو میٹر ہے..

کیا یہ عدد آپ کو کچھ زیادہ بڑا لگا؟!

تو پھر حیرت کی مزید مقدار لینے کے لیے تیار ہوجائیے کیونکہ یہ عظیم مسافت ہماری کہکشاں سے باہر کے ستاروں کو ناپنے کا صرف ایک فلکیاتی یونٹ ہے..

تو اگر کوئی ستارہ ہم سے ایک فلکیاتی یونٹ دور ہو یعنی ایک نوری سال دور ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک خاص خلائی جہاز کی ضرورت ہوگی جو روشنی کی رفتار میں ایک سال تک بغیر رکے اور ایک لمحے کے لیے بھی اپنی رفتار کم کیے بغیر چلتا رہے..

یہ امکان ریاضیاتی اور منطقی دونوں طرح سے نا ممکن معلوم ہوتا ہے..

تو تیار ہوجائیے کیونکہ ہم اس مجوزہ ستارے تک اس سے بہت کم وقت میں پہنچ سکتے ہیں وہ بھی روشنی کی رفتار میں سفر کیے بغیر..

اور یہ بات قطعی طور پر علمی ہے..

* * *

جس وقت آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت میں زمان ومکان متعارف کرایا اس وقت زمان ومکان میں سفر ایک نا ممکن اور غیر منطقی سی بات تھی..

لیکن آئن سٹائن نے ہمارے سامنے ایک اور دلچسب اصطلاح رکھ دی جسے اس نے “زمان کا پھیلاؤ” کا نام دیا..

آئن سٹائن کے نظریے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک خلاباز اپنے خلائی جہاز میں روشنی کی رفتار سے ایک ایسے سیارے کے سفر پر نکل جائے جو ہم سے ایک نوری سال دور ہو اور پھر واپس زمین پر آجائے تو وہ دیکھے گا کہ وہ دو سال جو اس نے سفر میں گزارے وہ زمین کے زمانے کے حساب سے نصف صدی بن گئے..

مزید وضاحت کے لیے ہم فرض کرتے ہیں کہ اس خلاباز کا ایک جڑوا بھائی بھی ہے اور اس سفر کی شروعات میں دونوں کی عمر بیس سال ہے تو جب خلاباز اپنے سفر سے واپس زمین پر آئے گا تو اس کی عمر بائیس سال جبکہ اس کے بھائی کی عمر ستر سال ہوگی..!!!

اس کی وضاحت کچھ اس طرح کی جاسکتی ہے کہ گھڑی کی سوئیاں اس وقت سے منسلک ہوجائیں گی جس میں خلائی جہاز سفر کر رہا ہوگا یعنی وہ اسی رفتار سے چلیں گی جبکہ زمین پر موجود ساکن گھڑی پہلے کی طرح زمین اور سورج کے گرد گردش کی رفتار سے منسلک رہے گی..

اگر آپ کو یہ پیچیدہ تر معاملہ سمجھ نہیں آیا ہے تو پھر آپ دیگر تمام نظریات کی طرح سائنسدانوں پر اعتماد کرنے پر اکتفا کیجیے کیونکہ وہ اسے ایک صدی پہلے ریاضیاتی اور عملی طور پر ثابت کر چکے ہیں..

بہر حال یہ نظریہ زمان ومکان میں سفر کی طرف پہلا اشارہ تھا، لیکن آئن سٹائن کے نظریے نے ایک اور امر کی طرف بھی اشارہ کیا جو زمان ومکان میں سفر کے ضمن میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے..

image

سیاہ شگافوں کی طرف سفر..

سیاہ شگاف (بلیک ہول) کی اصطلاح اتنی پرانی نہیں ہے، اسے سب سے پہلے امریکی فلکیات دان جان وہیلر نے دو صدی پہلے پیش کیے گئے ایک پرانے نظریے کو بیان کرنے کے لیے 1969ء میں استعمال کیا..

یہ پرانا نظریہ 1793ء کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے..

