ناممکنات کی طبعیات

ڈاکٹر میشیوکاکو

image

میں نے بطور طبعیات دان یہ سیکھا ہے کہ ناممکن ایک غیر جامع اصطلاح ہے۔
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہماری ایک استانی نے دیوار پر لگے ہوئے دنیاکے نقشے میں جنوبی امریکی اور افریقی ساحلی پٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں ساحلی پٹیاں باہم ایسی ٹھیک بیٹھتی ہیں کہ جیسے ایک پزل کا حصہ ہوں، کچھ سائنسدانوں کا یہ اندازہ ہے کہ شاید یہ دونوں کبھی ایک عظیم ترین براعظم کا حصہ تھے ، کیسی بیوقوفانہ بات ہے ، کوئی طاقت ایسی نہیں جو دوبراعظموں کو چیر کر الگ الگ کردے۔

کچھ عرصے بعد اسی سال ہم نے ڈائنوسارز کے بارے میں پڑھا، کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟؟ ہمارے استاد نے ہم سے سوال کیا، کہ ڈائنوسارز نے زمین پر دسیوں لاکھ سال حکمرانی کی اور ایک دن وہ تمام غائب ہوگئے؟؟ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ وہ تمام کیوں مارے گئے۔
کچھ ماہرینِ رکازیات {پالےآنٹولوجسٹ}سوچتے ہیں کہ شاید خلاء سے آنے والاکوئی شہاب ثاقب ان کی ہلاکت کا باعث بنا، لیکن یہ ناممکن ہے اور حقیقت کے بجائے تخیل ہے۔

آج ہمیں معلوم ہے کہ پلیٹ ٹیکٹانکس کے باعث براعظم درحقیقت کھسکتے ہیں، اور پینسٹھ ملین سال قبل ایک چھ میل طویل عظیم شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا تھا ، غالب امکان یہی ہے کہ اس کی وجہ سے ڈائنوسارز کا خاتمہ ہوا۔ میں نے خود اپنی زندگی میں بار بار ناممکنات کو تسلیم شدہ سائنسی حقیقت بنتے دیکھا ہےتو کیا پھر ایسا سوچنا غلط ہے کہ ایک دن ہم اپنے آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلی پورٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے، یا ہم ایسے خلائی جہاز بنا سکیں گے جو ہمیں کئی نوری سال دور ستاروں تک پہنچاسکیں؟۔

ایسے کام جو عمومی طور پر آج کے طبعیات دانوں کے نزدیک ناممکنات ہیں ، کیایہ ممکن ہے کہ چند صدیوں میں ان کا شمار ممکنات میں ہونے لگے؟یا دس ہزار سالوں میں جب ہماری ٹیکنالوجی مزید جدید ہوگی؟ اگر دوسرے الفاظ میں کہیں تو، اگر آج کسی طرح ہماری ملاقات اپنے سے دس لاکھ سال جدید تہذیب سے ہوجاتی ہے تو کیا ان کی روزمرہ کی ٹیکنالوجی ہمیں جادوئی لگے گی؟یہ وہ سوال ہے جو اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے۔محض اس لئے کہ آج ایک چیز ناممکن ہے، کیا وہ آنے والے سینکڑوں یا لاکھوں سالوں میں بھی ناممکن رہے گی؟

