اخلاقیات

جانوروں میں اخلاقیات

image

”اخلاقیات ” کی تعریف مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے پر سب لوگ تصدیق کریں گے کہ ”جزبہ خیر سگالی، ہمدردی اور تعاون” کے ستونوں کے بغیر اخلاقیات کی عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی ، جانوروں کے باہمی روابط سے ہمارے ذہن میں ”مقابلہ ، جارحیت اور طاقت ” کا تصور ابھرتا ہے پر یہ تصور بالکل درست نہیں ،
ولندیزی امریکی سائنسدان پروفیسر فرانس دی وال کئی دہائیوں سے جانوروں میں اخلاقیات پر تحقیق کر رہے ہیں ، آپ کا خصوصی موضوع ذہانت و جینیاتی حوالے سے انسان سے قریب ترین جاندار یعنی چمپنزی بندر ہیں ، آپ کی تجربات نے بڑے دلچسپ نتائج دکھائے ہیں ،

— ایک بھاری باکس پر خوراک رکھ کر پنجرے میں قید دو چمپنزیز کو اسے رسی کے ذریے کھینچ کر قریب لانے کا موقع دیا گیا ، دونوں چمپنزیز نے ہم وقت سازی کر کے رسی کو کھینچا اور باکس کے قریب آنے پر صرف اپنے اپنے حصے کی خوراک اٹھائی (تعاون و انصاف ). پر اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اسی تجربے میں ایک چمپنزی کو پہلے سے کھانا دے دیا گیا تو اس نے اپنے حصے کی خوراک بھی بھوکے کو اٹھانے دی (تعاون و خیر سگالی ).

image

— ایک دوسرے تجربے میں پنجرے میں قید چمپنزی کو دو رنگ کے ٹوکن دیے گیے ، اگر وہ سرخ ٹوکن اٹھاتا تو خوراک صرف اسی کو دی جاتی ، اگر وہ سبز ٹوکن اٹھاتا تو اسکے علاوہ اس کے ساتھ والے پنجرے میں بند چمپنزی کو بھی خوراک دی جاتی ، اب بظاھر اس چمپنزی کو ٹوکن کے رنگ سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسے دونوں صورتوں میں خوراک مل رہی تھی ، پر جوں ہی اسے احساس ہوا کہ ٹوکن کے رنگ کا ساتھ والے چمپنزی سے تعلق ہے اس نے صرف سبز ٹوکن اٹھانے شروع کر دیے (ہمدردی و فلاح )

— مزید تجربات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ چمپنزی دوسروں کیلیے برابری و انصاف کی بھی توقع رکھتے ہیں اور لڑائی کے بعد آپس میں پھر سے دوستی بھی کر لیتے ہیں ، اس سے ملتا جلتا مشاہدہ دوسرے جانداروں بشمول ہاتھ ، کتا اور پرندوں میں بھی کیا جا چکا ہے ،

image

یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے متوازی دوسرے جانداروں میں جسمانی و ذہنی ارتقا کے ساتھ ساتھ اخلاقی ارتقا بھی ہوا ہے . ان تجربات سے اخلاقیات پر انسان کی اجارہ داری پر بھی سوال آتے ہیں ،

جانور بھی اپنے ساتھ والے جانوروں کا اسی طرح خیال رکھتے نظر اتے ہیں جیسے کہ ایک انسان دوسرے انسان کا خیال رکھتا ہے

image

انسانوں کے روئیے سو بیلین نیورونز کے ایک کملیکس رویّے کا نتیجہ ھے اور وہ رویہ کائنات کے ایک بڑے نان لینیئر ڈائینیک سیسٹم Non-Linear Dynamic System کا حصہ ہیں، تو ایسے میں اخلاقیات ایک نان لینیئر ڈائینیمک سیسٹم کا ٹرانسیئٹ ریسپونس Transient Response ہیں۔ انجنیئرنگ میں ایک سبجیکٹ ہےاوس تھیوری Chaos Theory یعنی کے ایسے ڈٹرمنیسٹیک Deterministic نان لینیئر ڈائینیمیک سیسٹم کے جو انیشیئل کنڈیشن Initial Conditions پہ بہت زیادہ انحصار کرتا ھو۔

لہذا ایسے میں اخلاقیات کی مطلقیت، آفاقیت، فطرت کی حقیقت کا وجود ایک امر محال ھے۔ اور اگر اس بات کا مقدمہ لڑا گیا، یعنی کہ کوئی آفاقی یا مطلق اخلاقیات ہیں، تو، یہ ذہن میں رکھیئے گا، پھر درحقیقت ایک آفاقی اور مطلق معیار کا مقدمہ لڑنے کی کوشش ھو گی۔ جو کہ پھر خود ایک مطلق العنانیت کے مظاہر والے مطلق العنان کے طے شدہ معیار کا ہی استدلال بنے گا۔