اس زمانے میں ارضیات دان جان مچل نے بتایا کہ بعض ستارے بہت زیادہ کثافت کے حامل ہیں جس کی وجہ سے ان کی تجاذب کی قوت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار حاصل نہیں کرسکتی، اس وجہ سے انہیں دیکھنے والے کو وہ خلا میں ایک سیاہ دھبے کی طرح نظر آئے گا..

جان مچل نے اسی پر اکتفا کیا اور معاملے کی زیادہ گہرائی میں نہیں گیا، شاید اپنے زمانے کے کم تر فلکیاتی معلومات اور کم تر علمی سہولیات کی وجہ سے..

پھر نظریہ اضافیت ایک نئی علمی وضاحت لیے کر آیا کہ روشنی بالکل سیدھی لائن میں نہیں چلتی جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں بلکہ کسی بڑی کثافت کے حامل ستارے کے پاس سے گزرتے وقت خم کھا جاتی ہے..

اور پھر جب ستارے کی کثافت اپنی حدوں کو چھونے لگتی ہے تو وہ روشنی کو خم دینے کی بجائے شدت اپنی طرف کھینچتے ہوئے نگل جاتا ہے..

اور چونکہ روشنی ستارے کی عظیم تر کشش سے بچ نکلنے میں ناکام رہتی ہے چنانچہ وہ ہم تک نہیں پہنچتی، اس لیے ہمارے مشاہدے کے لیے صرف ایک سیاہ شگاف ہی آن بچتا ہے جو چھوٹا بڑا ہوسکتا ہے..

کائنات کی ایک عجیب چیز کے طور پر سیاہ شگافوں نے سالوں تک سائنسدانوں کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھا..

اور پھر ایک نیا نظریہ نمودار ہوا..

اس نظریے کے مطابق سیاہ شگاف جو کچھ اپنے مرکز کی طرف کھینچتے اور نگلتے ہیں وہ ان کے اندر فنا نہیں ہوتا بلکہ کسی ایک سمتی سرنگ سے گزرتے ہوئے ایک سفید شگاف کے ذریعے کسی دوسری کائنات میں جا نکلتا ہے..

یہ نظریہ علمی حلقوں میں کسی دھماکے سے کم نہیں تھا..

اس کا قطعی مطلب یہ تھا کہ سیاہ شگاف کو عبور کرنے سے ہم زمان ومکان کے ذریعے کائنات کے کسی دوسرے دور دراز علاقے میں جا نکلیں گے..

ایک ایسا علاقہ جو ہم سے ہزاروں یا شاید کروڑوں نوری سال دور واقع ہو..

اور یہ کسی معجزے سے کم نہیں..

ایک خلائی جہاز جو سیاہ شگاف سے گزرے گا وہ زمان ومکان کے ذریعے کائنات کے بہت دور دراز علاقوں میں جا پہنچے گا..

ایسی کہکشاؤں کی طرف جن کا مشاہدہ ہم ان کے فنا ہونے کے کڑوں سال بعد بھی نہیں کرسکتے..

اس نظریے کی خوبی اس بات میں ہے کہ یہ اس لا متناہی کائنات میں ہمیں دور دراز ستاروں کی طرف سفر کے لیے ایک حیران کن اور یقینی حل فراہم کرتا ہے..

تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر سائنسدانوں نے یہ سب دریافت کر لیا ہے تو وہ دور دراز ستاروں کی طرف مشن روانہ کیوں نہیں کرتے..؟!

اس کا جواب بہت آسان ہے..

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اب تک جس قدر ترقی کی ہے وہ ایک ایسا طاقتور خلائی جہاز بنانے سے قاصر ہے جو کسی سیاہ شگاف تک پہنچ کر اس کے اندر سے گزرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ اس کے لیے عظیم تر توانائی کی ضرورت ہوگی، سائنسدانوں نے اندازہ لگیا ہے کہ یہ اس توانائی کا دس لاکھ گنا ہے جتنی توانائی امریکہ پورے ایک سال میں صرف کردیتا ہے..