image

گزشتہ صدی کی سائنسی ترقی خصوصا نظریہ کوانٹم طبعیات اور نظریہ عمومی اضافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اب ممکن ہے کہ ہم ایک اندازہ لگا سکیں کہ کب، اگرممکن ہوا تو ،ایسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی حقیقت بن سکے گی۔اسٹرنگ تھیوری جیسے جدید تر نظریے کے آنے بعد تو سائنس اور تخیل کی سرحد پر موجود ، وقت میں سفر اور متوازی کائنات جیسے تصورات کو بھی طبعیات دانوں نے نئی نظر سے پرکھنا شروع کردیاہے۔ذرا ڈیڑھ سو سال قبل کا تصور کریں، ایسی ٹیکنالوجیکل ترقی جو اس وقت کے سائنسدانوں نے ناممکن قرار دی تھی آج کل ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔ اٹھارہ سو تریسٹھ میں یولیس ورنے کا ناول “بیسویں صدی کا پیرس” ناشر مقفل کرکے بھول گیا جو کہ بعد ازاں اس کے پڑپوتے کو انیس سو چورانوے میں ملا اور اس نے اسےشائع کیا۔ناول کا تخیلاتی پیرس انیس سے ساٹھ کی اصل پیرس سے مماثلت رکھتا تھا، اس ناول میں ایسی کئی ایجادات کا ذکر ہے جنہیں اس زمانے میں ناممکن تصور کیا جاتا تھاجن میں فیکس مشین، بین الاقوامی مواصلاتی نظام، شیشے کی بنی فلگ شگاف عمارتیں، ایدھن سے چلنے والی گاڑیاں اور تیز رفتار ریل گاڑیاں شامل ہیں ۔ ورنے کی یہ کامیاب پیشنگوئیاں کوئی حیران کن امر نہیں ہے، ورنے سائنس کو سمجھتا تھا اپنے دور کے سائنسدانوں سے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا،بنیادی سائنس کا یہ علم اس کے ان کامیاب پیشنگوئیوں کا سبب بنا۔

مایوسی کی بات یہ ہے کہ انیسویں صدی کے کچھ عظیم ترین سائنسدانوں نے مخالف رائے اختیار کی اورکئی ٹیکنالوجیز کو ناممکن قرار دیا۔ وکٹورین دور کے غالبا سب سے ممتاز طبعیات دان لارڈ کیل ون{ان کی آخری آرامگاہ ویسٹ منسٹر ایبی میں سرآئزک نیوٹن کے پہلو میں ہے}، نے ہوا سے بھاری تمام اختراعات {ہوائی جہاز وغیرہ ۔مترجم}کو ناممکن قرار دیا تھا، ان کے نزدیک ایکس رے ایک فریب جبکہ ریڈیو کا کوئی مستقبل نہ تھا۔ ایٹم کا نیوکلیئس دریافت کرنے والے لارڈ راتھرفورڈ نےنہ صرف ایٹم بم کی تیاری کو ناممکن قرار دیا تھابلکہ اس کے تیاری کے عمل کو کچی شراب کی تیاری کے مترادف قرار دیکر اسکامذاق بھی اڑایا تھا۔