میں ہر روز کئی آرٹیفیشل نیورل نیٹ ورک بناتا ھوں، ان پہ سیمولیشن چلاتا ھوں، اور ریسرچ ، کمپلیکس نیٹورک، کے شعور کے امکانات کی پریڈیکشن کر رھی ھے، تو ایسے میں اگر میرے بنائے ھوئے آرٹیفشل نیورل نیٹورک کوئی اضافی Relative قسم کا شعور بنا کہ کچھ ڈائینیمک رویہ اختیار کرے کہ جسکو وہ اپنے اینفارمیشن فلو Information flow میں اسے اخلاق کا نام دے ،تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کیونکہ اول تو یہ سارا ریسپونس ڈٹرمینیسٹک ھے میری نظر میں، کیونکہ وہ آرٹیفیشل نیورونز میرے بنائے ھوے ہیں، اور میں نے ہی انہیں پراگرام کیا ھے کہ کیسے ٹرین Train ھونا ھے اور کیا ڈائینیمیک رویہ دکھانا ھے۔ اور دوئم بطور ان نیورل نیٹورک کے خالق، اخلاق کا وہ معیار ھے جو میں طے کرتا ھوں، کہ جسکا ان نیورل نیٹورک کو شاید پتہ بھی نہ ھو اور اسکا شعور بھی نہ ھو۔ یہ بهی ھو سکتا ھے کہ جو میں نے سوچا ھے وہ اگر میرے بنائے ھوئے نیورول نیٹورک کو انکے شعور کے مطابق پتہ چل جائے، تو انکے پیروں تلے سے زمین نکل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فطرت میں موجود مثالوں میں ایک رویہ نظر آنا دراصل اس بات کا ثبوت ھے کہ شاید پیچھے سے سب کا ایک رشتہ ھے، مگر اخلاقیات بذات خود کیا ہیں اور اگر انکی کوئی حقیقت ھے اور اگر حقیقت ھے تو کیا وہ مطلق ہیں، اسکا اثبات ایک امر محال ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخلاقیات کا ماخذ وجودیت ھے، اور وجودیت کا ماخذ (مادہ اور اس مادہ سے مبرا) کسی وجود کا ارادہ اور عمل ھے۔ لہذا مادی نگاہ سے دیکھیں تو جب ایک اخلاقی زمہ داری ،اخلاقی آزادی اور اخلاقی آفاقیت کی بات ھوتی ھے، تو جو جو استدلال وجودیت کی مد میں دئے جایئں گی وہ وہی استدلال ھو گا کہ جو مذہب کے نقطہ نگاہ کا بھی استدلال بنے گا۔

اور اگر خالص مادہ سے اخلاقیات کی بات کرنی ھے، تب اخلاقیات کا وجود نہیں ھے۔ اور جو جو کچھ کر رھا ھے وہ دراصل ایک نان لینیئر ڈائینیمک سیسٹم میں ایک ڈائینیمک رویہ ھے۔ اس میں کوئی ظالم نہیں، اور کوئی محسن نہیں ھوتا۔ کوئی برا نہیں ھوتا اور کچھ اچھا نہیں ھوتا۔

اخلاق کا مسئلہ انسانی تعلقات کا مسئلہ ہے. انسانی تعلقات اور باہمی تعامل کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں لیکن یہ ساری صورتیں اخلاقی اقدار کی نہیں. یہاں یہ سوال ہوگا کہ پھر ہمارے عمل کی وہ کون سی صورتیں ہیں جو اخلاقی قدر کی حامل قرار دی جائیں گی؟ اس کا سادہ ترین جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے، ہماری بہت سی احتیاجات ہیں جن میں سے ایک سماجی احتیاج بھی ہے جو دوسروں کے باہمی وجود سے پوری ہوتی ہے. اب اس احتیاج کی ایک صورت کی تکمیل مختلف طریقوں سے ہو سکتی ہے لیکن اس کی ایک ہی صورت اخلاق کے زمرے میں آۓ گی اور وہ یہ ہے کہ اس مخصوص احتیاج کی تکمیل ایک ایسے اصول کی روشنی میں ہو جو بلا استشنا ایک کلی قانون بن سکے جس کا اثر و نفوذ ہر فرد بشر پر اور ہر زمان و مکان میں ہو سکتا ہے. اب اس ضمن میں مزید سوال اٹھاۓ جا سکتے ہیں;
کیا ایسا اصول دریافت کیا جا سکتا ہے؟
یہ اصول ہماری عقلی کاوشوں کا نتیجہ ہوگا یا وجدان کا؟ یا معاشرہ اس کا تعین کرے گا؟
اچھائی اور خیر کیا ہے؟
صائب کسے کہتے ہیں؟
کیا ہم اس باب میں آزاد ہیں کے جس اصول پر عمل کرنا چاہیں کر سکیں؟
سماجی احتیاج کی تکمیل میں دوسروں کی کوشش سے میرے اعمال متصادم تو نہیں ہونگے! (یہاں فرد و معاشرے کے ربط کا مسئلہ اٹھے گا.
اگر دو افراد کے اعمال متصادم ہوں تو کس کو دوسرے پر مقدم سمجھا جاۓ گا. (یہاں عدل اور انصاف کا سوال اٹھے گا)

image

آپ لوگوں کی دلچسپی کے لئے اسی موضوع پر ایک اچھی فلم
یو ٹیوب کی ویڈیو کا لنک
اسی موضوع پر انگلش میں ایک مقالہ

یہ تحریر عظمی گل ، سید فواد بخاری اور ایان شاہ کی کاوش ہے.. بشکریہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s