یہ بتانے کی یقیناً ضرورت نہیں کہ فی زمانہ اتنی توانائی کا حصول نا ممکن امر ہے..

دوسری بات یہ ہے کہ سائنسدان اس لا متناہی کائنات میں اس مقام کا تعین نہیں کر سکتے جہاں ہمارا وہ خیالی خلائی جہاز جا نکلے گا.. حالانکہ وہ کچھ سفید شگافوں کے مقام کا تعین کر سکتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کون سا سفید شگاف کائنات کے کس حصے میں کون سے سیاہ شگاف کا مخرج ہے..

تیسری وجہ دوسری وجہ سے مربوط ہے، جو خلائی جہاز سیاہ شگاف سے گزر کر کائنات کے کسی حصے میں پہنچے گا وہ سیاہ شگاف کی کشش کے علاقے میں پہنچتے ہی زمین سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں کر سکے گا کیونکہ کوئی بھی سگنل چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ اس کی عظیم کشش سے کبھی چھوٹ نہیں پائے گا..

اور جب خلائی جہاز مخرج سے دوسری طرف جا نکلے گا تو وہ اس وقت ہم سے ہزاروں یا شاید کروڑوں نوری سال دور ہوگا چنانچہ زمین کی طرف بھیجے گئے کسی بھی سگنل کو زمین تک پہنچنے میں لاکھوں کروڑوں نوری سال درکار ہوں گے..
image

اور اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ ہمیں ہمارے اس خیالی خلائی جہاز کے نکلنے کے مقام کا علم ہے اور ہم نے اپنے تمام تر طاقتور ٹیلی سکوپ اس مقام پر مرکوز کر رکھے ہیں جو ہم سے دس لاکھ نوری سال کی دوری پر واقع ہے تو ہمیں اپنے خلائی جہاز کو دیکھنے کے لیے دس لاکھ نوری سال انتظار کرنا ہوگا کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو جہاز کی تصویر روشنی کی رفتار سے ہم تک پہنچنے میں صرف کرے گی..

اور انسان نے اتنی عمرِ دراز کہاں پائی ہے..

آپ نے دیکھا کہ کتنی وجوہات کی بنا پر یہ نا ممکن ہے..؟!

لیکن جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اس سے سائنسدان مایوس نہیں ہوئے، بلکہ وہ پہلے سے زیادہ شدت سے علمی اور منطقی حل تلاش کرنے میں لگ گئے..

ابتداء میں حل بہت آسان معلوم ہوا..

جب ہمارا خیالی خلائی جہاز اپنے مجوزہ مقام پر پہنچے گا تو اسے چاہیے ہوگا کہ وہ پہنچتے ہی اپنے مقام سے قریب ایک ایسے سیاہ شگاف کی تلاش میں لگ جائے جو ایسے سفید شگاف پر ختم ہوتا ہو جو ہماری زمین سے قریب ہو..

یعنی پہنچنے کے راستے کی طرح واپسی کے راستے کی تلاش، چنانچہ واپسی کے اس راستے کے ذریعے ہمارا خلائی جہاز زمین تک سگنل بھیجنے کے قابل ہوگا اور تحقیق کاروں کو اپنی دریافتیں بتا سکے گا..

اس حالت میں سگنل خلائی جہاز کی ہم سے حقیقی دوری کے حساب سے نہیں بلکہ اس وقت کے حساب سے پہنچے گا جو جہاز نے سفر کے لیے صرف کیا..

یہ زمان ومکان میں سفر کی ایک ادنی سی تصویر ہے..

ایک ایسی تصویر جس سے سائنسدانوں کا ایک گروہ یہ سوچتے ہوئے پوری طرح سے مطمئن ہے کہ حل گویا عقلمندی کی پلیٹ پر پڑا ہوا مل گیا ہے..

لیکن سائنسدانوں کا ایک دوسرا گروہ اس حل سے کبھی مطمئن نہیں ہوا، ان کے مطابق یہ حل ایسے اندازوں پر مبنی ہے جن کی کبھی تصدیق نہیں کی جاسکتی..