انیسویں صدی کے کیمیاء دانوں نے پارس پتھر {ایک ایسی افسانوی شے جو سیسے کو سونے میں تبدیل کردے}کو سائنسی اصولوں کے خلاف قرار دیا تھا لیکن انیسویں صدی کی کیمیاء دانی عناصر کے بنیادی عدم تغیرکے اصول پرمبنی تھی، ہم اب آج کل کی ایٹم توڑ مشینیں استعمال کرکے نظری طور پر سیسے کے ایٹم کو سونے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ذرا سوچئے موجودہ زمانے کے ٹی وی، کمپیوٹر،اور انٹرنیٹ بیسویں صدی کے آغاز میں کیسے شاندار اور ناقابل یقین لگتے۔
ماضی قریب میں جھانکیں توبلیک ہولز کبھی سائنسی تخیل مانے جاتے تھے، خود آئن اسٹائن نے انیس سو انتالیس میں ایک مقالہ لکھتا تھا جس میں انہوں نے”ثابت “کیا تھا کہ بلیک ہولز کبھی نہیں بن سکتےمگر آج ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اورچندرا ایکس رے ٹیلی اسکوپ خلاء میں ہزاروں بلیک ہولز دریافت کرچکیں ہیں۔اس ٹیکنالوجیکل جدت کو ناممکنات سمجھنے کی اصل وجہ انیسویں صدی حتیٰ کہ بیسویں کے شروع میں طبعیات اور سائنس کے بنیادی اصولوں کے علم کا فقدان تھا، اگر اس ذمانے میں ہمارے سائنسی علم و فہم میں، خصوصا ایٹمی سطح پر موجود خلاء کو مدنظر رکھا جائےتو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیئے کہ ٹیکنالوجیکل جدت کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ناممکنات پرسنجیدگی سے تحقیق سائنسدانوں کو بارہا سائنس کی ایک بلکل غیر متوقع اور نئی شاخ تک لے گئی ہے، مثال کے طور پرصدیوں کی بے ثمر اور مایوس کن تلاش کے بعد طبعیات دان اس نتیجے پر پہنچے کہ “پرپیچول موشن مشین” {ایک ایسی مشین جوچلنے کے لئے جتنی توانائی استعمال کرے چلتے وقت اتنی ہی یا اس سے زائد توانائی پیدا بھی کرے، دوسرے الفاظ میں ایک بار حرکت میں آنے کے بعد ہمیشہ حرکت میں رہے۔ مترجم}
بنانا ناممکن ہےلیکن اس ناکامی سے سائنسدانوں نے قانون بقائے توانائی{کنزرویشن آف انرجی} اور حر حرکیات {تھرموڈائنامکس }کے تین قانون سیکھے چناچہ ایک بے ثمر تلاش نے سائنس کی بلکل نئی شاخ حرحرکیات کی بنیاد رکھی جس نے جزوی طور پر بھاپ کے انجن کی بنیاد فراہم کی اور وسیع تناظر میں مشینی دور اور جدید انڈسٹریل تہذیب کی بنیاد رکھی۔

image

انیسویں صدی کے آخر میں سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ ناممکن ہے کہ زمین کی عمر اربوں سال ہے، لارڈ کیل ون نے اعلان کیا کہ زمین کا پگھلی ہوئی حالت سے اسکے ٹھنڈے ہونے میں محض بیس سے چالیس ملین سال لگے ہوں گے یہ دعویٰ ماہرین ارضیات اور ڈاروینین ماہرین حیاتیات کہ دعوے کہ زمین کی عمر اربوں سال ہے سے متصادم تھا لیکن یہ ناممکن بھی بلاخر مادام کیوری و دیگر کی دریافت جوہری طاقت {نیوکلیئر فورس} کے منظر عام پر آتے ہیں ممکن ثابت ہوگیا، جوہری طاقت نے ثابت کیا کہ زمین کا مرکز کس طرح تابکاری {ریڈیو ایکٹیو ڈیکے }کے باعث اربوں سال تک گرم ایک پگھلاہوا رہ سکتا ہے۔
ہم ناممکن کو اپنے اندیشوں کی بناء پر نظر انداز کرتے ہیں۔1920 تا 1930 ، جدید راکٹ سائنس کے بانی رابرٹ گوڈارڈ شدید تنقید کی زد میں تھے ان لوگوں کی جانب سے جن کہ نزدیک راکٹ کبھی خلاء تک سفر نہیں کرسکتاتھا، وہ اس کے خواب کو طنزیہ گوڈراڈ کی حماقت کا نام دیتے تھے۔انیس سو اکیس میں نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر نے ڈاکٹر گوڈراڈ کے کام کو آڑے ہاتھو ں لیتے ہوئے لکھا کہ “پروفیسر گوڈراڈ غالبا عمل اور رد عمل کے درمیان رشتے سے ناواقف ہیں انہیں راکٹ کو خلاء سے بہتر کسی شے کی ضرورت ہوگی جس کہ خلاف وہ ردِعمل کرسکے انہیں شاید وہ بنیادی علم بھی نہیں جو آج کل ہائی اسکولوں میں بانٹی جارہا ہے”۔راکٹ کی پرواز ممکن ہیں نہیں ہے ، ایڈیٹر صاحب نے لکھا، کیوں خلاء میں ہوا موجود ہی نہیں جسے دھکیل کر راکٹ آگے بڑھ سکے۔بدقسمتی سے محض ایک سربراہ مملکت گوڈاراڈ کہ “ناممکن ” راکٹ کی حقیقت کو جان سکا اور وہ تھا ایڈولف ہٹلر، دوسری جنگ عظیم کے دوران جدید جرمن وی۔۲ راکٹ اپنے اندر موت اور تباہی لئے لندن پر برسے اور اسے تقریبا گھنٹوں پر جھکادیا۔

