برمودا ٹرائی اینگل

برمودا ٹرائی اینگل کے معمہ کا حل

image

مثلث برمودا، بحر اوقیانوس میں واقع ایک مقام کو کہا جاتا ہے۔ اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں کہ جن کے باعث اسکو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے۔ ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی اور مافوق الفطرت (paranormal) واقعات شامل ہیں۔

ان ماوراء طبیعی داستانوں (یا واقعات) کی تفسیر کیلیۓ جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں بھی اکثر غیر معمولی اور مسلمہ سائنسی اصولوں سے ہٹ کر ایسی ہیں کہ جن کیلیۓ کم از کم موجودہ سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔

image

ان تفاسیر میں طبیعیات کے قوانین کا معلق و غیر موثر ہوجانا اور ان واقعات میں بیرون ارضی حیات (extraterrestrial life) کا ملوث ہونا جیسے خیالات اور تفکرات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان گمشدگی کے واقعات میں سے خاصے یا تقریباً تمام ہی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ ایک معمہ کی خصوصیت وابستہ ہو چکی ہے اور ان کو انسانی عمل دخل سے بالا پیش آنے والے حوادث کی حیثیت دی جاتی ہے۔

بہت سی دستاویزات ایسی ہیں کہ جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ برمودا ٹرائی اینگل کو تاریخی اعتبار سے ملاحوں کیلئے ایک اسطورہ یا افسانوی مقام کی سی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ مختلف مصنفین اور ناول نگاروں نے بھی اس مقام کے بیان کو الفاظ کے بامہارت انتخاب اور انداز و بیان کی آرائش و زیبائش سے مزید پراسرار بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

image

عوامی حلقوں میں مشہور قصے اپنی جگہ لیکن برمودا کے بارے میں بعض مفکرین کا خیال یہ ہے کہ اصل میں یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی فوجی اڈے اور کچھ امریکی فوجی اڈے تھے۔ لوگوں کو ان سے دور رکھنے کے لیے برمودا کی مثلث کے افسانے مشہور کیے گئے جن کو قصص یا فکشن (بطور خاص سائنسی قصص) لکھنے والوں نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ اب چونکہ اڈوں والا مسئلہ اتنا اہم نہیں رہا اس لیے عرصے سے سمندر کے اس حصے میں ہونے والے پراسرار واقعات بھی نہیں ہوئے۔ مواصلات کے اس جدید دور میں اب بھی کوئی ایسا علاقہ نہیں ملا جہاں قطب نما کی سوئی کام نہ کرتی ہو یا اس طرح کے واقعات ہوتے ہوں جو برمودا کی مثلث کے سلسلے میں بیان کیے جاتے ہیں۔

برمودہ ٹرائی اینگل، کا معمہ سایئنسی بنیادوں پہ حل ھو چکا ھے، بلکہ کئی معمے ایسے تھے ہی نہیں، مشہور زیادہ ھو گئے تھے۔ وہ ھوائی جہاز کہ جو پانی میں گر کو تباہ ھوئے تھے، انکو، انہی پانیوں کی گہرائیوں سے جا کر نکال لیا گیا ھے کہ جو خود اس بات کو رد کرتا ھے کہ برمودہ تکون کے پانیوں میں نہیں جایا جا سکتا۔

image

درآصل برمودہ مثلث کے بارے میں تب پتہ چلا کہ جب جنگ عظیم کو دوران ٹرینینگ پہ گیے ھوئی جہازوں کا ایک پورا فلیٹ غائب ھو گیا۔ اُس فلیٹ کے لیڈر کے جہاز کی جایئروسکوپ خراب ھو گئی اور وہ ھوائی اور بحری جہاز کی دنیا کا ایک سب سے خوفناک مسئلے کا شکار ھوا کہ جسے
پائلٹ ڈس اورینٹیشن
pilot Disorientation کہتے ہیں۔ اور اس دوران پائلٹ کا اپنے کنٹرول ٹاور سے مکمل رابطہ رھا، کہ جو اُس فلیٹ کو نیویگیٹ کرنے کی کوشش کرتے رھے۔ اور کنٹرول ٹاور میں بھی موجود افراد کو یہ اندازہ ھو رھا تھا کہ اگر یہ مسئلہ درپیش رھا تو فیول ختم ھونے کے بعد سب جہاز گر جایئں گے۔ پهر ھوا بھی یہی کنٹرول ٹاور اور جہازوں کے مابین ھونے والی آخری وقت تک کی گفتگو بھی موجود ھے۔ لہذا ایسا نہیں ھوا تھا، کہ یک دم چلتے جہاز کو کچھ ھوا تھا۔