کیا ہو اگر خلائی جہاز کو عکسی سیاہ شگاف نہ ملے تو..؟!

اور پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ خلائی جہاز سیاہ شگافوں پر مشتمل علاقے میں ہی جا نکلے گا..؟!

اور اگر اترنے کے مقام پر موجود سیاہ شگاف کائنات کے کسی دوسرے حصے میں لے گیا تو..؟!

جب یہ دونوں فریق اپنا اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کے لیے شدید تر بحث ومباحثہ میں مصروف تھے، ایسے میں ایک تیسرا فریق حیران کن دریافت لے کر نمودار ہوا..

ایسی دریافت جس نے تمام تر قیاس آرائیوں کو ہلا کر رکھ دیا..

شدت سے..

image

بیسویں صدیں کی اسی کی دہائی میں امریکی سینما نے سائنس فکشن کا ایک بہترین اور یادگار سلسلہ بعنوان “مستقبل کی طرف واپسی” پیش کیا جسے سٹیفن سپلبرگ نے ڈائرکٹ کیا تھا..

فلم ڈاؤنلوڈ کریں
مستقبل کی طرف واپسی ( فلم ) حصہ اول
مستقبل کی طرف واپسی (فلم) حصہ دوم
مستقبل کی طرف واپسی (فلم) حصہ سوم

اس سلسلے میں نوجوان ہیرو “مارٹی” ایک کار کے ذریعے وقت میں ماضی اور مستقبل کا سفر کرتا ہے تاکہ اپنے خاندان کی حالت بدل سکے، اپنے والد کو بچا سکے اور بعد میں اپنے بچوں کو بھی..

فلم کی کامیابی کا ایک حصہ سینما ٹیکنالوجی کو جاتا ہے جبکہ زیادہ تر حصہ اس مرکزی خیال کو جاتا ہے جس کے تحت ایک انسان وقت کا سفر کر کے ماضی میں جاکر واقعات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے..

تاہم یہ بات یقینی ہے کہ جسے بھی یہ سلسلہ اور اس کا مرکزی خیال پسند آیا اس نے اسے خیالِ محض سے زیادہ حیثیت نہیں دی..

لیکن حیرت انگیز طور پر آج کے دور میں سائنسدانوں کا یہ خیال نہیں ہے..

کچھ سال پہلے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بتایا کہ کائنات میں کچھ ایسی سرنگیں موجود ہیں جنہیں انہوں نے ورم ہول کا نام دیا..

انہوں نے بتایا کہ ان سرنگوں سے جو بھی گزرے گا وہ ان سے داخل ہونے کی تاریخ سے پہلے نکلے گا..

یعنی وہ زمان میں سفر کر کے ماضی میں پہنچ جائے گا..

اس حیران کن دریافت سے وقت میں ماضی کا سفر محض خیال نہیں رہا بلکہ ایک علمی حقیقت بن گیا ہے جس کے ماننے والے اور اسے ثابت کرنے والے دونوں موجود ہیں..

کوئی فلکیات دان جب کسی ایسے ستارے کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے جو ہم سے سو نوری سال دور ہو تو وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ دراصل یہ دیکھ رہا ہے کہ ستارہ ایک سو نوری سال پہلے کیسا تھا نا کہ وہ اب کیسا نظر آتا ہے..

اس طرح وہ علمی طور پر ستارے کا ماضی دیکھ رہا ہوتا ہے نا کہ حال..

ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک سو نوری سال کی دوری پر واقع ایک سیارے پر کوئی عاقل مخلوق رہتی ہے اور ہمارے پاس ایسے طاقتور ٹیلی سکوپ ہیں کہ ہم اس کی سطح تک کا جائزہ لے سکتے ہیں اس طرح ہم اپنے حال میں اس ستارے میں ہوئے ماضی کے واقعات دیکھ رہے ہوں گے گویا ہم ان کی تاریخ کا جائزہ لے رہے ہوں گے..

اور یہ – کچھ لچک کے ساتھ – وقت میں سفر کی ہی ایک نوعیت ہے..