ناممکنات پر تحقیق ہماری دنیا کی تاریخ بھی بدل سکتی ہے، انیس سو تیس میں ذیادہ تر سائنسدان بشمول البرٹ آئن اسٹائن کے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایٹم بم بنانا ممکن نہیں ، طبعیات دان جانتے تھے کہ آئن اسٹائن کی مشہور ترین مساوت {توانائی ، کمیت مساوت }کے مطابق ایٹم کے نیوکلیئس میں ایک عظیم توانائی چھپی ہے لیکن محض ایک ایٹم حاصل ہونے والی حقیرتوانائی کسی طور کارگر نہ تھی لیکن ایٹمی طبعیات دان لیو سلارڈ کو 1914ء میں شائع ہونے والا ایچ جی ویلز کا ناول “دنیا کی آزادی” یاد تھا، جس میں ویلز نے ایٹم بم کی پیشین گوئی کی تھی ۔ایچ جی ویلز نے ناول میں لکھا تھا کہ ایٹم بم بنانے کا معمہ ایک طبعیات دان انیس سو تینتیس میں حل کرلے گا، حسن اتفاق دیکھئے سلارڈ کو یہ ناول 1932ء میں ملا جس نے اسکا حوصلہ بڑھایا،1933ء میں بلکل جیسا کہ ناول میں دو دھائی قبل پیشن گوئی کی گئی تھی سلارڈ نے ایک ایٹم سے بڑھ کر زنجیری تعامل کے ذریعے ارب ہا ایٹم کی تقسیم سے ایٹم بم کا راز پالیا۔ سلارڈ نے فوری ضروری تجربات شروع کردیئے اور آئن اسٹائن اور امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کے درمیان مذاکرات کروائے جو بعد ازاں مین ہیٹن پروجیکٹ اور ایٹم بم کی تیاری کا باعث بنے۔

بار بار ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ناممکن پر تحقیقات سائنس میں نئی راہیں کھولتی ہیں، کیمیاء اور طبعیات کی سرحدوں کو دھکیلتی ہیں اور سائنسدانوں کو مجبور کرتی ہیں کہ “ناممکن ” کی تعریف دوبارہ لکھیں۔

وہ جیسا کہ سر ولیم اوسلر نے ایک دفعہ کہا تھاکہ”ایک زمانے کی فلاسفی اگلے زمانےکی فضولیات بن جاتی ہیں اور گذرے کل کی بیوقوفیاں آنے والے کل کی حکمت کہلاتی ہیں”۔اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ کون سے ٹیکنا لوجیز ایسی ہیں جو آج تو ناممکن دکھائی دیتی ہیں، لیکن مستقبل میں کچھ دہائیوں یا صدیوں بعد روز مرہ زندگی کا حصہ ہونگی،کم از کم ایک ٹیکنا لوجی یعنی ٹیلی پورٹیشن جو کہ ناممکن سمجھی جارہی تھی آج حقیقت بن چکی ہے کم از کم ایٹموں کی حد تک تو۔

۔معروف نظری طبعیات دان میشیو کاکو کی کتاب “ناممکنات کی طبعیات”کے پیش لفظ سے اقباس

یہ تحریر غازی عثمان کے بلاگ سے لی گئی ہے

ڈاکٹر میشیوکاکو فیس بک پیج
یوٹیوب چینل بگ تهنک

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s