دراصل وہ خطہ ایسا تھا کہ جب نیویگیشن کا مسئلہ آیا تو، جہاز میں بیٹھے ھوئے لوگ یہ سمجھ رھے تھے کہ وہ غلطی سے بحر الکاہل میں چلے گئے ہیں، جبکہ وہ بحر اوقیانوس میں ہی تین جزیروں کے بیچ میں گھومتے رھے۔ اور اسطرح کے مسائل کی وجہ کچھ واقعات پیش آئے۔ تو ایسا مشہور ھوا۔

image

جہاں تک بحری جہازوں کے ڈوبنے کا تعلق ھے تو وہ معمہ اسطرح کھلا کہ جب ایک آئل رِگ سمندر کی گہرائی میں موجود میتھین گیس کی لیکیج کی وجہ سے ڈوب گئی۔ اور اس وقت یہ اندازہ ھوا کہ کہ سمندر میں اگر گیس کا اخراج ھو جائے، تو وہ گیس اپنے اخراج کی جگہ سے لیکر سمندر سے باہر نکلنے تک پانی کو کافی حد تک اپنی جگہ سے ہٹا دیتی ھے، کہ جسکی وجہ سے اس جگہ پہ موجود پانی اور گیس کا ایک ایسا میکسچر بنتا ھے کہ وھاں بایئوسنی خطرناک حد تک کم ھو جاتی ھے کہ جس میں بحری جہاز تو کیا ایک آئل رگ بھی ڈوب جائے۔ اور یہی اس خطے میں ھوا تھا۔

مگر جنگ عظیم کے زمانے میں جنگوں کے دوراں ھونے والے ایسے واقعات کہ جنکی گہرائی تک عوام کی رسائی نہ تھی، تو انکو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مثلا نیواڈا کے علاقے میں فضائی اور ھوائی تجربات کی وجہ سے لوگوں نے یو۔ایف۔او کی تھیوری تشکیل دی اور یہ کہا کہ کوئی غیر زمینی مخلوق زمین پر آتی ھے۔ مگر جب کئی عرصے بعد امریکہ کی ایئر فورس نے خود اس حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ اسی طرح جنگ عظیم کے دوران کئی واقعات منظر عام پہ نہیں آسکے اور مختلف ازہان نے اپنی اپنی تھیوریاں بنائی۔

مافوق الفطرت صورتحال پہ یقین کرنے والوں نے اپنی تهیوری بنائی، اور سائنسی اذہان نے کچھ مستند سامنے آنے تک اپنے وثوق کو موخر کیا۔

مگر یہ معمہ اب حل شدہ ھے، کیونکہ انہی سمندروں پہ جہاز چلتے ہیں، انہی فضاؤں میں جہاز اڑتے ہیں، اور انہی پانیوں کی گہرائیوں میں لوگ جاتے ہیں، وہی جہاز ڈھونڈھ کر لاتے ہیں، کہ جنہیں کسی مافوق الفطرت واقعہ کے کھاتے میں ڈال کر ڈوبنے کا بتایا جاتا ھے کہ وہ ایسے جگہ ڈوبے کہ جہاں کوئی نہیں جا سکتا..!!

یہ تحریر سید فواد بخاری اور اردو وکیپیڈیا سے لی گئی

اسی موضوع پر یو ٹیوب پہ ایک معلوماتی ویڈیو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s