اور علمی طور پر یہ زمان ومکان میں ایک ساتھ سفر کے مترادف ہے..

جب ورم ہول دریافت ہوئے تو بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک بار پھر وجوہیت کو بطور دلیل پیش کر کے کسی انسان کے ماضی میں جانے کو نا ممکن قرار دیا گیا چاہے اس کی کتنی ہی علمی توجیہ کیوں نہ ہو..

یہاں شاید معاملے کو سلجھانے کی غرض سے ایک نیا نظریہ پیش کیا گیا..

نئے نظریے کے مطابق ماضی کے مسافر کی حیثیت ایک معائنہ کار کی ہوگی نا کہ حصہ دار کی..

یعنی وہ ماضی کو پوری تفصیل کے ساتھ دیکھ سکے گا جس طرح ہم ٹی وی پر کوئی پرانی فلم دیکھتے ہیں..

لیکن وہ واقعات میں دخل اندازی نہیں کر سکے گا..

بلکہ وہ سرے سے ماضی کو مادی صورت میں ہی نہیں پائے گا بلکہ اسے صرف ہزاروں لاکھوں سال پہلے ہوئے واقعات کی روشن تصویریں ہی نظر آئیں گی..

اور پھر ان سرنگوں کے ذریعے ماضی کا سفر صرف ایک نظریاتی معاملہ ہے، کیونکہ ان سے گزرنے کے لیے لازم ہے کہ مسافر کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہو جو کہ عمومی نظریہ اضافیت کے تحت بلکہ خصوصی کے تحت بھی نا ممکن ہے..

دونوں نظریات کے تحت جوں جوں رفتار بڑھے گی جسم (مادہ) کا وزن بھی بڑھتا چلا جائے گا اور جب وہ روشنی کی رفتار کو پہنچے گا اس وقت وہ لا متناہی وزن کا حامل ہوچکا ہوگا جس کا مطلب ہے کہ اسے دھکیلنے کے لیے بھی لا متناہی طاقت کی ضرورت ہوگی..

اور دونوں باتیں قطعی نا ممکن ہیں..

چنانچہ پریشان ہونے، غصہ اور اعتراض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ وقت میں سفر نظریاتی طور پر ممکن ہے مگر عملی طور پر نا ممکن ہے..

مگر ٹھہریے..

کیا وقت میں سفر حقیقت ہے یا خیال ہے؟!

کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب انسان وقت میں ماضی اور مستقبل کا سفر کر سکے گا جیسا کہ ویلز کی مشہور کہانی میں آیا ہے..

یعنی کیا یہ عملی طور پر ممکن ہوسکے گا؟!

چونکہ سوال قائم تھا چنانچہ سائنسدانوں کی کوششیں بھی جاری تھیں..

وہ بھی کم سے کم تین برِ اعظموں میں..

کوششوں سے مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت سارے ریاضیاتی حل نمودار ہوئے، یعنی ورم ہولز کے ذریعے وقت کے سفر کو ممکن بنانے کے لیے..

سب سے مشہور حل سائنسدانوں کا بیان کردہ ایک خاص مادہ ہے جسے اگر ورم ہولز کی دیواروں پر مل دیا جائے تو اس کے تمام تر خطرناک اثرات ختم ہوجائیں گے..

نظریے اور تمام ریاضیاتی اور طبیعاتی کلیوں کے تحت ورم ہولز کی دیواروں پر یہ مادہ لگانے کے بعد ان سے گزرنا ممکن ہوجائے گا..

اس صورت میں ان کے اندر منفی توانائی ختم ہوجائے گی اور ان میں سے گزرنے کے لیے روشنی یا اس سے زیادہ کی رفتار کی ضرورت باقی نہیں رہے گی..

اس طرح تمام مسائل ختم ہوجائیں گے سوائے ایک مسئلے کے..

وہ یہ کہ اس مادے کا قطعی کوئی وجود نہیں..

نا ماضی، نا حال اور نا ہی مسقبلِ قریب میں..

مختصراً یہ کہ یہ مادہ صرف ایک علمی مفروضہ ہے جو پورے کرہ ارض پر کہیں وجود نہیں رکھتا اور نا ہی ایسی کوئی ٹیکنالوجی ہے جو یہ مادہ یا اس کا کوئی متبادل ہی تیار کر سکے..

لیکن اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تمام حیران کن نظریات جنہوں نے زمین اور علم کی تاریخ کا رخ موڑا اسی طرح شروع ہوئے تھے..

نا ممکن سی لگنے والی باتیں..

چنانچہ نئے حل کی تلاش کے لیے سائنسدانوں نے اپنی فائلیں دوبارہ سے چیک کیں کہ شاید کہیں کوئی پرانا خیال ہی وقت میں سفر کو ممکن بنا سکے..

اور پھر یہاں ایک حیرت انگیز دریافت ان کی منتظر تھی..

جس کے بارے میں انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا..

* * *

اسی کی دہائی کی شروع میں سائنسدانوں کا پہلا خواب ایک ایسے مرحلے تک رسائی تھی جسے وہ رابطے یعنی کمیونیکیشن اور کائنات میں منتقلی کی انتہاء قرار دے سکیں، اسے انہوں نے “فوری منتقلی” کا نام دیا..

فوری منتقلی کی اصطلاح کا مطلب ہے ایک جگہ سے دوسری ایسی جگہ تک منتقلی جو پہلی جگہ سے بہت زیادہ فاصلہ رکھتی ہو وہ بھی “ابھی اور اسی وقت” کی بنیاد پر..

یہ منتقلی بالکل ایسی ہے جیسی کہ ہم نے “ستاروں کے سفر” میں دیکھی تھی.. وہ مشہور سلسلہ جس کی بنیاد پر سائنس فکشن فلموں کا ایک کامیاب سلسلہ اسی نام سے شروع ہوا جس کی ہر قسط میں ہم کم سے کم ایک شخص کو ایک شیشے کے جار میں داخل ہوکر ایک چندھیا دینے والی شعاع کے ذریعے کسی دور دراز مقام پر ویسے ہی کسی جار میں منتقل ہوتا دیکھتے تھے..

ایک بہترین خیال جو زمان ومکان کو کم سے کم حد تک مختصر کر سکتا ہے، اسی طرح کے دیگر خیالات کی طرح یہ خیال بھی سائنسدانوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے میں کامیاب رہا جو ہر معاملے کو کسی نہ کسی اعتبار اور زاویے سے ممکن ہوتا ہوا دیکھتے ہیں..

اور جب عام لوگوں نے اس خیال سے صرف حیران ہونے پر اکتفا کیا اس وقت سائنسدان اس خیال کو کسی نہ کسی طرح ممکن بنانے کے لیے کم سے کم ایک علمی راستہ تلاش کرنے میں سرگرداں تھے..

کیا آپ حیران ہوں گے اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ وہ اس میں ایک حد تک کامیاب رہے..

جی ہاں.. وہ لیبارٹری میں اس “فوری منتقلی” کو ممکن بنانے میں کامیاب رہے مگر یہ تجربہ وسیع بنیادوں پر شائع نہیں کیا گیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیوں؟!

اگر وہ ایک ایسی دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو ایک علمی معجزہ ثابت ہوسکتی تھی تو پھر انہوں نے اسے شائع کیوں نہیں کیا؟

جواب میں ہمیشہ کی طرح بہت ساری اہم باتوں کو مدِ نظر رکھنا ہوگا..

جس فوری منتقلی میں سائنسدان کامیاب ہوئے تھے وہ فاصلہ صرف نوے سینٹی میٹر تک کا تھا، ہوا سے خالی اور شدید برقی مقناطیسی لہروں میں گھری شیشے کی ایک ٹیوب سے ایسی ہی ایک دوسری ٹیوب تک جو آپس میں شیشے کے دبیز خلیوں سے جڑے ہوئے تھے..

اور پھر اس پیچیدہ اور خاص ماحول میں یہ “فوری منتقلی” مرکب یا معقول حجم کی حامل کسی چیز کے ساتھ کبھی کامیاب نہیں ہوئی..

وہ صرف پانچ امریکی سینٹ کے ایک نئے سکے کو ایک ٹیوب سے دوسری ٹیوب تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے..

اور پھر یہ کوئی فوری منتقلی ہرگز نہیں تھی، ما سوائے اگر ہم سکے کے ایک ٹیوب سے غائب ہونے اور دوسری ٹیوب میں ظاہر ہونے میں گزرے ایک گھنٹہ اور چھ منٹ کے وقت کو فوری منتقلی قرار دیں!!

چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنا پر اسی کی دہائی کے شروع کے سائنسدانوں نے “فوری منتقلی” کے اپنے تجربات کو مکمل طور پر نا کام قرار دیا..

لیکن نوے کی دہائی کے آخر کے سائنسدانوں نے معاملے کو بالکل ایک الگ زاویے سے دیکھا..

ان کا خیال تھا کہ جو کچھ ہوا تھا وہ عام معنوں میں فوری منتقلی نہیں تھی بلکہ زمان ومکان میں منتقلی تھی..

اس نئی سوچ کے ساتھ انہوں نے تجربے کا دوبارہ آغاز کیا، معاملے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے انہوں نے سکے کا درجہ حرارت بڑھا کر اسے جدید تر آلات سے انتہائی باریکی سے ناپا اور ہوا سے خالی ماحول میں حرارت کے کم ہونے کی رفتار کا حساب لگایا اور تجربہ شروع کردیا..

شروع میں ایسا لگا جیسے کچھ نہ بدلا ہو..

پانچ امریکی سینٹ کا سکہ پہلی ٹیوب سے غائب ہوگیا اور ٹھیک ایک گھنٹہ اور چھ منٹ کے بعد دوسری ٹیوب میں نمودار ہوگیا..

لیکن سائنسدانوں نے اس دفعہ سکہ کو اٹھاکر اس کا درجہ حرارت اسی گہرائی اور نئے آلات سے دوبارہ ناپا..

اور پھر خوشی سے چیخ اٹھے..

حساب کتاب کے تحت سکے کے درجہ حرارت میں جو کمی واقع ہوئی تھی وہ صرف چار سیکنڈ کی تھی..

اس کا مطلب تھا کہ ان کا نیا مفروضہ بالکل درست تھا..

وہ پانچ امریکی سینٹ کا سکہ صرف اکیلے مکان میں ہی نہیں بلکہ زمان میں بھی منتقل ہوا تھا..

یا نئی اصطلاح کے مطابق زمان ومکان میں ایک ساتھ..

اگرچہ عملاً جو وقت سائنسدانوں نے سکے کا ایک ٹیوب سے غائب ہوکر دوسری میں ظاہر ہونے کا نوٹ کیا تھا وہ ایک گھنٹہ چھ منٹ تھا تاہم سکے کے لیے یہ منتقلی صرف چار سیکنڈ کی تھی..

یعنی سکے کے مطابق اسے اس منتقلی میں صرف چار سیکنڈ لگے تھے..

وقت میں سفر کے نظریے کی ایک زبردست جیت..

لیکن اسے قابلِ عمل بنانے اور اس کے قواعد وضوابط وضع کرنے میں ابھی ایک طویل عرصہ درکار ہے..

سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہوا سے خالی شیشے کے یہ ٹیوب ابھی تک کسی مرکب جسم کو منتقل کرنے میں ناکام رہے ہیں چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو..

سائنسدانوں نے بڑی کوشش کی..

سینکڑوں بار تجربات کو دہرایا..

مگر ہر بار نتیجہ مایوس کن ہوتا، وہ مرکب جسم یا چیز جو منتقل ہوتی اس کے اجزاء بڑی بے ترتیبی سے آپس میں ملے ہوئے ہوتے اور ہر بار اس کی شکل مختلف ہوتی..

اس طرح تو بالکل نہیں جیسے ہم کسی چیز کو پگھلا کر اسے دوبارہ جمنے کے لیے چھوڑ دیں..

بلکہ یہ ایک عجیب طرح کا امتزاج ہوتا جس کا قدرتی حالات میں ہونا ممکن نہیں، اس کے اجزاء آپس میں پگھل کر آخر میں ایک ایسی شکل بناتے جسے بیان کرنا ممکن نہیں..

اس طرح وقت میں سفر ابھی تک ایسی دہری اور متضاد صفت کا حامل ہے جس نے سب کو پریشان کر رکھا ہے..

یہ بیک وقت ممکن بھی ہے اور نا ممکن بھی..

ممکن اس طرح کہ یہ کبھی کبھی ہوجاتا ہے..

اور نا ممکن اس طرح کہ کسی بھی زمانے میں اس کے راز سے پردہ اٹھانے اور اس کے وقوع ہونے کے قاعدوں کو سمجھنے کا کوئی ذریعہ نہیں..

بلکہ اس سے استفادہ کرنے کا ایک بھی ذریعہ نہیں ہے..

معاملہ سائنسدانوں کو انتہائی مایوسی میں مبتلا کرنے لگا تھا، مگر جدید دور میں ایک اور دماغ کی آمد نے ایک بار پھر تمام بنیادیں ہلا کر رکھ دیں..

یہ “سٹیون ہاکنگ” تھا، وہ معجزاتی طبیعات دان قدرت نے جس کی ساری طاقت اس کے دماغ میں بھر کر جسم سے چھین لی تھی، ایک مرض کے باعث اس کا سار جسم سکڑ کر رہ گیا اور وہ ہلنے سے بھی عاجز ہوگیا، اس کے با وجود وہ برطانوی جامعہ کمیبرج میں ریاضی کا پروفیسر ہے، اور اس منصب پر فائز ہے جس پر کبھی تین صدیاں پہلے کششِ ثقل کے ابتدائی قوانین وضع کرنے والا سائنسدان “اسحق نیوٹن” فائز رہا تھا..

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہاکنگ نے بچپن سے ہی اپنا ہدف متعین کر لیا تھا، چودہ سال کی عمر میں اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک طبیعات دان بنے گا..

اور یہی ہوا..

ہاکنگ نے انکشاف کیا کہ سیاہ شگاف اپنی عظیم تر کشش کے با وجود حرارت کی ایک قسم خارج کرتے ہیں..

اپنی مسلسل دریافتوں سے جنہیں پہلے مسترد اور بعد میں حیرت کے ساتھ قبول کر لیا جاتا ہاکنگ نے کائناتی زمان ومکان میں سفر کے امکانات پر سائنسدانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کردیا، تاکہ کائنات کے ان ستاروں اور کہکشاؤں تک پہنچا جاسکے جہاں موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جانے کا تصور ہی محال ہے..

جہاں تک ریاضیاتی مساواتوں کی بات ہے تو وقت میں سفر اب بھی ممکن ہے، ساتھ ہی کائنات کے کسی حصے میں وقت کے الٹی سمت میں چلنے کے امکانات بھی موجود ہیں، یا ان ابعاد میں سے کسی بعد میں جنہیں آئن سٹائن اور دیگر سائنسدانوں نے دریافت کیا..

اب بھی ایسے خلائی عناصر کی تلاش جاری ہے جو وقت کے برعکس چلتے ہوں، لیبارٹریوں میں ایسے تجربات کیے جارہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پیچیدہ تر خاص حالات میں ایسا ہونا ممکن ہے..

سائنسدان مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں..

تاہم ان الفاظ کو جامۂ تحریر میں لانے تک سوال اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے..

کیا کبھی ٹائم مشین کا قصہ حقیقت کا روپ لے سکتا ہے؟!

کیا کبھی انسان زمان ومکان میں سفر کر کے ماضی یا مستقبلِ بعید کا سفر کر سکے گا؟!

کون جانتا ہے؟!

شاید!

یہ تحریر مکی کا بلاگ اور عربی وکیپیڈیا سے ترجمہ کی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s